خیبر پختونخوا میں بارشوں سے ہلاکتیں، بلوچستان میں ایمرجنسی کا نفاذ
بلوچستان میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں رین اور اربن فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارشوں نے تباہی مچائی ہے اور صوبے کے بالائی علاقوں میں زمینی راستے منقطع ہونے سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
پیر کو بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ تمام افسران اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جبکہ متاثرہ اضلاع میں آج اور کل دو دن سکول بند ہوں گے۔
دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر اور لوئر چترال میں تین مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو کئی میل تک پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اپر چترال عرفان الدین نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈ ایریا ٹریفک کے لیے بند کیے گئے ہیں تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے تاہم بند راستوں کو کھولنے کے لیے مشینری کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ علاقوں میں گھر کی چھتیں گری ہیں جن کے مکینوں کو محفوظ مقام منتقل کیا گیا ہے۔
لوئر چترال میں میرکھنی کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے پشاور جانے والی شاہراہ کو بند کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کے مطابق اتوار کی شب سے مرکزی روڈ ٹریفک کے لیے بند ہے کیونکہ ملبے ہٹانے میں وقت لگے گا، کوشش کی جا رہی ہے کہ ٹریفک کو بحال کریں۔
چترال میں سڑکوں کی صورتحال کے بعد محکمہ سیاحت نے سیاحوں کو ہدایت کی کہ وہ سفر کرنے سے گریز کریں۔
ترجمان ٹوارزم اتھارٹی سعد بن اویس نے بتایا کہ چترال میں موجود بیشتر سیاح گزشتہ روز بحفاظت نکل آئے تھے تاہم جو وہاں موجود ہیں وہ محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سڑکوں کو کھولنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

