سندھ ہائیکورٹ: مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں شعیب سڈل طلب
سابق مقتول وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل میں ملوث ملزمان کی بریت کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ پولیس افسر شعیب سڈل کو طلب کیا ہے۔
بدھ کو ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران سابق پولیس افسر واجد درانی پیش ہوئے۔ واجد درانی کو وہیل چیئر پر پیشی کے لیے عدالت لایا گیا۔
بری کیے گئے ملزمان میں سے سابق پولیس اہلکار گلزار خان، احمد خان اور دیگر پیش ہوئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سابق پولیس افسر شعیب سڈل ملک سے باہر ہیں پیش ہونے کے لیے مہلت دی جائے۔
عدالت نے عدالت نے سابق ڈی آئی جی کراچی شعیب سڈل، ذوالفقار احمد، ظفراقبال اور دیگر کو اگلی سماعت پر طلب کر لیا۔
وکیل نے بتایا کہ سابق پولیس شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، مسلم شاہ اور دیگر ملزمان کا انتقال ہوگیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ جن ملزمان کو انتقال ہوچکا ہے ان کی بھی تصدیق کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
عدالت نے فوت ہونے والے ملزمان کی تصدیق کے بعد ایس ایس پی ایسٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ کیس بہت پرانا ہوگیا ہے، سب ملزمان اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوں۔ آئندہ سماعت پر اپیل کی باقاعدہ سماعت کریں گے۔
ذوالفقار احمد، آغاجمیل، غلام مصطفیٰ، احمد خان، راجہ حمید، گلزار خان، غلام شبیر، ظفراقبال، فیصل حمید بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔
میر مرتضی بھٹو کے ملازم نورمحمد گوگا نے ملزمان کی بریت کے خلاف 2010 میں اپیل دائر کی تھی۔
20 ستمبر 1996 کو میر مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو گھر کے قریب گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
واقعہ کے بعد سرکار اور مرتضی بھٹو کے ملازم نور محمد کی مدعیت میں دو مقدمات درج کئے گئے تھے۔
دسمبر 2009 میں ماتحت عدالت نے 20 پولیس افسران کو بری کر دیا تھا۔
اسی عدالت نے مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو بھی مقدمے سے بری کیا تھا۔
مزید سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

