آپ مجھے جانتے نہیں: جج کا پی ٹی آئی کے وکیل کو جواب
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج سائفر کیس میں ڈیوٹی جج ضمانت کی درخواست سن سکتا ہے یا نہیں؟ ڈیوٹی جج راجہ جواد عباس نے وفاقی تفتیشی ایجنسی (ایف آئی اے) کے پراسیکیوٹرز سے دلائل طلب کر لیے ہیں۔
پیر کو مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ جج عدم پیروی پر ضمانت مسترد کرسکتا ہے تو اب ڈیوٹی جج ضمانت کی درخواست کیوں نہیں سن سکتے۔
جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ نوٹیفکیشن ہوتا کہ جج کی رخصت کے باعث ڈیوٹی جج سن سکتا ہے تو پھر سن لیتے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ لکھ دیں کہ آپ یہ کیس نہیں سن سکتے۔
جج نے کہا کہ یہ انسداد دہشت گردی عدالت کا معاملہ نہیں، یہ کیس آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت چل رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ بطور ڈیوٹی جج آپ درخواست سن سکتے ہیں، آپ اگر کہیں کہ میرا اختیار نہیں، میں مجبور ہوں تو ہم ہائی کورٹ چلے جائیں گے۔
جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ آپ مجھے جانتے نہیں ہیں ورنہ لفظ مجبور نہ استعمال کرتے کیونکہ میں کوئی مجبور نہیں۔
چند دن پہلے عمران خان کی ضمانت کی 6 درخواستیں ڈیوٹی جج نے سن کر خارج کی ہیں آج سائفر کیس میں ضمانت کی درخواستیں ڈیوٹی جج سنیں گے یا نہیں ؟ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرز کے دلائل کے بعد آج فیصلہ ہو گا۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت سات ستمبر تک ملتوی کر دی گئی جبکہ ڈیوٹی جج کے پاس دائر نئی درخواست ضمانت پر سماعت ہونے نہ ہونے کا فیصلہ سماعت کے بعد جج راجہ جواد عباس کریں گے۔

