پاکستان

متنازع ٹویٹس، اسلام آباد میں تحریک انصاف کا حامی صحافی گرفتار

ستمبر 22, 2023

متنازع ٹویٹس، اسلام آباد میں تحریک انصاف کا حامی صحافی گرفتار

اسلام آباد میں پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے تحریک انصاف کے حامی ایک مقامی صحافی خالد جمیل کو حراست میں لیا ہے۔

جمعے کی صبح گرفتار صحافی خالد جمیل کو ایف آئی اے کے اہلکاروں نے مقامی عدالت میں پیش کیا۔

مجسٹریٹ شبیر بھٹی نے خالد جمیل کو تفتیش کے لیے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

خالد جمیل اوصاف گروپ کے پاکستانی نیوز چینل اے بی این سے وابستہ ہیں۔

جمعرات کی شب دیر گئے ایف آئی اے کی جانب سے خالد جمیل کی ایک تصویر جاری کی گئی جس کے مطابق صحافی اُن کی تحویل میں ہیں۔

خالد جمیل پر پیکا قانون کے سیکشن 20 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

صحافی کے خلاف مقدمہ 20 ستمبر کو درج کیا گیا تھا جس میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کا سیکشن 20 لگایا گیا ہے۔

اس سے قبل اے بی این نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خالد جمیل کے اہلخانہ نے کہا کہ ’گھر میں 15 سے 20 لوگ گھسے اور اُن کو ساتھ لے گئے۔‘

پاکستان میں صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں نے خالد جمیل کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ پیکا قانون سنہ 2022 کے جنوری میں عمران خان حکومت نے بنایا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ میں شامل وزیر قانون فروغ نسیم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’پیکا آرڈیننس کے تحت جعلی یا جھوٹی خبر دینے والے کی ضمانت نہیں ہو گی اور کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ ’جعلی خبروں کا قلع قمع کرنے کے لیے قانون بڑا ضرروی ہے، اس لیے اب فیک نیوز پھیلانے والوں کو تین سال کی جگہ پانچ سال سزا ہو گی۔‘

فروغ نسیم نے کہا تھا کہ ’یہ جرم قابل ضمانت نہیں ہو گا اور اس میں بغیر وارنٹ گرفتاری ممکن ہو گی۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے