کالم

جج کا ضمیر اور قوم کا فیصلہ کن موڑ، شرافت علی ایڈووکیٹ کی تحریر

نومبر 14, 2025

جج کا ضمیر اور قوم کا فیصلہ کن موڑ، شرافت علی ایڈووکیٹ کی تحریر

قانون کے پیشے میں ہمیں اپنے سینئرز بہت جلد سکھا دیتے ہیں کہ ہر مقدمہ دراصل ایک تحقیقی مشق ہوتا ہے. ایک ایسا مرحلہ جو ہماری برداشت، دیانت، تجزیاتی صلاحیت اور قانونی علم کو پرکھتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عدالتیں ہی اصل میں قانون کی جامعات ہیں، اور جج اپنی شخصیات سے نہیں بلکہ اس فقہ سے پہچانے جاتے ہیں جو وہ اپنے فیصلوں کی صورت میں چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کے فیصلے وہ درسی کتابیں بنتے ہیں جن سے آنے والی نسلیں انصاف، طاقت اور آئینی نظام کو سمجھتی ہیں۔

پاکستان کے آئینی منظرنامے کو گزشتہ دہائیوں میں جن ججوں نے گہرائی سے متاثر کیا ہے، ان میں جسٹس سید منصور علی شاہ نمایاں مقام رکھتے ہیں.ان کے فیصلوں نے عدالتی نظم و نسق اور ادارہ جاتی دیانت داری کو مضبوط کیا. مثال کے طور پر ازخود نوٹس نمبر 7/2017 میں جہاں انہوں نے جدید عدالتی مینجمنٹ اور شفافیت کے اصول متعارف کروائے۔ انہوں نے درج ذیل شعبوں میں مضبوط فریم ورک قائم کیے:
بچوں کے تحفظ اور نوعمری کے انصاف کے لیے: ازخود نوٹس نمبر 4/2021
خواتین کے تحفظ اور قانونی چارہ جوئی کے لیے: 405 PLD 2018 SC (خدیجہ صدیقی کیس)
معذور افراد کے حقوق کے لیے: عمران احمد بنام پنجاب پبلک سروس کمیشن (2022 SCMR 1863)
مذہبی اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کے لیے، مساوات پر مبنی متعدد آئینی فیصلوں کے ذریعے۔

ان برادریوں کے لیے ان کی فقہ ہمیشہ پاکستان کی قانونی تاریخ کا حصہ رہے گی. آئینی حقوق کی ڈھال اور مستقبل میں حقوق پر مبنی اصلاحات کی بنیاد۔
ایک وقت تھا کہ انہیں پاکستان کے چیف جسٹس بننے کا مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا، لیکن سیاسی چالوں نے ان کی پیشہ ورانہ پیش رفت کو موڑ دیا اور وہ اس منصب تک نہ پہنچ سکے۔ آج، جب وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے ایک غیرمعمولی قدم اٹھایا ہے. استعفیٰ۔ یہ فیصلہ آئینی اور ادارہ جاتی سطح پر نہایت گہرا اثر رکھتا ہے۔

جسٹس شاہ نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے—ایک ایسی ترمیم جسے وہ عدلیہ کی آزادی کے منافی، عدلیہ کو مقننہ اور انتظامیہ کے تابع بنانے والی، اور اختیارات کی آئینی تقسیم کو کمزور کرنے والی سمجھتے ہیں۔ جو لوگ عدالتوں کو سیکھنے کا مقام—یعنی جامعات—سمجھتے ہیں، ان کے لیے ایک سینئر جج کے اس لمحے کی تشریح میں بہت کچھ سیکھنے کو ہے۔

وہ اپنی پوزیشن نہایت وضاحت سے بیان کرتے ہیں:
“ستائیسویں آئینی ترمیم آئینِ پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے۔ یہ سپریم کورٹ کو تحلیل کرتی ہے، عدلیہ کو انتظامیہ کے تابع بنا دیتی ہے، اور ہمارے آئینی جمہوری نظام کے دل پر ضرب لگاتی ہے—جس سے انصاف مزید دور، مزید نازک اور طاقت کے سامنے مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی وحدت کو توڑ کر یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مفلوج کر دیتی ہے، اور ملک کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آئینی ڈھانچے کی ایسی مسخ شدگی دیرپا نہیں رہتی اور بالآخر واپس پلٹتی ہے-مگر اس سے پہلے اداروں پر گہرے زخم چھوڑ جاتی ہے۔”

یہ الفاظ ایک ایسے آئینی لمحے کی عکاسی کرتے ہیں جو محض ایک فرد کے استعفیٰ سے کہیں بڑا ہے۔ یہ اس بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی بےچینی کا اظہار ہے کہ اختیارات کی تقسیم کوئی نظریاتی بحث نہیں. یہ ہر جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

متوازن نقطۂ نظر یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ پارلیمنٹ عدالتی اصلاحات، بہتر احتساب یا چیک اینڈ بیلنس کے مضبوط ڈھانچے بنانے کی قانونی اختیار رکھتی ہے۔ آئینی جمہوریتیں ارتقاء سے گزرتی ہیں، اور اصلاحات بذاتِ خود غیرمستحکم کرنے والی نہیں ہوتیں۔ لیکن ایسی اصلاحات جو سپریم کورٹ کی داخلی خودمختاری کو متاثر کریں، یا طاقت کا توازن انتظامیہ یا مقننہ کے حق میں جھکا دیں، سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ یہ معاملہ سیاسی پسند ناپسند کا نہیں بلکہ آئینی حکمرانی کے پورے ڈھانچے کا ہے۔

لہٰذا جسٹس شاہ کا استعفیٰ صرف ایک انفرادی فیصلہ نہیں یہ ایک قانونی، آئینی اور تاریخی اشارہ ہے۔ یہ قانونی برادری کو یاد دلاتا ہے کہ عدلیہ کی آزادی صرف آئینی الفاظ سے قائم نہیں رہتی؛ یہ ادارہ جاتی ڈھانچے، آئینی کلچر، اور ان ججوں کے ضمیر سے قائم رہتی ہے جو قانون کی تشریح کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔

چاہے کوئی ان کی آئینی تشریح سے اتفاق کرے یا نہ کرے، ان کا جانا وکلاء، قانون سازوں اور شہریوں سب کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے—کہ انصاف کو مضبوط، غیرجانبدار اور قابلِ رسائی رکھنے والی اصل قوتیں کون سی ہیں۔ عدالتیں قانون کی جامعات نہیں رہ سکتیں اگر ان کی خودمختاری کمزور ہو جائے، اور جج حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے اگر ان کی ادارہ جاتی پشت کمزور پڑ جائے۔

آخر میں، جسٹس منصور علی شاہ محض سپریم کورٹ میں ایک خالی جگہ چھوڑ کر نہیں جا رہے وہ پاکستان کے سامنے ایک گہرا سوال چھوڑ رہے ہیں:
ایک جمہوریت کتنی آئینی کٹوتیوں کو برداشت کر سکتی ہے قبل اس کے کہ زخم مستقل ہو جائیں؟

کیا یہ آئینی ترمیم واقعی غربت کم کرنے، روزگار پیدا کرنے اور عام پاکستانیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری تھی یا یہ صرف بالادست طبقوں کے درمیان طاقت کی نئی بندر بانٹ تھی؟

کیا اس ترمیم کے نتیجے میں کسانوں کو کوئی حقیقی فائدہ ملے گا کھاد، زرعی ادویات یا بیجوں پر سبسڈی یا وہ ہمیشہ کی طرح زمین پر پسینہ بہاتے رہیں گے اور فائدہ کوئی اور اٹھائے گا؟

کیا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، مراعات یا پنشن میں اضافہ ہوگا یا بیوروکریسی سے صرف یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ ایک اور آئینی تجربے کے نتائج برداشت کرے؟

کیا یہ ترمیم پاکستان میں یکساں، قابلِ رسائی اور معیاری تعلیم کا نظام لائے گی یا تعلیمی ناہمواریاں وہیں موجود رہیں گی اور صرف آئینی ڈھانچے کی شکل بدلے گی؟
کیا اس ترمیم سے طبقاتی فرق ختم ہو جائے گا یا بااختیار طبقے مزید طاقت ور اور عام شہری مزید غیرمتعلق ہوتے جائیں گے؟

کیا یہ ترمیم عام شہریوں کے لیے پارلیمان کے دروازے کھولے گی تاکہ وہ حقیقی معنوں میں قانون ساز بن سکی یا جمہوری عمل بدستور چند مخصوص طبقات تک ہی محدود رہے گا؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے