ساتھی کارکن ہتھیار ڈال کر پارٹی تحلیل کر دیں، ترکیہ میں قید رہنما عبداللہ اوجلان
ترکیہ میں قید کرد رہنما عبداللہ اوجلان نے اپنے عسکریت پسند گروپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور کردستان ورکرز پارٹی کو تحلیل کر دیں۔
اس اقدام کو ترکیہ کی حکومت کے ساتھ چار دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کی ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
استنبول کے ایک جزیرے پر اپنی جیل سے ایک پیغام میں، اوجلان نے کہا کہ کردستان ورکرز پارٹی، یا PKK کو ایک کانگریس منعقد کرنی چاہیے اور اسے ختم کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ "اپنی کانگریس بلائیں اور فیصلہ کریں۔ تمام گروپوں کو اپنے ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور PKK کو خود کو تحلیل کرنا چاہیے،”
اوجلان کا پیغام کرد اور ترکی میں کرد نواز پارٹی کے سیاستدانوں نے پڑھا تھا جنہوں نے اوجلان سے ملاقات کے لیے جیل کا دورہ کیا تھا۔
اوجلان کا یہ اہم اعلان اُن کے گروپ اور ترک ریاست کے درمیان امن کے لیے ایک نئی کوشش کا حصہ ہے، جس کا آغاز اکتوبر میں صدر رجب طیب اردوغان کے اتحادی پارٹنر دیولت باہسیلی نے کیا تھا۔
انتہائی دائیں بازو کے ترک سیاست دان نے مشورہ دیا تھا کہ اگر اوجلان کا گروپ تشدد ترک کر دے اور مخالفت ختم کرنے پر راضی ہو جائے تو اسے پیرول پر رہائی دی جا سکتی ہے۔

