پاکستان

پتہ ہے اسلام آباد کا آئی جی کیوں نہیں لگایا جا سکا: جسٹس عامر فاروق

اپریل 18, 2024

پتہ ہے اسلام آباد کا آئی جی کیوں نہیں لگایا جا سکا: جسٹس عامر فاروق

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سڑک حادثے میں شہری کی موت کے کیس میں آئی جی اسلام آباد کے تقرر کا تذکرہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی سے متعلق حکومت سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کو عدالتی روسٹرم پر طلب کر کے پوچھا گیا کہ اب تک آئی جی اسلام آباد کیوں نہیں تعینات کیا جا سکا؟

چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید احسن رضا سے کہا کہ ویسے تو اسلام آباد کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی آئی جی تو لگادیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یا جو پہلے آئی جی تھے نئے افسر کے آنے تک اسے رہنے دیتے، آئی جی وزارت داخلہ نے ہی لگانا ہے ناں۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ یا ویسے ہی پولیس کے محکمے کو ختم کر دیں تو پھر سکون ہو جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یا پھر جیسے بلوچستان میں ہو رہا ہے ویسے یہاں بھی ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ روز سیکرٹری آئے تھے، ان سے کہیں ناں آئی جی لگائیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی جی کی تعیناتی کا ایک نوٹیفکیشن ہوا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو نوٹیفکیشن ہوا تھا وہ آپ کو پتہ ہے، مجھے بھی پتہ ہے کیوں آئی جی نہیں آ رہا۔

دو ہفتوں میں آئی جی تعیناتی سے متعلق رپورٹ دیں، یہی آرڈر لکھوا سکتا ہوں۔

چیف جسٹس نے زیر سماعت مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بھی آپ کے سامنے ہے، دو سال سے تفتیش نہیں ہو رہی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے