اہم خبریں

تنِ تنہا حملہ آور ہونے والے امریکہ کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکے: ایف بی آئی

مئی 16, 2026

تنِ تنہا حملہ آور ہونے والے امریکہ کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکے: ایف بی آئی

سہیل چوہدری، صحافی ۔ کینیڈا

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردی کی نئی اور سب سے خطرناک شکل اکیلے یا تن تنہا حملہ آور ہونے والے افراد ہیں جو کسی تنظیمی ڈھانچے کے بغیر، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے انتہا پسند نظریات اختیار کر کے تیزی سے تشدد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

ایف بی آئی کے مطابق ایسے افراد کی شناخت اور روک تھام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے انتہائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے بین الاقوامی اور مقامی دہشت گرد عناصر کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر ممالک میں رہنے والے افراد تک براہِ راست رسائی حاصل کریں، انہیں آن لائن انتہا پسندی کی طرف لے جائیں اور ملک کے اندر حملوں پر اکسا سکیں۔

ایف بی آئی کے مطابق دہشت گرد تنظیم Islamic State of Iraq and ash-Sham (داعش) سوشل میڈیا کو خاص طور پر اس حکمتِ عملی کے تحت استعمال کر رہی ہے کہ اس کے ہمدرد جہاں بھی ہوں، وہیں چھوٹے اور سادہ نوعیت کے حملے کریں، یا پھر عراق اور شام میں تنظیم کے زیرِ اثر علاقوں کا رخ کر کے داعش میں شامل ہو جائیں۔
یہ پیغام امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بعض افراد کو متاثر کر چکا ہے۔ دہشت گردی اب بڑے منظم گروہوں کے منصوبوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ زیادہ تر واقعات ایسے افراد انجام دے رہے ہیں جو اکیلے کام کرتے ہیں، کسی واضح تنظیمی رابطے کے بغیر اور بغیر کسی براہِ راست ہدایت کے کارروائی کرتے ہیں۔

ایف بی آئی کے مطابق ان اکیلے حملہ آوروں کا سراغ لگانا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ ان کی سرگرمیاں خفیہ نیٹ ورکس کے بجائے آن لائن پلیٹ فارمز پر پروان چڑھتی ہیں۔ اسی تناظر میں بیورو نے عوام، مقامی کمیونٹیز اور دیگر سکیورٹی اداروں سے قریبی تعاون اور بروقت معلومات کی فراہمی کو دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار قرار دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے