اہم خبریں متفرق خبریں

بھٹو صدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ کن سوالات کا جواب دے گی؟

دسمبر 12, 2023

بھٹو صدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ کن سوالات کا جواب دے گی؟

سپریم کورٹ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس فیصلے پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل 1979 کو دی جانے والی پھانسی کے خلاف سال 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں بھٹو کے ٹرائل اور پھانسی پر نظرثانی کے حوالے سے عدالت سے رائے طلب کی گئی تھی۔

صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی کہ وہ جائزہ لے کہ کیا بھٹو کی سزائے موت کا مقدمہ آئین میں دیے گیے بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تھا؟

کیا بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ عدالتی نظیر کے تحت لاگو ہو سکتا ہے؟

کیا سزائے موت کا یہ فیصلہ منصفانہ اور جانبدارانہ نہیں تھا؟

کیا یہ سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے اور کیا اس مقدمے میں پیش کیے گیے ثبوت اور گواہان کے بیانات بھٹو کو سزائے موت دینے کے لیے کافی تھے؟

جب یہ صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا اس وقت افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے جن کی سربراہی میں ایک لارجر بینچ نے اس کی چھ ابتدائی سماعتیں کیں۔

تاہم 12 نومبر 2012 کو اس ریفرنس کی چھٹی اور اب تک کی آخری سماعت کے بعد یہ مقدمہ پھرعدالت میں نہیں لگا اور اب 11 سال بعد چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں منگل کواس کو ایک مرتبہ پھر سنا جائے گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری نے سماعت کو قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کی وساطت سے دائر کی جانے والی درخواست میں بلاول بھٹو نے بیان کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسہ ہونے کے ناطے انہوں نے انصاف کے لیے درخواست کی ہے۔
’ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کیلئے کردار ادا کیا، ان کا قتل نظام انصاف پر دھبہ ہے۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عوام کے سامنے حقائق رکھنے کے لیے مقدمے کی لائیو نشریات بہت اہم اور ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے