اہم خبریں

روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کو ملائیشیا میں‌ نفرت اور دھمکیوں کا سامنا، 9 سکول بند

جولائی 27, 2026

روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کو ملائیشیا میں‌ نفرت اور دھمکیوں کا سامنا، 9 سکول بند

نور ملائیشیا میں مقیم روہنگیا مسلمان پناہ گزین ہے جس کی عمر 12 سال ہے۔ اس نے جون سے سکول جانا چھوڑ دیا ہے، کیونکہ دو افراد نے اسے کلاس جاتے ہوئے مارنے کی دھمکی دی تھی۔

نور کے مطابق ان افراد نے اس سے پوچھا تھا کہ "تم سکول کیوں جانا چاہتی ہو؟ کیا تم ہمارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتی ہو؟” نور کے اہل خانہ نے کسی ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف سے اس کا پورا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

رائٹس گروپس اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ نور اُن بہت سے روہنگیا بچوں میں سے ایک ہیں جنہیں ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ملائیشیا میں پناہ گزینوں کے سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملک ملائیشیا میں پرورش پانے والی روہنگیا کمیونٹی کی کارکن شریفہ شکیرہ نے کہا کہ "بچے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ گھر سے نکلنے سے ڈرتے ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ "آپ صرف ایک یا دو دن کے لیے بچے کو ہراساں نہیں کر رہے ہیں، آپ ایک دیرپا صدمہ پیدا کر رہے ہیں۔”

روہنگیا کو نشانہ بنانے والی آن لائن نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کے بعد کم از کم 9 سکول ملک بھر میں بند کیے جا چکے ہیں، روہنگیا کو نشانہ بنانے کے بعد کمیونٹی پر سخت کنٹرول ہوئے اور ٹیک ریگولیشن کے خدشات کو جنم دیا۔

وزارت داخلہ نے سکول کی بندش یا نفرت انگیز تقریر کی مہم پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ملائیشیا سرکاری طور پر روہنگیا کو پناہ گزینوں کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، انہیں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتا ہے، حالانکہ ان میں‌ سے تقریباً 120,000 اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے