عمران خان پر منشیات کا کیس بنانا رہ گیا ہے، عدالت میں قہقہے
سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر دلائل میں اُن کے وکیل وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا ذکر مقدمے میں ہے، کیا اعظم خان عدالت ہیں؟ کیا اعظم خان کی ضمانت منظور ہوئی؟
وکیل کے مطابق پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ سائفر کا اصلی اور نقلی ورژن کیا تھا۔
وکیل سلمان صفدر کے مطابق پراسیکیوشن نے ثابت کرناہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی سےقومی سلامتی کو کیا نقصان ہوا۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ الزام لگایا گیاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر سائفر کو اپنی تحویل میں رکھا
وکیل سلمان صفدر کے مطابق کیس ہے کہ سائفر غلط رکھا اور غلط استعمال کیا، ثابت کرنا پراسیکیوشن کا کام ہے۔
سلمان صفدرنے کہا کہ پراسیکیوشن کو ثابت کرناہے کہ سایفرکیس سے بیرون ملک طاقتیں مضبوط ہوئیں.
وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ سایفرکیس سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت درج ہوا، کمرہ عدالت میں موجود کوئی بھی 1923 میں پیدا نہیں ہوا ہوگا.
سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے بتایا کہ ان کے والد صاحب 1923 میں پیدا ہوئے تھے.
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جو توشہ خانہ کیس کی کڑکی میں پھنس گئے ہیں انہیں پراسیکیوشن اندر رکھنا چاہتی ہے،ڈیڑھ سال سائفرکیس کی تحقیقات جاری رہیں، مقدمہ تب بنایا جب چیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں گرفتارہوئے.
وکیل نے کہا کہ سایفرکیس سیاسی انتقام لینے کے لیے بنایاگیاہے، ذمہ دار وزیراعظم رہے،عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ ہیں،چیرمین پی ٹی آئی نے 71 برس کی عمر میں جرم کی دنیا میں قدم رکھا.
وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر انسدادِ منشیات کے جج نے بطور ایڈمنسٹریٹیو جج سماعت کی،ایڈمنسٹریٹیو جج نے کہا یہ تو انسدادِ منشیات کی عدالت ہے.
میں نے کہا چیرمین پی ٹی آئی پر صرف منشیات کا کیس بنانا ہی رہ گیا ہے۔ وکیل سلمان صفدر کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اُٹھے۔
دوسری طرف عدالت نے اسد عمر کی سائفر کیس میں ضمانت منظور کر لی.
جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ایف آئی اے کے وکیل سے کہا کہ چلیں پھر آڈر لکھوا دیتا ہیں۔
آڈر کے دوران سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے اعتراض کیا تو وکیل بابر اعوان نے کہا کہ آڈر لکھواتے وقت کوئی عدالت کو ڈیکٹیٹ نہیں کر سکتا۔

