پاکستان

ملک میں یہ مذاق 70 سال سے جاری ہے: سپریم کورٹ

اکتوبر 5, 2023

ملک میں یہ مذاق 70 سال سے جاری ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پنجاب کے سابق وزیراعلٰی پرویز الہی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس طارق مسعود نے کہا ہے کہ ماتحت عدالتوں کا ملزم کو کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کس قانون کے تحت ہے؟

‏ وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ پرویز الہی کو ایک کیس میں ضمانت ہوتی ہے دوسرے میں پکڑ لیتے ہیں۔

جسٹس سردار طارق نے پوچھا کہ ملزم کو کسی دوسرے کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ فیصلہ کس قانون کے تحت ہے۔
‏اسلام آباد میں بھی عدالت نے اس قسم کا آرڈر جاری کیا۔

جسٹس سردار طارق مسعود کے مطابق کیا عدالتیں ملزم کو جرم کرنے کا لائسنس دے رہی ہے، ججز نے بھی قانون کے تحفظ اٹھایا ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود کے مطابق کیسے یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ اب ملزم کی گرفتاری عدالت کی اجازت سے ہوگی۔

جسٹس سردار طارق کا کہنا تھا کہ وہ ملزم ضمانت پر رہا ہو کر دو بندے قتل کردے پولیس کچھ نہ کرے۔پولیس کیا ملزم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر پہلے عدالتی اجازت لے پھر گرفتار کرے۔

وکیل نے کہا کہ یہ بھی مذاق ہے کہ ضمانت کے بعددوسرے کیس میں پھر گرفتار کر لیتے ہیں۔

‏ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ یہ مذاق تو ستر سے ہو رہا ہے۔ آپ قانون کا بتائیں قانون کیا کہتا ہے۔

پرویز الہی ضمانت کیس میں دلائل کے دوران وکیل لطیف کھوسہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا کہ اُن کے موکل پرویز الہی کو لاہور میں دن کے وقت بغیر کپڑے پہنے اہلکاروں نے پکڑ لیا۔

‏جسٹس طارق مسعود نے پوچھا کہ کھوسہ صاحب کیا گرفتار کرنے والے دن کے وقت بغیر کپڑوں کے پرویز الہی کو گرفتار کرکے لے گئے۔

وکیل نے بتایا کہ اُن کا مطلب ہے کہ بغیر یونیفارم والوں نے گرفتار کیا۔ ہمارے ساتھ وہ ہو رہا ہے جیسے کشمیر میں ہوتا ہے۔

‏ جسٹس سردار طارق مسعود نے وکیل کو روکتے ہوئے کہا کشمیر کی بات نہ کریں،
‏کشمیر میں بھارتی فوج قابض ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے