پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججوں کو 32 کروڑ بلاسود قرض نہ دیا جائے: وکلا تنظیم

ستمبر 8, 2023

لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججوں کو 32 کروڑ بلاسود قرض نہ دیا جائے: وکلا تنظیم

پاکستان بار کونسل نے پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے 11 فاضل ججوں کو ذاتی مقاصد کے لیے بغیر سود کے قرض کے طور پر خطیر رقم دینے کی منظوری کے مبینہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ،حسن رضا پاشا نے جمعہ کے روز جاری ایک مشترکہ بیان میں مبینہ اس اقدام کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے ، خاص طور پر ملک کی موجودہ بدترین معاشی حالت میں،سرکاری خزانے کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ججوں کے لیے عوامی وسائل سے قرضے کی منظوری کا یہ عمل نہ تو جائز ہے اور نہ ہی قابل قبول ہے، جبکہ عوام الناس پہلے ہی افراط زر سے بری طرح متاثر ہیں، اور ان کی معاشی حالت پہلے سے ہی ابتر ہے اور انہیں مہنگائی کا سامنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام اور یہاں تک کہ غریبوں سے بھی قرضوں پر 20 سے 25 فیصد سود وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ایک جج جو پرکشش تنخواہوں کا پیکج اور دیگر مراعات سے بھی لطف اندوز ہو رہا ہے، اسے بلا سود قرضہ دینا بذات خود ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ، امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لاہور ہائی کورٹ کے ججوں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس غیر اخلاقی اور بلا جواز قرض کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہاہے کہ پاکستان بار کونسل کے انتظام 05 ستمبر 2023 کو آل پاکستان لائرز نمائندہ کانفرنس نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ججوں سمیت تمام مراعات یافتہ طبقے کو پہلے سے موجود تمام مراعات فوری طور پر بند کی جائیں۔

انہوں نے حکومت پنجاب سے اس مبینہ نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے