خواہشات کی ڈیجیٹل گرامر، علی ارقم کا کالم
میرے لیے فلمی گانے کسی ٹائم مشین کا کام کرتے ہیں
جیسے یادداشت کسی جگہ اور مقام کا عنوان ہو، جیسے ہی کسی پرانے گانے کے بول سنتا ہوں، میں اپنی یادداشت کے اس مقام پر لوٹ جاتا ہوں جہاں میں نے وہ گانا سنا تھا
وہ منظر و تصویر اپنی تمام ویژول تفصیلات کے ساتھ تازہ ہو جاتی ہے، اس کے ساتھ کچھ کیفیتیں، کوئی خوشگوار احساس، کوئی کسک، کوئی ٹھیس بھی لوٹ آتی ہے، بعض دفعہ تو یہ احساس اتنا شدید ہوتا ہے جیسے ہم پھر سے وہ لمحہ جی رہے ہوں اور زبان سے
ہائے انور کی صورت کراہ بھی نکل جاتی ہے
اب مسئلہ یہ ہوا کہ گانوں کے کئی کئی ریمکس ورژن آ گئے۔ اس پر ستم یہ کہ اے آئی نے مزید ورژن کے دروازے کھول دیے ہیں، جس میں باقی سب کے ساتھ الفاظ کی ادائیگی میں غلطیاں انہیں اور بے مزہ کر دیتی ہیں، لیکن یہ دور الگ ہے۔
موسیقی اکثر اب کسی کیفیت یا قلبی واردات کے زیر اثر نہیں سنی جاتی بلکہ سب کچھ ساتھ ساتھ چل رہا ہے، یعنی پڑھائی یا ورزش یا کچھ اور، اس کے ساتھ میوزک بس ایک بیک گراؤنڈ نوئس (Background Noise) ہے جس میں دھمک، جھنکار اور بیٹ (Beat) زیادہ اہم ہے، بول، شاعری، ادائیگی، الفاظ اور احساس پس پشت چلے گئے ہیں۔
ویسے بھی اگر کوئی انگریزی لفظ غلط بولے تو لوگ اپنے اپنے انداز سے صحیح ادائیگی کے ساتھ وہی لفظ دہرا کر احسان کرنے نکل پڑتے ہیں لیکن اردو یا پشتو (یا کسی بھی دوسری مادری زبان) میں غلط ادائیگی پر تصحیح کو جدید تہذیب و آداب کے منافی سمجھا جاتا ہے (ابھے احسان مان جو ہم بول رہے ہیں، غلط بولا یا لکھا تو کیا تیرے باپ کی زبان تھوڑی ہے)
طرّہ یہ کہ پرانے مقبول گانوں کے ریمکس اور اے آئی ورژن کی ویڈیوز نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے، یعنی ان گانوں کی پرفارمنس یا فلمی مناظر کی ہماری یادداشتوں کے ساتھ بلینڈنگ کو چیلنج کرتے نئے منظرنامے جن میں فزیکل انٹرایکشن، بوس وکنار کے مناظر وغیرہ پر زیادہ فوکس ہو، وہ یادداشتوں کو ڈِسَرپٹ کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔
کیا کیا جائے کہ معاملہ گانے تک محدود نہیں بلکہ پورے میڈیا کلچر میں پھیلا ہوا ہے، سوشل میڈیا ریلز، شارٹس یا فلموں، ویب سیریز کی اسٹریمنگ کلپس، ہر جگہ ایسا لگتا ہے کہ توجہ کھینچنے کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ جنسیت (sexuality) کو ایک فوری ہک (Hook) کے طور پر استعمال کرنا بن گیا ہے یعنی ہر چیز کو دیکھنے پر آمادہ کرنے، توجہ برقرار رکھنے اور کلکس کروانے کیلئے جنس کو بطور آلے (attention device) استعمال کیا جانا۔
یہاں سے جب ہم گانوں کی طرف واپس آتے ہیں تو ایک اور تہہ کھلتی ہے۔ پرانے فلمی گانوں میں جو محاورے، استعارات اور کیفیات کی زبان استعمال ہوتی تھی، جو کہ ایک پورا جذباتی اور تہذیبی منظرنامہ تشکیل دیتے تھے، اب ان ہی پرانی لیرکس (lyrics) اور ان کی رومانوی یا علامتی زبان کو لے کر ایک نئی ویژوول اکانومی (visual economy) بُنی گئی ہے۔
یعنی پرانے گانوں کے الفاظ اور محاورے، ان کی لٹرل یا نیم لٹرل تصویری تشریح اور پھر ان سب پر جدید ویژول، ریمکس اور اے آئی جنریٹڈ (AI-generated) منظر کشی، ان سب کا ایک ملغوبہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔
اس نئے ملغوبے میں گانے صرف سنے نہیں جاتے بلکہ “دکھائے” بھی جاتے ہیں، اور دکھانے کا طریقہ اکثر مخصوص قسم کی جسمانی وضع قطع اور اس کو نمایاں کرتے کاسٹیومز اور جنسی ذومعنیوت اور اشاروں پر مشتمل ہے، یوں گانے کا جو اصل جذباتی یا شاعرانہ سیاق و سباق (Context) تھا، وہ آہستہ آہستہ ایک نئی ویژوول لینگویج (visual language) میں تبدیل یعنی (translate) ہوگیا ہے، جہاں احساس کم اور امیج یعنی منظر زیادہ اہم ہے
یہی پر ہمارے پہلے بھی ذکر کیے گئے علمی تصورات دوبارہ متعلق ہوجاتے ہیں
گے ڈیبارڈ (Guy Debord) کہتا ہے نا کہ اب براہِ راست تجربے کے بجائے تماشے نے زیادہ اہمیت اختیار کرلی ہے، ظاہر ہے گانے میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے اس کا عملی تجربہ کرنے کا موقع شاید کم ہی کو میسر ہو لیکن تماشا یا نظارہ تو سبھی کرسکتے ہیں، اس لیے لمحے سے زیادہ اس کی تصویر ویڈیو اور اس کی بار بار تکرار (repetition) اہم ہو جاتی ہے
اسی طرح ہمارے لیے اصل گانا، اس کی فلمی عکاسی، موسیقی، آوازیں اور شاعری ایک اصل جذباتی تجربہ تھا، لیکن اب اس گانے کے مختلف ریمکس اور نئے رجحان کے عکاس پیشکش (sexualized visual narratives) میں دوبارہ سامنے آکر اصل سے زیادہ موجود (present) ہو جاتے ہیں، نئے دیکھنے والے کیلئے یہی اصل ہے، یعنی اصل اور نقل کا فرق دھندلا نہیں بلکہ تقریباً غیر متعلق ہو گیا ہے
ایسا نہیں کہ پرانے گانے غیر مقبول ہیں؟
انڈین آئڈل یا پاکستان آئڈل کی مقبولیت اس کا واضح ثبوت ہیں کہ لوگ اب بھی پرانے گانے سن کر مسحور ہو جاتے ہیں، لیکن مسئلہ یہاں غالب رجحان کا ہے اور اس رجحان کی تشکیل میڈیا اور سوشل میڈیا نے خود کی ہے جس میں ان کے پیش نظر مارکیٹ کی ضرورت ہے
سماجی ماہرین (جیسے رینے جیرارڈ یا لیوک برجس) کہتے ہیں نا کہ خواہش صرف اندر سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اردگرد کے لوگوں کو دیکھ دیکھ کر سیکھی جاتی ہے، جیسے آپ کا بچہ پیزا یا برگر یا اب شوارما اس لیے پسند کرتا ہے کہ میڈیا یہی سب تو دکھاتا اور انہیں پرکشش بناتا ہے۔
جب ہر گانا، ہر کلپ، ہر ریمکس ایک ہی طرح کی ویژوول گرامر (visual grammar) میں ڈھلنے لگیں یعنی مخصوص جسمانی ڈیل ڈول، جنسی کشش، فزیکل قربت اور جنسی ذومعنویت، اشارے کنائے (sexual suggestion) کے ذریعے توجہ حاصل کی جائے اور برقرار رکھی جائے تو پھر نہ صرف خواہش بلکہ یادداشت بھی اسی گرامر سے متاثر ہونے لگتی ہے۔
جو لمحہ کبھی صرف ایک آواز، ایک کیفیت اور ایک اندرونی منظر تھا، وہ اب نئے الگورتھمک ویژولز سے اوور رائٹ (overwrite) ہو رہا ہے
اس پر بس نہیں، اب تو فلم، ویب سیریز، اے آئی اینی میشن کی مدد سے تاریخ بھی ازسر نو تخلیق کی جارہی ہے، پرانے کرداروں کو آج کی سیاسی ضرورتوں کے تحت ڈھالا جارہا ہے
ایک دوست نے کسی بھارتی فلم میں مہاراجوں اور بادشاہوں کی نئی تصویر کشی پر بات کی اور پھر کہا کیا آپ نے لیاری پر بننے والی فلم دھرندر دیکھی ہے، میں نے کہا، مجھے کراچی اور اس شہر کو جنم دینے والے علاقے لیاری کے نام پر کسی بھارتی کی جانب سے ہندو قوم پرستانہ خواہشات کی منظر کشی دیکھنے کی قطعاً حاجت نہیں –
ایک آدھا گانا اچھا ہے، وہ میں سن رہا ہوں اور بس

