غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کر کے ساحلی تفریح گاہ بنانے کا آئیڈیا ٹرمپ کو کس نے دیا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی کو فلسطینی باشندوں سے پاک کرنے اور امریکی کنٹرول کے تحت ایک بین الاقوامی ساحلی تفریحی مقام کے طور پر تیار کیے جانے کے وژن نے ایک سال قبل ان کے داماد جیرڈ کشنر کے پیش کردہ خیال کو زندہ کر دیا ہے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ کی طرف سے بیان کردہ اس خیال پر فلسطینیوں اور مغربی ناقدین دونوں کی جانب سے حیران کن ردعمل سامنے آیا ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کے مترادف اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہوگا۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں ٹرمپ کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ان کی غزہ کی تجویز کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صدر نے فلسطینی انکلیو میں امریکی فوج بھیجنے کا کوئی عہد نہیں کیا۔
لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ٹرمپ نے سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے غزہ کی بات کی ہو۔ پچھلے سال اکتوبر میں انہوں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں بتایا تھا کہ اگر صحیح طریقے سے دوبارہ تعمیر کیا جائے تو غزہ "موناکو سے بہتر” ہو سکتا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملے کے بعد تنگ ساحلی علاقے میں اسرائیل کی جانب سے اپنی جنگی مہم شروع کرنے کے فوراً بعد غزہ کی تعمیر نو کا خیال سامنے آیا، جس میں سب سے نمایاں طور پر کشنر سامنے آئے، جنہوں نے ٹرمپ کے پہلے دور میں مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی کے طور پر "ابراہم معاہدے” کو آگے بڑھانے میں مدد کی تھی۔
صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر یہودی النسل تصور کیے جاتے ہیں جن کی اسرائیل کے لیے لابنگ کھلے عام نظر آتی ہے۔

