کالم

باجوہ ڈاکٹرائن، پنجابی جھپی اور 5 اگست 2019 تک کی کہانی

اگست 5, 2025

باجوہ ڈاکٹرائن، پنجابی جھپی اور 5 اگست 2019 تک کی کہانی

5اگست 2019جتنا ریاست جموں کشمیر کی حالیہ تاریخ میں ایک دن ہے جب بھارت نے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت اور سٹیٹ سبجیکٹ ختم کیا۔ اس واقعے کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں لیکن اس واقعے کے حوالے سے اس وقت کے اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفیر اجے بساریہ نے اپنی کتاب میں تفصیل لکھی ہے۔ اجے بساریہ 2017سے 2020 تک اسلام آباد میں دہلی کے سفیر رہے ہیں۔ 5 اگست 2019 کا پس منظر،پیش منظر اور مابعد منظر انہوں نے ایک چیپٹر میں بیان کیا ہے۔ ان کی کتاب کا نام
Anger Managemet
The Troubled Diplomatic Relation Ship Between India and Pakistan۔
ہے۔ یہ کتاب ایک بھارتی کی نظر سے پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات کا احاطہ کرتی ہے۔ اسی کتاب کا ایک چیپٹر اجے بساریہ اپنے دور کے مشاہدات اور پاکستان انڈیا کے سفارتی تعلقات پر تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ”2018 میں باجوہ ڈاکٹرائن کا انکشاف ہوا۔ جس کا مقصد پاکستان کے طاقتور شخص کی پالیسی سامنے لانا تھا۔ باجوہ ڈاکٹرائن کو ISPR اور کچھ صحافیوں کے ذریعے سامنے لایا گیا۔ جنرل باجوہ کا دعویٰ تھا کہ ان کی مدت عہدہ ختم ہونے تک انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہو جائیں گے اور مودی کی انتہا پسند حکومت انڈیا کی بڑھتی معیشت کیوجہ پاکستان کے ساتھ بات چیت ضرور کرے گی۔ باجوہ کا یہ بھی ماننا تھا کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو سکتی۔ باجوہ ڈاکٹرائن کو کشمیر پر کمزور پالیسی کی وجہ سے تنقید کا سامنا تھا۔ اس ڈاکٹرائن کے سامنے آنے کے بعد مجھے اور انڈین ایمبیسی کے چند لوگوں کو یوم پاکستان (23 مارچ 2018) کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی جسے ہم نے قبول کیا۔ ہم پورا دن گرم دھوپ میں بیٹھے رہے اور شام کو پاکستانی میڈیا نے ہمارے چہرے دکھاتے ہوئے کہا یہ انڈیا کے لئے انتباہ تھا اور انڈینز مرجھائے چہروں کے ساتھ تقریب میں شریک رہے۔ اس پر انڈین میڈیا نے ہمیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تاہم ہمیں خوشی تھی کہ نئے باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
2018 سے پہلے ہی نواز شریف کو منظر سے ہٹایا جا چکا تھا جو یہ واضح کرتا تھا کہ براہ راست فوجی حکومت نہیں آئے گی لیکن عمران خان کی صورت میں غیر فوجی بغاوت اور ہائبرڈ رجیم واضح تھی۔ 2018 میں جب بات چیت کا آغاز ہوا تو ہم نے پاکستان کی فوجی قیادت تک پیغام پہنچایا کہ انڈیا اب دہشتگردوں سے بات چیت کی کوئی پالیسی نہیں رکھتا۔ ہاں اگر پاکستان اس سلسلے میں کچھ یقین دہانیاں کرواتا ہے تو اس پالیسی پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔ ان یقین دہانیوں میں پہلی یہ کہ لائن آف کنٹرول پر دراندازی کو ختم کیا جائے اور دوسری یہ کہ جو لوگ انڈیا میں مختلف دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہنے کے بعد اب پاکستان میں پناہ لے چکے ہیں ان کو انڈیا کے حوالے کیا جائے گا۔
بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھا تو سب سے پہلے رمضان کے آغاز پر لائن آف کنٹرول پر فائربندی کے لئے اتفاق ہوا 29 مئی 2018کو ڈی جی ایم اوز کی میٹنگ کے بعد یہ معاہدہ مزید بہتر انداز میں ہوا۔ بھارتی صحافیوں کو پاکستان کا ویزہ دیا گیا اور صحافیوں کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، اسی طرح پاکستان میں منعقد ایس سی او کے ایک اجلاس میں بھارت کی انسداد دہشتگردی کی ایک ٹیم نے شرکت کی، پاکستان کے کوسٹ گارڈز کی ایک ٹیم نے انڈیا کا دورہ کیا اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ جون 2018 میں مذاکرات کاروں کی جانب سے ہمیں اشارہ دیا گیا کہ مزید بات چیت نئی حکومت کے قیام کے بعد ہو گی۔ فوج کا یہ اعتماد بتا رہا تھا کہ فوج اور نئی حکومت ”ایک پیج” پر ہوں گے۔
پاکستان کو یہ بھی اندازہ تھا کہ بات چیت کا یہ عمل انڈیا کے 2019کے الیکشن سے قبل فعال نہیں ہو سکے گا۔ تاہم مستقبل کے ان واقعات کی توقع نہیں تھی جنہوں نے سارے منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ (ان میں پلوامہ واقعہ، بالاکوٹ واقعہ اور پھر جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ شامل ہیں۔)
شاید یہی وجہ تھی کہ جنرل باجوہ نے محض تین سال میں امن اور تعلقات بحالی کا دعویٰ کیا تھا۔ جولائی 2018 میں عمران خان کامیاب ہوئے تو انہیں فون پر مبارک باد دینے والے پہلے غیرملکی سربراہ مملکت نریندر مودی تھے جنہوں نے یکم اگست کو فون کر کے عمران خان کو مبارک باد دی اور تعلقات کی بہتری کی امید ظاہر کی تھی۔
10 اگست2018 کو عمران خان نے غیرملکی سفارتکاروں کو بنی گالا بلایا جہاں انہوں نے مختصر لیکن سنجیدہ گفتگو کی۔ اس دوران ان کی انڈیا کے لئے کوئی واضح پالیسی نہیں تھی تاہم وہ انڈیا کے ساتھ امن کے خواہاں تھے۔
اس گفتگو کے دوران میں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کی بات کی جس کی انہوں نے حامی بھری۔میں نے کہا اگر ممبئی حملوں جیسے واقعات ہوں گے تو بات چیت آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور مذاق میں مستقبل کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے دوران یہ انڈیا میں موجود تھے لیکن یہ ان حملوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
میں نے لائن آف کنٹرول پر دراندازی اور دہشتگردی کی بات کی تو ان کے ساتھ موجود شریں مزاری نے مجھے ٹوکا اور بلوچستان میں انڈیا کی مداخلت کے حوالے سے بات کی۔ عمران خان نے شریں مزاری کو روکا اور مجھ سے کہا کہ کشمیر میں انڈین فوج کی وجہ سے مسائل ہیں۔ فوج کی وجہ ہمیشہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ خیبرپختون خواہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام کی بنیادی وجہ وہاں پر فوج کی مداخلت ہونا تھی۔ یہ پاکستان کے مستقبل کے وزیر اعظم کا انڈین سفارتکار کے سامنے جرات مندانہ بیان تھا۔
18 اگست کو عمران خان کی حلف برداری کی تقریب ہوئی جس کے لئے افواہ تھی کہ وہ مودی کو دعوت دیں گے لیکن شاید اتحادیوں نے ان کو اس کا موقع نہ دیا کیونکہ حکومت بننے اور حلف کے درمیان زیادہ وقت نہیں تھا۔ تقریب میں عمران خان کے قریبی دوست نجوت سنگھ سدھو بھی شامل تھے۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد جنرل باجوہ اور سدھو میں ملاقات ہوئی اور سدھو نے ان کو گلے لگا لیا جس پر انڈیا میں سدھو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سدھو نے مجھے بتایا کہ جنرل باجوہ نے انہیں گرونانک دربار کی یاترا کے لئے خصوصی راہداری بنانے کا وعدہ کیا تو سدھو نے بے ساختہ انہیں گلے لگا لیا۔ یہ ایک خالص پنجابی جپھی تھی۔
عمران خان کی ٹیم سے ہماری بات چیت شروع ہوئی تو رابطہ کار نعیم الحق تھے۔ نعیم الحق لائن آف کنٹرول پر دراندازی اور دہشتگردی کے خلاف تھے اور وہ چاہتے تھے کہ کراچی میں پھر سے انڈیا کا قونصل خانہ کھل سکے۔ فوج اور عمران خان کی ٹیم سے ہماری الگ الگ بات چیت ہو رہی تھی اس دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ عمران خان کی ٹیم انڈیا کے معاملے میں خاصی بے خبر تھی، ساتھ ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے بھی بے خبر تھی۔ یہ وہ تجربہ تھا جو مجھ سے قبل بھی کئی سفارتکاروں کو ہو چکا تھا، اس طرح ہمیں فوج اور حکومت کے اختلافی پوائنٹس کا اندازہ بھی ہوا۔
ستمبر 2018میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ میں شدت آئی تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ کر دی گئی جس کی اطلاع میں نے طارق عزیز کو دی۔ طارق عزیز فوج اور ہمارے درمیان ایک رابطہ کار تھے جو مشرف حکومت کا حصہ بھی رہ چکے تھے، وہ جنرل باجوہ کے کافی قریب تھے۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخی کے بعد طارق عزیر نے بتایا کی ان کی جنرل باجوہ سے ایک طویل ملاقات ہوئی ہے، باجوہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حامی ہیں اور امن چاہتے ہیں۔ اس وقت آئی ایس آئی کے ڈی جی نوید مختار ہیں جن کی ریٹائرمنٹ قریب ہے پھر نئے ڈی جی آ جائیں گے جو باجوہ کے ہم خیال ہوں گے اور ملکر امن کے قیام کی کوششیں کریں گے۔
اکتوبر 2018 میں جنرل عاصم منیر نئے ڈی جی آئی ایس آئی مقرر ہوئے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد فروری 2019 میں پلواما کا واقعہ ہو گیا جس کی ذمہ داری ج ی ش نے قبول کی اور پھر اس کے ردعمل میں بالاکوٹ سٹرائیک ہوئی۔ یہ ایسے واقعات تھے جن کی جنرل باجوہ کو امید نہیں تھی۔
ان دو واقعات کے کچھ ہی عرصہ بعد فوج کے ساتھ ایک رابطہ کار نے مجھے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت کہ ج ی ش کے 1800 لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ اسی دوران پاکستان کے ایک سابق سفارتکار نے بتایا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے اور امن کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ اپریل 2019 کے بعد ڈی جی ایم اوز کے درمیان مسلسل رابطہ رہا اور دراندازی کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہی اقدامات کا نتیجہ تھا کہ 2019 میں دراندازی کے صرف 23 واقعات ہوئے جو 2018 میں 300 اور 2017 میں 400 سے زائد تھے۔
مئی 2019 میں انڈیا کے انتخابات میں کامیابی پر عمران خان نے مودی کو مبارک باد دی۔ جس سے ہمیں محسوس ہوا کہ پاکستان ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ اس دوران کئی غیر معمولی واقعات بھی ہوئے۔ جون 2019 میں اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہمارا افطار ڈنر کینسل کروایا گیا جس میں تقریبا 1000 افراد کو شرکت کی دعوت تھی۔ اس کے چند دن بعد آئی ایس آئی کے ایک قریبی بندے کی کال آئی اور مجھے بتایا گیا کہ ا ل ق ا ع د ہ کشمیر میں حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ مذکورہ اطلاع سے چند دن قبل کشمیر میں ذ اک ر م و س ی کو مارا گیا تھا اور اس کا تعلق ال ق ا ع د ہ سے تھا۔ یہ ایک غیر معمولی خبر تھی جسے ڈی جی ایم او کے ساتھ شئیر کیا جانا تھا لیکن مجھ سے شئیر کی گئی۔ یہ اطلاع درست ثابت ہوئی، ایسا محسوس ہوا کہ آئی ایس آئی انڈیا کے ساتھ تعلقات بحالی کے لئے کوشاں ہے۔جون 2019 میں ہی جنرل عاصم منیر کو ہٹا کو جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ بنایا گیا لیکن ان کو دوسرے ملکوں سے معاملات کا علم نہیں تھا بلکہ وہ سیاسی چالاکیوں میں مہارت رکھتے تھے۔

اسی دوران عمران خان کی ٹیم کے رابطہ کار نعیم الحق نے مجھے کھانے پر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ بشکیک میں ایس سی او کانفرنس کے دوران عمران خان مودی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں چاہے وہ 5 منٹ کی ہی ہو۔ اس کے ساتھ کا یہ بھی بتایا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے بارے میں متضاد آرا ہیں تاہم عمران خان اور جنرل باجوہ انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد عمران خان امریکہ گئے جہاں ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات کی اور بعد میں مکر گئے۔ یہ ایک غیرسنجیدہ عمل تھا۔ 3 اگست 2019 کو باجوہ نے ایک مغربی سفارتکار کے ذریعے مجھ تک پیغام پہنچایا کہ ایل او سی پر فائرنگ اور کشمیر میں فوج کی نقل و حرکت پر انہیں تشویش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شبہ ہے انڈیا کشمیر میں آئینی تبدیلیاں کرنا چاہتا ہے اگر ایسا ہوا تو خطے میں عدم استحکام آئے گا۔ 5 اگست 2019 کو انڈیا نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا لیکن پاکستان کچھ نہ کر سکا۔ انڈیا کو توقع تھی کہ پاکستان عالمی فورمز پر اس معاملے کو اٹھائے گا جس کی انڈیا تیاری کر رہا تھا لیکن پاکستانی قیادت انڈین قیادت پر تنقید تک محدود رہی یہاں تک کہ عمران خان تنقید کے دوران انڈین قیادت پر ذاتی حملے کرنے لگے۔ ایسا شاید فوج کی رہنمائی کے بغیر کر رہے تھے۔ پاکستان نے عالمی فورمز کے بجائے اپنے جہادی گروہ فعال کرنے کی کوشش کی جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔ اس دوران پاکستان میں گلگت اور پاکستانی جموں کو آئینی درجہ دینے کی بات چیت ہونے لگی، گلگت کو عبوری صوبے کا درجہ پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔

5 اگست 2019 کے بعد 2020 میں انڈیا اور پاکستان کے حالات نارمل ہونا شروع ہوئے اور 2020 کے آخر میں ایک مرتبہ پھر فوج سے بات چیت کا آغاز ہوا۔ جس کا پہلا نتیجہ فروری 2021 میں دونوں طرف سے اچانک فائر بندی کا اعلان تھا۔“
یہ اجے بساریہ کی باتیں ہیں۔ اب جنرل صاحب یا عمران خان کتاب لکھیں اور ان باتوں کی تصدیق یا تردید کریں۔ ویسے بھی انڈیا پاکستان میں مشترکہ کتابیں لکھنے کی مثالیں موجود ہیں۔ کوئی مشترکہ کتاب ہی لکھ لیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے