لاہور میں خاتون اور کمسن بیٹی حوالات میں، مقدمہ کیا ہے؟
لاہور میں پولیس نے ڈھائی برس پرانے مقدمے میں خاتون کو نابالغ بچی سمیت گرفتار کر کے حوالات میں بند کیا ہے۔
عارفہ نامی خاتون کو لاہور کے ایک وکیل تیمور طاہر کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے کے پرانے کیس میں انویسٹی گیشن پولیس نے گرفتار کیا۔
وکیل طاہر تیمور کے مطابق خاتون عارفہ اور اُن کے بھائی نعمان نے ایک کیس کی پیروی چھوڑنے کے لیے جعلی فوجی افسر بن کر دھمکیاں دی تھیں۔
خاتون عارفہ گزشتہ ڈھائی سال سے اشتہاری تھیں جن کو اس کی نابالغ بچی سمیت گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔
خاتون کے خلاف تھانہ وحدت روڈ میں مقدمہ فروری 2021 میں درج ہوا تھا۔
مقدمہ خاتون اور ایک شخص پر دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج ہوا تھا۔
ویمن پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506 بی کے تحت درج مقدمے میں خاتون کو گرفتار کر کے بچی سمیت حوالات میں بند کیا۔
وکیل طاہر تیمور نے پولیس کو بتایا تھا کہ اُن کو ایک کلائنٹ کے مقدمے سے الگ ہونے کے لیے نعمان نامی شخص نے جعلی بریگیڈیئر کا پرسنل سیکریٹری بن کر دھمکیاں دیں اور بعد ازاں گھر کے باہر آ کر پستول دکھائی اور ہراساں کیا۔
وکیل کے مطابق جس وقت گن پوائنٹ پر گھر کے باہر آ کر نعمان نامی شخص نے دھمکی دی اُن کے ساتھ گاڑی کی پچھلی نشست پر اُن کی بہن عارفہ موجود تھیں۔

