اہم خبریں متفرق خبریں

ملزم خرم کھوسہ ہتھکڑی لگے پیش، جسٹس باقر نجفی کو سرکاری وکیل کا دلچسپ جواب

جنوری 1, 2024

ملزم خرم کھوسہ ہتھکڑی لگے پیش، جسٹس باقر نجفی کو سرکاری وکیل کا دلچسپ جواب

لاہور ہائیکورٹ میں وکیل خرم لطیف کھوسہ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی اور سرکاری وکیل میں سخت مکالمہ ہوا ہے۔

پیر کی شام لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے شہر کے پولیس افسر کو طلب کر کے گرفتار وکیل کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

پولیس اہلکاروں نے تحریک انصاف کے رہنما سردار لطیف کھوسہ کے بیٹےخرم لطیف کو لاہور ہائیکورٹ میں ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا۔

سرکاری وکیل نے جسٹس باقر نجفی کو مخاطب کر کے کہا کہ:
آپ کے آڈر پر عمل کرتے ہوئے ملزم آپ کے سامنے پیش ہے۔

جسٹس نجفی نے پوچھا کہ انہیں کس کیس میں گرفتار کیا ہے؟
سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ جو ایف آئی آر آپ کے سامنے رکھی تھی، اسی کیس میں۔ پہلے ایف آئی آر درج کی، پھر انہیں گرفتار کیا گیا۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم کا کہنا ہے کہ اس کی گرفتاری کل ہوئی ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ان کی گرفتاری آج ہوئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہخرم لطیف کھوسہ نے دھمکی دی اور پولیس افسر سے کہا کہ تم مجھے جانتے نہیں ہو، میں 5 نسلوں سے وکالت میں ہوں۔

جسٹس نجفی نے پوچھا کہ آپ نے وکیل کو ہتھکڑیاں لگا کر کیوں عدالت میں پیش کیا؟
سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

سماعت کے اختتام پر جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلہ سناتے ہوئے وکیل خرم لطیف کھوسہ اور اُن کے ساتھی کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے خرم لطیف کھوسہ کے خلاف ایف آئی آر بھیخارج کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے