کالم

ملکۂ پنجاب کا دورۂ چکوال، نبیل انور ڈھکو کا کالم

اکتوبر 3, 2025

ملکۂ پنجاب کا دورۂ چکوال، نبیل انور ڈھکو کا کالم

منگل کو پنجاب کی وزیرِاعلی مریم نواز شریف چکوال آئیں۔ یہاں انہوں نے سینٹر آف ایکسیلینس کا باضابطہ لیکن بالکل ہی غیر ضروری افتتاح کیا۔ یونیورسٹی آف چکوال میں راولپنڈی ڈویزن کے ہونہار طلبا میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے اور ہونہار سکالرشپس سے نوازا۔

بدترین ریاستی جبر کا شکار پاکستان تحریکِ انصاف کے کچھ پتلی گلی سے جان بچا کر بھاگ نکلنے والے مقامی رہنما اور کچھ حرماں زدہ کارکنان یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ سینٹر آف ایکسیلینس پی ٹی آئی کی سابقہ بزداری حکومت نے سابق صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کی کوششوں سے تعمیر کروایا تھا۔ ان کی یہ بات سو فی صد درست ہے۔ لیکن ان بقراطوں کو یہ کون بتائے کہ سینٹر آف ایکسیلینس پر جو پینسٹھ کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے اس پینسٹھ کروڑ میں راجہ یاسر ہمایوں سرفراز، عثمان بزدار اور عمران خان میں سے کسی ایک نے پینسٹھ روپے بھی اپنی جیب سے نہیں دیے تھے۔ یہ پینسٹھ کروڑ پنجاب حکومت کا لگا ہے جس کی منظوری اس وقت کے وزیرِ اعلی پنجاب نے دی تھی اور منگل کو اسی پنجاب کی وزیرِ اعلی نے اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ سینٹر آف ایکسیلینس اور یونیورسٹی آف چکوال کا قیام بلاشبہ راجہ یاسر کے عظیم کارنامے ہیں لیکن احسانات ہر گزِ نہیں کہ ان کو چکوال کے لوگوں نے منتخب ہی اس لیے کیا تھا کہ وہ ان کے لیے کچھ کریں۔ ترقیاتی منصوبوں کی تقدیر ایسی ہی ہوتی ہے کہ ایک جماعت کی حکومت میں سنگِ بنیاد رکھا جاتا ہے اور دوسری جماعت کے دور میں افتتاح کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ راگ الاپنا کہ مریم نواز شریف نے پی ٹی آئی کے منصوبے کا افتتاح کیا ہے، محض ایک حماقت بلکہ بونگی ہے۔

اب ملکۂ پنجاب کی چکوال یاترا کی روداد سنیں۔
ملکۂ پنجاب نے سرزمینِ چکوال پر منگل کو قدم رنجہ فرمانا تھا لیکن ان کی آمد کی تیاریاں ہفتہ کو ہی شروع ہو گئیں۔ لاہور سے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایک دستہ اتوار کی شام چکوال پہنچ گیا۔ ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی بھی اپنے ماتحت عملے کے ساتھ چکوال پہنچ گئے۔ شہر کی سڑکوں اور نالوں کی صفائی، سڑکوں کی درمیانی پٹیوں کو رنگ روغن کا عمل، سڑکوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کی مرمتی، درختوں کی کانٹ چھانٹ کا عمل ہنگامی بنیادوں پر شروع ہوا۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران کے پے در پے اجلاس منعقد ہوئے۔ لاہور کی ایک کمپنی جس کے مالک کا نام چوہدری اصغر ہے، ٹریلوں پر مارکی کا سامان لے کر پہنچ گئی۔ اتوار کو ضلع کے تمام کالجز کے سربراہان سر جوڑ کر بیٹھے۔ تلاوت، نعت، قومی ترانے، تقاریر کے لیے طلبا کا انتخاب کیا گیا۔ ریہرسل پر ریہرسل ہوئی کہ کہیں کوئی کمی رہ نہ جائے۔ تقریب میں شریک ہونے والے طلبا کو محفل کے آداب سکھلائے گئے۔ سوموار کی شام محکمہ تعلیم کے وزیر رانا سکندر حیات بھی چکوال پہنچ گئے۔ رانا صاحب نے منگل کو ہونے والی تقریب کی باقاعدہ ریہرسل سوموار کی شام اپنی نگرانی میں کروائی۔ رانا صاحب نے اپنے لشکر کے ہمراہ شب کلر کہار بسر کی۔
ملکۂ پنجاب نے منگل کی دوپہر کو چکوال کی دھرتی پر قدم رکھا۔ مرید ائیر بیس سے سیدھی تلہ گنگ روڈ پر واقع اس سینٹر آف ایکسیلینس کا افتتاح کرنے آئیں جس کو کھلے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور جس کا سنگِ بنیاد 26 دسمبر 2020 کو اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سابق صوبائی وزیر راجہ یاسر سرفراز کی کوششوں سے رکھا تھا۔ اس سکول کی مختصر سی کہانی کچھ یوں ہے کہ 24 فروری2010ء کو پنجاب اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قانون منظور کیا جس کو’’دی پنجاب دانش سکولز اینڈ سنٹرز آف ایکسیلینس ایکٹ2010″ کا نام دیا گیا۔ ۔اس ایکٹ کے تحت پنجاب دانش سکولز اینڈ سینٹر آف ایکسیلینس اتھارٹی قائم کی گئی۔ یہ منصوبہ اس وقت کے وزیرِ اعلی اور موجودہ کاغذی وزیرِ اعظم شہباز شریف کا تھا۔ 2016 میں پنجاب حکومت نے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون چکوال کو سینٹر آف ایکسیلینس میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف چکوال میں ایک گمراہ کن مہم چلائی گئی۔ اس مہم کو چلانے والوں میں پیش پیش
گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون چکوال کے اساتذہ تھے جنہوں نے ‘پنجاب دانش سکولز اینڈ سنٹرز آف ایکسیلینس ایکٹ2010‘ پڑھے بغیر ہی یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ سکول کو ایک این جی او کے حوالے کیا جا رہا ہے اور سکول میں ایک طالب علم کی ماہانہ فیس چار ہزار روپے ہو جائے گی۔ چکوال کے کچھ سرعت مزاج وکلا پنجاب حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ اساتذہ تنظیم کے ایک رہنما نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کے کان بھرے۔ راجہ صاحب نے بھی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور مجوزہ سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے خلاف بیانات داغ دیے۔ یوں یہ سینٹر آف ایکسیلینس چکوال میں نہ بن سکا اور میانوالی میں بن گیا۔ اس تنازعے پر 20 جون 2016 کو میں نے ایک تفصیلی کالم لکھا تھا۔ پھر پی ٹی آئی کی حکومت آئی اور راجہ یاسر نے خود 26 دسمبر 2020 کو اس سینٹر کا سنگِ بنیاد عمران خان کے ہاتھوں سے رکھوایا۔ یاد رہے کہ 26 دسمبر 2020 کو عمران خان نے چکوال میں صرف 48 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے سینٹر آف ایکسیلینس کا ہی سنگِ بنیاد نہیں رکھا تھا بلکہ مجموعی طور پر پندرہ ارب روپے کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ ان منصوبوں میں سات ارب ستہتر کروڑ اسی لاکھ روپے کی لاگت سے پانچ سو بیڈز کا جدید ہسپتال، تین ارب ستاسی کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی لاگت کا ناردرن بائی پاس (جس کی منظوری 16 جولائی 2014 کو اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے ایم این اے عفت لیاقت کے کہنے پر دی تھی اور دسمبر 2018 میں موسم کی ادا دیکھ کر نئے نئے ٹھکانے تلاشنے والے سردار ذوالفقار علی دلہہ نے بطور پی ٹی آئی ایم این اے کی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بائی پاس کا روٹ تبدیل کروادیا تھا) اور ایک ارب پینتالیس کروڑ ستر لاکھ کی لاگت سے 941 کنال پر بلکسر کے قریب یونیورسٹی آف چکوال کے مین کیپمس کی تعمیر بھی شامل تھی۔ نہ تو ناردرن بائی پاس پر تعمیراتی کام شروع ہوا اور نہ ہی پانچ سو بیڈز کے ہسپتال پر۔ بلکسر میں یونیورسٹی کی عمارتوں کی تعمیر ابھی تک ادھوری پڑی ہوئی ہے۔ صرف ایک سینٹر آف ایکسیلینس کی تعمیر مکمل ہوئی۔

بات ہو رہی تھی ملکۂ پنجاب کے حالیہ دورے کی، کہیں اور نکل گئی۔ اس بھٹکن کے لیے معذرت۔

پنجاب کی حاکمہ جب سینٹر آف ایکسیلینس کا افتتاح کر کے بھون چوک سے گزریں تو یہاں ان پر لیگیوں نے خوب گل پاشی کی۔ یونیورسٹی آف چکوال میں پنڈال سجا ہوا تھا۔ چکوال کے اراکینِ اسمبلی یہ سوچ کر پہلی قطار میں بیٹھے کہ ملکۂ پنجاب کے پہلو میں ان کے علاوہ کوئی اور جچ ہی نہیں سکتا۔ تاہم ملکۂ کے ایک اہم رتن رانا سکندر حیات نے چکوال اور تلہ گنگ سے اراکینِ اسمبلی کو یہ کہہ کر پہلی قطار سے دوسری قطار میں بھیج دیا کہ وزیرِ اعلی کے ساتھ وہ بچیاں بیٹھیں گی جن کے لیے تقریب سجائی گئی ہے۔ تاہم وزیرِ اعلی پنجاب کی ایک وزیرِ خاص کی نظر دربارِ شریف کے تان سین پر پڑ گئی جو دوسری قطار میں اراکینِ اسمبلی کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ مریم اورنگزیب نے فوراً اس اہم ہستی کو پہلی قطار میں بلا لیا۔ ضلع کے واحد تمغہ امتیاز پتر کار کے مطابق دربارِ شریف کے تان سین پھر آخری وقت تک پہلی قطار میں وزرا کے ساتھ بیٹھے رہے اور اس سعادت کو انہوں نے اس جملے میں بیان کیا، "یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے” ۔

مقامی صحافیوں کو اس تقریب سے دور رکھا گیا اور یہ فیصلہ بالکل درست تھا کہ آج کل صحافی کم اور کھچیں زیادہ ہیں۔

رانا سکندر حیات صاحب نے نقابت کی ذمہ داری بھی خود سنبھالی۔ ان کی آواز سن کر میرے ذہن میں بار بار یہ خیال آیا کہ رانا صاحب اگر موسیقی کے میدان میں قسمت آزماتے تو کیا ہی اچھے گلوکار بنتے۔

ملکۂ پنجاب کا خطاب پینتالیس منٹ پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے اپنی حکومت کے کارہائے نمایاں گنوائے، اڈیالہ جیل میں گزرے ہوئے اسیری کے ایام کی صعوبتوں کو یاد کیا اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ ان پینتالیس منٹوں میں سامنے بیٹھے ہوئے اپنی جماعت کے پانچ اراکین صوبائی اسمبلی اور دو اراکینِ قومی اسمبلی اور ایک سابقہ سینیٹر میں سے کسی کا نام تک نہ لیا۔ مانا کہ سامنے بیٹھے ہوئے سات اراکینِ اسمبلی فارم 47 والے تھے لیکن ملکۂ پنجاب خود کون سا فارم 45 والی ہیں؟

دورانِ خطاب ملکۂ پنجاب کی نظر چکوال کی ڈپٹی کمشنر سارہ حیات پر پڑی۔ ۔ انہیں سٹیج پر بلا لیا۔ لیکن جس لہجے سے بلایا اس لہجے کو انگریزی میں Condescending tone کہتے ہیں۔ اردو میں آپ اسے تحکمانہ، تکبرانہ یا حقارت آمیز لہجہ کہہ لیں۔ اس پر مستہزاد یہ تھا کہ ہماری ڈپٹی کمشنر صاحبہ ملکۂ پنجاب کے منہ سے اپنا نام سن کر پھولے نہیں سما رہی تھیں۔

اس سے پہلے ملکۂ پنجاب کی نگاہِ کرم ایک طالبہ پر پڑی جو ایک پلے کارڈ لہرا رہی تھی اور اس پلے کارڈ پر انگریزی میں یہ لکھا ہوا تھا، .Madam I want to hug youملکۂ پنجاب نے اس بچی کو اپنے پاس بلا لیا۔ اس طالبہ کو یہ توقع نہیں تھی کہ ملکہ کی نظر اس کے پلے کارڈ پر پڑ جائے گی۔ بچی نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ اوڈھروال سے ہے اور اس کی ماں گاؤں گئی ہوئی ہے۔ بچی نے بتایا کہ اس کی ماں نے یہ کہا تھا کہ مریم سے ملو تو اس کا ماتھا چومنا اور ماتھا چوم لیا گیا۔ ملکہ نے بچی سے پوچھا کہ کیا تمہیں لیپ ٹاپ ملا ہے۔ بچی نے جواب دیا کہ نہیں ملا۔ ملکہ نے اپنی ٹیم کے ایک علی نامی شخص کو آواز دی اور علی صاحب ممکنہ فرمان کو سمجھ گئے۔ یوں اس بچی کو تقریب کے بعد لیپ ٹاپ سے نواز دیا گیا۔ کئی لوگوں نے اس عمل کو ایک خود ساختہ ڈرامہ سمجھا۔ لیکن حقیقت میں یہ ڈرامہ نہیں تھا۔ مریم کا ماتھا چومنے والی بچی یونیورسٹی آف چکوال میں بی ایس اکنامکس کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ ہے۔ آبائی گاؤں آڑہ کے ساتھ واقع ڈھوک گجر ہے۔ ڈھوک گجر کا یہ خاندان آج کل اوڈھروال بائی پاس کے قریبی محلے میں آباد ہے۔ بچی کا نام لینے کی یہاں ضرورت نہیں لیکن اتنا بتانا ضروری ہے کہ یہ بچی اور اس کی والدہ سچ میں مریم نواز کی پرستار ہیں۔ ڈھوک گجر کی یہ بچی ایک درمیانے درجے کی طالبہ ہے جو لیپ ٹاپ سکیم یا ہونہار سکالرشپ سکیم کے لیے اہل نہیں تھی۔ لیکن بچی کی قسمت دیکھیں کہ ملکۂ پنجاب کی اس پر نظر پڑ گئی اور بچی نے جذباتی انداز سے ملکہ کا ماتھا چوم لیا۔ سو وہ بچی جو اپنی تعلیمی قابلیت کی وجہ سے لیپ ٹاپ حاصل نہ کر سکی، ملکۂ پنجاب کا ماتھا چوم کر دو لاکھ روپے کا لیپ ٹاپ لے اڑی۔ یہ ہوتی ہے شہنشاہیت کہ جس کو چاہا اسے نواز دیا۔ اس بچی کے اپنے نصیب لیکن کیا وہ بچیاں جن کے لبوں کی رسائی ملکۂ پنجاب کی پیشانی تک نہ ہو سکی کیا وہ Daughters of a lesser God تھیں؟ اگر آپ اس بچی کے انداز اور جذبات سے اتنی مغلوب ہو ہی گئی تھیں تو اپنی جیب سے اسے لیپ ٹاپ دیتیں نہ کہ عوام کے پیسے سے۔ پھر ملکۂ پنجاب اُس بچی پر یہ عنایت کرنا بھول گئیں جس نے اپنے ہاتھ سے ملکہ کا سکیچ بنا رکھا تھا اور ملکۂ پنجاب کے بلانے پر انہیں پیش بھی کیا۔ اپنے مرشد پروفیسر چوہدری لیاقت علی کا شعر یاد آتا ہے،

وہ لوگ جن پہ کبھی آسماں نہ سایہ تھا
تو کیا وہ پیدا کسی اور ہی خدا نے کیے

پنجاب حکومت نے سال 2025 اور 2026 کے لیے تیس ارب روپے کی رقم صوبے کے ذہین بچوں کو لیپ ٹاپس دینے کی مد میں مختص کی ہے اور رواں مالی سال کے بجٹ میں پندرہ ارب اس ضمن میں مختص کر رکھا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ لیپ ٹاپس سکیم تمام طلبا کے لیے یکساں ہونی چاہیے تاکہ لیول پلینگ فیلڈ تمام طلبا کو میسر ہو سکے۔ طلبا میں لیپ ٹاپس بانٹنے کے لیے امتحانات میں اچھے نمبرز ہی واحد پیمانہ نہیں ہونے چاہیں اور نہ ہی قابلیت جانچنے کا واحد پیمانہ اچھے نمبرز ہو سکتے ہیں۔ پھر امیر گھروں کے بچے لیپ ٹاپس کیوں لیں جب ان کے والدین انہیں اچھے سے اچھے لیپ ٹاپس لے کر دے سکتے ہیں؟ پھر بارویں کلاس تک کے بچوں کو لیپ ٹاپس بالکل نہیں دینے چاہیں کہ کیا پتہ ان میں سے کتنے بچے بی ایس میں داخلہ لیتے بھی ہیں یا نہیں۔ جو صوبہ سیلاب سے تباہ حال ہو، کیا یہ بہتر نہیں کہ اس صوبے کے چند ہزار طلبا میں کور آئی سیون جیسے مہنگے لیپ ٹاپس بانٹنے کی بجائے اس صوبے کے تعلیمی اداروں میں آئی ٹی لیبز بنائی جائیں تاکہ سارے طلبا ان لیپ ٹاپس سے مستفید ہو سکیں، حتی کہ وہ بچیاں بھی کہ جن کے لب ملکۂ پنجاب کی پیشانی تک نہیں پہنچ سکتے؟

دوران تقریر بچیوں کو بلا کر گلے لگانا ملکۂ پنجاب اور ان کے مشیروں کی تدبیرِ خاص ہے کہ نوجوانوں کو اڈیالہ جیل والے قیدی نمبر 804 کے سحر سے بھی تو آزاد کرنا ہے۔

پونے گھنٹے کا خطاب ملکۂ پنجاب نے یونیورسٹی آف چکوال کے گراؤنڈ میں کیا لیکن ان پینتالیس منٹوں میں یونیورسٹی آف چکوال کی موجودہ حالتِ زار پر ایک لفظ نہ بولیں۔ یونیورسٹی کی حالت یہ ہے کہ سات زیرِ تعمیر عمارتوں پر تعمیراتی کام گزشتہ کئی ماہ سے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ یونیورسٹی میں لگ بھگ دو سو اساتذہ کی منظور شدہ آسامیاں ہیں اور حالت یہ ہے کہ اس وقت یونیورسٹی کے بیس ڈیپارٹمنٹس کے لیے صرف چونتیس اساتذہ موجود ہیں۔ طلبا کے لیے نہ تو مطلوبہ تعداد میں واش رومز بن سکے ہیں اور نہ ہی طلبا کے لیے پینے کے پانی کا کوئی مناسب انتظام ہے۔ کلاس رومز کی کرسیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، وائیٹ بورڈز نہیں ہیں، بلکسر جہاں مین کیمپس 941 کنال پر بننا ہے وہاں بھی تعمیراتی کام رکا ہوا ہے۔ ایک عمارت میں طلبا کے لیے پندرہ سو اور اساتذہ کے لیے ڈیڑھ سو ایگزیکٹیو کرسیاں وہاں بیکار پڑی ہوئی ہیں۔ ملکۂ پنجاب نے پونے گھنٹے کا خطاب چکوال شہر کے وسط میں کھڑے ہو کر کیا جس میں انہوں نے مختلف شہروں میں بنائے گئے ہسپتال گنوائے لیکن چکوال کے اس پانچ سو بیڈز کے ہسپتال کا زکر تک نہ کیا جو گزشتہ کئی سالوں سے اہلیانِ چکوال کے لیے ایک خواب بنا ہوا ہے۔ ملکۂ پنجاب چکوال شہر کے وسط میں سجے پنڈال میں پونا گھنٹہ اپنی فصاحت و بلاغت کے گل کھلاتی رہیں لیکن چکوال شہر کے اس واٹر سپلائی کے منصوبے پر ایک لفظ نہ بولیں جس کا وعدہ ان کے چچا جان نے آج سے بارہ برس اور ساڑھے چار ماہ قبل مئی 2013 میں چکوال شہر کے ریلوے گراؤنڈ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقد ہونے والے جلسے کے دوران چکوالیوں سے کیا تھا۔ چکوال کے شہری پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں جبکہ شہباز شریف نے چکوال شہر کے لیے پینے کے پانی کا ستاون کروڑ روپے کا جو منصوبہ 2014 میں منظور کیا تھا، آج گیارہ برس سے کھٹائی میں پڑا یہ منصوبہ اب دو ارب چودہ کروڑ بیس لاکھ روپے مانگ رہا ہے۔ ابھی اڑھائی ماہ قبل ملکۂ پنجاب نے سیلاب کی نذر ہونے والے چکوال کے مشرقی علاقے کا فضائی جائزہ لیا تھا لیکن اڑھائی ماہ بعد جب وہ چکوال آئیں تو اپنے ان وعدوں کا زکر تک نہ کیا جو اڑھائی ماہ قبل وہ چکوال کے ان لوگوں سے کر کے گئی تھیں جن کے گھر سیلاب کی نذر ہو گئے تھے۔

چکوال کی سات سڑکوں بشمول ناردرن بائی پاس کی تعمیر ایک معمہ بنی ہوئی ہے لیکن ملکۂ پنجاب نے ان سڑکوں کے متعلق ایک لفظ تک نہ کہا۔ ملکہ سے زیادہ ملکہ کے وفادار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے چکوال میں تعنیات افسران نے ملکہ کی آمد والے دن عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے مشینری بھون روڈ پر بھیجی۔ جیسے ہی ملکہ چکوال کی دھرتی سے آسمان کی طرف اڑیں تو یہ مشینری بھی بھون روڈ سے غائب ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق ملکۂ پنجاب کے اس دورے پر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو پانچ کروڑ روپے کا ٹیکہ لگا۔ یعنی پانچ کروڑ سرکاری خزانے سے گیا۔ ملکہ کی خاطر پنڈال سجانے کے لیے لاہور کی جس کمپنی نے یونیورسٹی کے گراؤند پر مارکی نصب کی، صرف اس مارکی کا ایک دن کا کرایہ چوبیس لاکھ روپے ہے اور یہ مارکی چار دن یہاں لگی رہی۔ مارکی کے اندر جو چلرز لگائے گئے ان کا کرایہ پینتیس لاکھ، صوفوں، کرسیوں اور میزوں کے پیسے الگ اور چار ہزار افراد کے کھانے کے پیسے الگ تھے۔ حالت یہ تھی کہ چار ہزار افراد کے لیے فروٹی جوس کے کینز سے بھرا ایک ٹریلا منگوایا گیا اور ہر کین پر ملکۂ پنجاب کے نام کی مہر ثبت کی گئی جیسے یہ کینز King Beverages Industries سے عوام کے پیسے سے نہیں بلکہ دربارِ شریف کے ذاتی خزانے سے منگوائے گئے ہوں۔ یہ پانچ کروڑ روپے ملکۂ پنجاب کے دورے پر وہ لگے جو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دیے لیکن ان کروڑوں کا حساب کون لگائے جو ملکۂ پنجاب کی سیکورٹی، شہر کی وقتی تزئین و آرائش اور ہزاروں طلبا اور سینکڑوں اساتذہ کے آنے جانے پر لگے؟
کیا ایک ایسا صوبہ جس کی معاشی حالت ابتر ہو وہ حکمرانوں کے ایسے مہنگے دوروں کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیا ان دوروں کے بغیر لیپ ٹاپس طلبا کے حوالے نہیں کیے جا سکتے؟ کیا الیکٹرک بسوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح متعلقہ اضلاع کے اراکینِ اسمبلی نہیں کر سکتے؟ یا ہر جگہ ملکۂ پنجاب کا ہیلی کاپٹر اترنا نا گزیر ہے؟

کاسمیٹک پراجیکٹس ن لیگ کا خاصہ رہے ہیں کہ ایسے منصوبوں سے فوراً عوامی پذیرائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ جماعت جب دیکھتی ہے کہ پولیس کا محکمہ اس سے ٹھیک نہیں ہو گا، عدالتی نظام سیدھا نہیں ہوگا تو یہ جماعت کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ جیسا حل تلاش لاتی ہے۔ جب یہ جماعت دیکھے گی کہ بلدیہ کا محکمہ صفائی ٹھیک نہیں کر رہا تو حل کسی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی شکل میں سامنے آئے گا۔ مطلب پہلے سے قائم اداروں کو نہ ہی ٹھیک کرنا ہے اور نہ ہی ختم کرنا ہے، الٹا نئے ادارے بنانے ہیں۔ پی ٹی آئی کا زکر ہی کیا کہ اس جماعت نے جو تباہی چار سالوں میں کی ہے ن لیگ وہ تباہی چالیس سالوں میں بھی نہ کر سکی۔
پی ٹی آئی والے یہ سن کر یقیناً دشنام طرازی پر اتریں گے کہ اس محاز پر ان کا مقابلہ کسی اور جماعت کے کارکنان نہیں کر سکتے لیکن ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک تو عمران خان کے پاس بہت کچھ کر گزرنے کی پوٹینشل تھی کہ وہ عوام میں مقبول تھے، لیکن انہوں نے یہ پوٹینشل ضائع کر دی اور یہ ہی بڑی تباہی ثابت ہوئی۔ اوپر سے بزدار جیسے نمونے کو پنجاب کا قلمدان سونپ دیا۔ حماقتوں کی فہرست طویل ہے اور اب قوم کی حالت یہ ہے کہ پاک سر زمین کے افق پر دور دور تک کوئی عوامی لیڈر نظر نہیں آتا۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور اشرافیہ ابھی تک کالونیل مائنڈ سیٹ میں مبتلا ہیں۔ سرکاری افسران عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں جبکہ حکمران ان سرکاری افسران کو اپنے ذاتی ملازم سمجھتے ہیں۔ مقابلے کا امتحان پاس کرنے والے فرانز فینن، البرٹ میمی اور ایڈورڈ سعید کو کیوں نہیں پڑھتے؟ مقابلے کے امتحان کے سلیبس میں Orientalism، The Wretched of the Earth اور The Colonizer and the Colonized جیسی کتابیں کیوں شامل نہیں کی جاتیں؟
ایک صدی تک نو آبادیاتی نظام کے زیرِ تسلط رہنے والی قوم کے طلبا کو یہ کتابیں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بطور لازمی مضامین پڑھائی جانی چاہیں تاکہ قوم کے معماروں کے اذہان سے کالونیل مائنڈ سیٹ کا کیڑا نکل سکے اور بہترین ذہن سازی کی راہ ہموار ہو۔
چاپلوسی، قصیدہ گوئی اور مدح سرائی کی دوڑ ہے۔ اس دوڑ میں کہیں چکوال میں تعنیات ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران رانا سکندر حیات کی چاپلوسی میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کہیں رانا سکندر جیسے وزرا ملکۂ پنجاب کی مدح سرائی میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ بیوروکریٹس بھرے مجمعے میں حاکموں کے حقارت آمیز لہجے میں بھی اپنے زکر کو اعزاز سمجھ رہے ہیں اور درباری پہلی صف میں وزرا کے ساتھ بیٹھنے کو ایک مشہور نعت کے اس مصرعے میں بیان کر رہے ہیں، "یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے”۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے