پاکستان

سپریم کورٹ: چیف جسٹس قاضی فائز اور جسٹس منیب اختر کی چپقلش براہ راست

اکتوبر 10, 2023

سپریم کورٹ: چیف جسٹس قاضی فائز اور جسٹس منیب اختر کی چپقلش براہ راست

پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے 15 ججز کی رائے منقسم ہے۔

منگل کو سماعت کے آغاز پر ہی جب ججز نے سوالات شروع کیے تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا میں تمام ججز سے درخواست کروں گا کہ وکلا کو اپنے دلائل دینے دیں، پھر ججز کے سوالات پر وکلا جواب دیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا انھیں دلائل کے لیے ایک گھنٹہ درکار ہے، مگر آدھا گھنٹہ سوالات میں لگ جائے گا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا آپ ججز کو بھی ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اپنا کام کرتے تو پارلیمنٹ کو ایسی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی، ہر ادارے کو اپنی خود احتسابی خود کرنا ہوگی اور خود احتسابی نہ کی گئی تو پھر کوئی اور آکر خود احتسابی کرے گا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے ماضی میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184کی شق تین کے بے جا استعمال سے پورے ملک کی بنیادیں ہلا دیں۔ آئین 1973 میں بنا رولز 1989 میں بنے، کیا نہیں سمجھتے کہ بہتری کی ضرورت ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ایک موقع پر سوال کرنا چاہا تو چیف جسٹس نے کہا ہم فل کورٹ اس کیس کو سن رہے ہیں، اگر ہم نے ایک کیس کو سننے میں ایک سال لگا دیا تو کیا یہ ہماری کارکردگی ہوگی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا بطور جج سوال کرنا میرا حق ہے، میرے سوال میں خلل نہ ڈالا جائے۔

چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا خلل تو آپ ڈال رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے وکیل فیصل صدیقی نے جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک کے فیصلوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا دونوں معزز جج صاحبان ہائیکورٹ جج کے طور پر انٹر کورٹ اپیل تخلیق کرنے کی پارلیمانی قانون سازی کو درست قرار دے چکے ہیں، پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کر سکتی ہے جس میں عدلیہ کے اختیارات کو بڑھایا جائے۔

چیف جسٹس نے سوال پوچھا کہ کیا رولز بنانے کا اختیار صرف چیف جسٹس کو ہی حاصل ہے، چار سال پہلے فل کورٹ کورٹ میٹنگ ہوئی تھی۔

وکیل فیصل صدیقی سے چیف جسٹس نے ایک سوال پوچھا تو اسی دوران جسٹس منیب اختر نے بھی سوال پوچھ لیا۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے مسکراتے ہوئے جسٹس منیب اختر کی طرف دیکھا اور کہا سر آپ کی اجازت سے جواب دیتا ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا جی پلیز تو چیف جسٹس نے مسکرا کر کہا کہ آپ نے مجھ سے اجازت نہیں لی، یہ تو آپ کا دہرا معیار ہے، میں نے سب سے کم سوالا ت کیے، کم از کم ماسٹر آف دی روسٹر کے سوال کا جواب تو دے دیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس کو ماسٹر آف روسٹر (بینچز کی تشکیل کا اختیار) کا خطاب جسٹس منیب اختر اپنے ایک حالیہ فیصلے میں دیا ہے اس طرح یہ اُن پر طنز تھا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا پہلے چیف جسٹس کے سوال کا جواب دے دیں۔

چیف جسٹس نے کہا ہمیں اپنا ویژن کھلا رکھنا چاہیے، اگر میں فل کورٹ میٹنگ نہ بلاؤں تو کیا میرے خلاف رٹ پٹیشن دائر ہو سکتی ہے،چودہ ججز فل کورٹ میٹنگ بلانا چاہیں اور میں نہ چاہوں تو کیا ہوگا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا چیف جسٹس نے آئین کے تحت حلف اٹھا رکھا ہوتا ہے کیا منصف اعلیٰ رولز کے پابند ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے جب ایک موقع پر امریکی سپریم کورٹ کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے امریکی سپریم کورٹ میں سالانہ 120 مقدمات کو سن کر فیصلے کیے جاتے ہیں، ہماری طرح ہر کیس سپریم کورٹ نہیں آتا، امریکی سپریم کورٹ میں ہماری طرح چھپن ہزار سے زائد مقدمات زیر التو ا نہیں ہیں،سیب کا موازنہ مالٹے کے بجائے سیب سے کریں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیا ایسی ٹیم کو کبھی جیتتے ہوئے دیکھا جس میں تین کپتان ہوں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا میں بھی کھلاڑی رہا ہوں، ٹیم میں کپتان اور نائب کپتان دونوں ہوتے ہیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ٹیم میں کپتان ایک ہی اچھا لگتا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا فل کورٹ کیس سن رہی رہے تو اپیل کون سنے گا۔وکیل ایم کیو ایم نے جواب دیا چاہے 50 ججز ہی مقدمہ کیوں نہ سنیں، فل کورٹ کے فیصلے پر اپیل نہیں سنی جاسکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کوئی قانون محض اس وجہ سے کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا کہ فل کورٹ کے فیصلے پر اپیل کا حق نہیں ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل میں کہا ماضی کی طرح کے فیصلے نہیں ہونے چاہییں جن میں فوجی آمروں کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی گئی، نسیم حسن شاہ نے خود تسلیم کیا ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ غلط تھا،آئین و قانو ن کے تحت فیصلے دیئے جائیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کا خیال رکھنا صرف پارلیمان کی زمہ داری نہیں یہ زمہ داری عدلیہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

کیس کی سماعت بدھ کو ساڑھے گیارہ بجے دوبارہ ہوگی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے