کالم

آئی ایس پی آر کی فلم مالک کی عدلیہ میں نمائش جاری ہے، مطیع اللہ جان کا کالم

ستمبر 6, 2025

آئی ایس پی آر کی فلم مالک کی عدلیہ میں نمائش جاری ہے، مطیع اللہ جان کا کالم

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے ججوں کی چھٹیوں پر جنرل سٹینڈنگ آرڈر جاری ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نئے خط میں لکھا ہے کہ ججز کوئی سرکاری ملازم یا فوجی دستہ نہیں ہوتے کہ آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر اُن کی نگرانی کی جائے یا انہیں کنٹرول کیا جائے۔

تین نومبر 2007 کو جنرل مشرف کا آئینی عدالتوں کے خلاف غیرآئینی فرمان ہو، 19 جون 2011 کو جنرل کیانی کے دور میں سپریم کورٹ سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی ہو، 2014 میں جنرل راحیل شریف کے دور میں ڈی چوک کا دھرنا اور سپریم کورٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ سے نواز شریف کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کا لندن پلان ہو، 2017 میں جنرل باجوہ کے دور میں پانامہ کیسوں میں سپریم کورٹ کے ججوں کا استعمال ہو یا پھر آج کے دور میں 26 ویں ترمیم کے ذریعے عمران خان کے خلاف عدلیہ میں بنائی گئی لوہا پگھلائی دیوار ہو، یہ سب اُس سازشی ذہنیت کا تسلسل ہے جس کی جھلک 2017 میں جاری کی گئی آئی ایس پی آر کی ایک سیاست اور سیاستدان دشمن فلم "مالک” کے ابتدائی سین میں بھرپور انداز سے نظر آتی ہے۔

‏اس فلم میں بظاہر وزیراعلیٰ سندھ کو ایک معصوم لڑکی کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں ریپ کرتے دکھایا گیا، کمرے کی دیوار پر بظاہر بے نظیر بھٹو کا پورٹریٹ آویزاں تھا، پھر قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے اُس لڑکی کے بھائی کو اُس وزیراعلی پر اُس کی سرکاری رہائش گاہ پر قاتلانہ حملہ کرتے دکھایا گیا، سیکیورٹی انچارج (ایک ریٹائرڈ میجر- فلم کا پروڈیوسر و ہیرو عاشر عظیم) اُسے موقعے پر مار تو دیتا ہے مگر پھر مارے جانے والے قبائلی کی لاش پر وزیرِاعلیٰ کی طرف سے بدزبانی کرنے پر وزیراعلیٰ کو بھی گولی مار کر الزام مقتول قبائلی پر ڈال کر سینما بینوں سے داد وصول کرتا ہے۔

یہ ریٹائرڈ میجر اور ایک ریٹائرڈ جنرل اُس کا باپ بھی ایک نجی سیکیورٹی کمپنی چلاتے ہیں اور ایک موقعے پر جنرل صاحب کہتے ہیں ہمارا سیاست سے لینا دینا بالکل بنتا ہے۔ بہرحال یہ دونوں باپ بیٹا نجی سیکیورٹی کمپنی کی آڑ میں ایک نجی زیرِ زمین مافیا چلاتے ہیں جو عام شھریوں کی شکایت پر ان کو نجی طور پر ماورا عدالت انصاف دینے پر مقبول ِ عام ہیں۔

فلم میں عدلیہ کے ساتھ بھی انتہائی غیرمعمولی واقعات کا ذکر ہے جو آگے چل کر بتاتے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ فلم وفاقی سینسر بورڈ میں بیٹھے نواز شریف کے چند بزدل بیوروکریٹس نے نمائش کے لیے منظور کر دی۔ اور یوں مجھے ایک دن اپنے اہلخانہ کے ہمراہ راولپنڈی کے سینیپلکس میں یہ فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا، ریٹائر فوجی میجر نے بطور سیکیورٹی انچارج جب وزیراعلیٰ کو گولی ماری تو میرے اہل خانہ نے بھی تالیاں بجائیں اور میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے ہی ایک ڈیوٹی پر موجود باوردی سرکاری گارڈ نے سرکاری اسلحے سے گورنر پنجاب کو قتل کر دیا تھا۔ فلم کا یہ منظر انتہائی گھناؤنی اور گھٹیا سازش تھی سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی جس کے پیچھے جنرل راحیل شریف اور اُن کے ڈی جی آیی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ المعروف پاپا جونز تھے۔
فلم پروڈیوسر و ہیرو عاشر عظیم جو آج کل آئین، قانون اور جمہوریت کے امریکی مقیم چیمپئن ہیں وہ اس سب کے آلہ کار تھے اور بعد میں فلم پر پابندی لگنے کے باعث بظاہر ISPR سے اس فلم پر مالیاتی تنازعے کے بعد ملک چھوڑ گئے۔

‏بہرحال اہل خانہ کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد میں نے بطور صحافی اپنے کولیگ صحافی وحید مراد کے ہمراہ یہ فلم دوبارہ دیکھی اور پھر اس فلم سے جب وقت ٹی وی پر "اپنا اپنا گریبان” کا ایک لائیو شو کیا تو عاشر عظیم آخری وقت پر بھاگ گئے، اور ن لیگ کے ایک نامزد سینسر بورڈ کے رکن نے بھی بزدلانہ راہ فرار اختیار کی۔
سٹوڈیو میں صرف ایک مہمان بچا اور وہ تھے سینئیر صحافی اور کورٹ رپورٹر عبدلقیوم صدیقی-
شروع میں جب فلم کے اندر سیاستدانوں کے خلاف سازش کو ایک رپورٹ میں بے نقاب کیا جا رہا تھا تو لاہور میں واقع وقت ٹی وی کے مرکزی کنٹرول سے نشریات بند کروا دی گئیں۔ تاہم اس واقعے کے بعد فلم پر سندھ کے بعد اسلام آباد میں بھی پابندی لگ گئی۔

‏عدلیہ متعلق ہماری اسٹیبلشمنٹ کی عامیانہ فلمی سوچ کی جھلک 26 ویں آئینی ترمیم اور چیف جسٹس آفریدی کا ججوں کی چھٹیوں متعلق آرڈر ہے جو جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں بے نقاب ہوا ہے۔

فلم کے آغاز میں بظاہر ایک شہری آدھی رات کو ایک جج کے بستر کے پاس بیٹھے اور پولیس کو گھر کی سیکیورٹی پر مامور دکھایا گیا ہے۔ مافیا نما نجی سیکیورٹی کمپنی کا نگرانی کا نظام باہر سیکیورٹی کمپنی کی گاڑی میں جج کی ویڈیو بھی مانیٹر کر رہا ہے (اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے بیڈ رومز سے خفیہ کیمروں کی برآمدگی سمجھ آئی؟ ) بہرحال اُس نام نہاد شھری کی جج سے گفتگو ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔
https://x.com/matiullahjan919/status/1964209407010754601?s=46&t=Ct9Uu8n9TNtGEdnnaih37A

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے