جناح ہاؤس پر حملے کی تفتیش مکمل، ’عمران خان قصوروار پائے گئے‘
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس سمیت جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے پانچ مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔
جمعے کو تحریک انصاف کے چیئرمین کی پانچ مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس نے عمران خان سے تفتیش مکمل کر لی ہے۔
سپیشل پراسکیوٹر فرہاد علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی تفتیش میں قصور وار پائے گئے ہیں۔
ڈیوٹی جج نے عبوری ضمانتوں میں 8 اگست تک توسیع کرتے ہوئے وکلاء سے اگلی سماعت پر دلائل طلب کیے ہیں۔
عمران خان کے خلاف لاہور کے تھانہ سرور روڈ، گلبرگ اور شادمان سمیت دیگر پولیس سٹیشنز میں مقدمات درج ہیں۔
پنجاب کے نگراں وزیر اعلٰی محسن نقوی نے کہا تھا کہ لاہور میں نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے واقعات کے 138 مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں 500 سے زائد خواتین بھی مطلوب تھیں۔
جبکہ وزیر داخلہ رانا ثناللہ کے مطابق مجموعی طور پر 499 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت تین ہزار 944 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔
نذرِآتش کی گئی املاک میں لاہور کا جناح ہاؤس (کور کمانڈر کا گھر)، پشاور کے ریڈیو پاکستان کی عمارت اور راولپنڈی میں میٹرو بس کے دو سٹیشن شامل ہیں۔

