کالم

صرف اپنے حصے کی ٹینشن لینی چاہیے، ثنااللہ گوندل ایڈووکیٹ کا کالم

دسمبر 3, 2025

صرف اپنے حصے کی ٹینشن لینی چاہیے، ثنااللہ گوندل ایڈووکیٹ کا کالم

مشرقی روایات اور میرا جسم میری مرضی:
ہم سب سماج کے دباؤ میں زندہ رہتے ہیں۔ مذہب کا مزاج بھی پاکستان میں باقی دنیا سے مختلف ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنے بچوں کو کامیاب اور خوش دیکھنا چاہتے ہیں- اور زیادہ تر بچے بھی کامیاب اور خوش ہی رہنا چاہتے ہیں- لیکن اس کے باوجود والدین اور بچوں میں اختلاف ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ جوانی جوش اور جرات کا نام ہے جبکہ پڑھاپا احتیاط اور خدشات میں سےگھرا ہوتا ہے۔ اس لیے کامیابی بلکہ خوشی کے معیار اور طریقے دونوں کے مختلف ہوسکتے ہیں
مثلا میں بچوں کی انفرادی آزادی کا قائل ہوں لیکن اس کے باوجود میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے بچے فارم ہاؤسز کی ڈانس پارٹیوں پر جائیں۔ کیونکہ وہاں اکثر ڈرگز کا استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ دوسرا ان پارٹیوں میں بگڑے رئیس زادے آتے ہیں۔ جن میں سے بہت سوں کے والدین کے ذرائع آمدن مشکوک ہوتے ہیں۔ اور ان پارٹیوں میں لڑائی جھگڑے اور فائرنگ وغیرہ بھی ہو جاتی ہے۔ اور پھر ہمارے بچے جب اپنے سے امیر لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں تو وہ بھی ان جیسی گاڑیوں، گھڑیوں، ڈالوں اور پستولوں کے شوق پال سکتے ہیں۔ جن کے لیے وسائل نہ ہونے کی وجہ وہ احساس کمتری کا شکار ہوسکتے ہیں یا پھر خود جلدی سے ڈھیر سارے پیسے کمانے کے لیے جرم کے رستے پر نکل سکتے ہیں۔

انسانی حقوق، فرد کی آزادی، آزادی اظہار اور فری مارکیٹ کے جدید مغربی نظریات تھیوری میں ٹھیک ہیں۔ لیکن خود مغرب بھی ان کی پابندی اتنی ہی کرتا ہے جتنی انھیں سوٹ کرتی ہے۔ ٹرمپ تو کھلے عام ان سارے نظریات کو درہم برہم کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے بھی یہ چیزیں مطلق نہیں تھیں۔ جیسے فلسطینیوں، کالوں، دوسری نسلوں کے حقوق گوروں کے برابر عموماً نہیں ہوتے تھے اظہار کی آزادی بھی مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ لڑائی میں آپ نے دیکھ لی ہوگی۔ اسرائیل پر تنقید کرنے کی یوٹیوب ، ٹویٹر اور فیس بک پر کتنی آزادی ہے یہ تو آپ سب کو الگورتھم نے اچھی طرح سمجھا دیا ہوگا۔ نفرت اور شدت پسندی پھیلانے کی آزادی کی اجازت دینا کسی بھی معاشرے اور ریاست کے لیے مسئلہ ہوسکتا ہے۔

تھیوری میں ان تمام چیزوں میں فرد آزاد ہونا چاہیے جن کا اثر دوسروں پر نہ پڑتا ہو۔ اشاروں اور سپیڈ لمٹ کی پابندی تو دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے ضروری ہے لیکن سیٹ بیلٹ باندھنے کی پابندی کا تو دوسروں کی حفاظت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ اسی طرح ایک بالغ فرد دوسرے کو کوکین یا آئس بیچنا چاہے اور دوسرا خریدنا چاہے تو اس پر معاشرے اور ریاست کو کیا تکلیف ہے؟ اور اگر فری مارکیٹ ہے تو پھر بینکوں کو کیوں ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ یا پرائیویٹ پونزی سکیم یا جوئے کے کاروبار پر کیوں پابندی ہوتی ہے۔ ہر فرد آزاد ہے اپنی مرضی سے اپنے پیسے کا جو چاہے استعمال کرے۔ جتنے مرضی سود پر دے۔یا ڈبل شاہ کو دے۔ ریاست کو کیا تکلیف ہے؟

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فرد کے بہت کم فعل ایسے ہیں جن کا معاشرے یا خاندان پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو۔ گھر میں کوئی فرد اگر نشے کا عادی ہو جائے تو پورے خاندان کی معیشت اور جذباتی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ لوگ اگر نشوں پر لگ جائیں اور اپنی آمدنی سے زیادہ جوئے یا پونزی سکیم میں لٹا دیں تو بھی پورا خاندان بھگتتا ہے۔ معاشرے میں اگر سب لوگ نشئی، بے روزگار یا سود خوروں کے ہاتھوں یرغمال ہوں تو ریاست اور معاشرے دونوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے لوٹ مار اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ بچے رل جاتے ہیں۔ اب تو یہ بھی ساری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ ہم اگر اپنے گھر کی ٹاہلی کو بھی آگ لگادیں تو اس کا اثر پوری دنیا کے ماحول پر پڑتا ہے۔ آپ بھلے ویکسین کو فراڈ یا غیر ضروری سمجھتے ہوں لیکن معاشرہ یا ریاست آپ کو وائرس بم بن کر گھومنے کی اجازت نہیں دے گی-

تو دنیا بھر کے دستوروں میں جتنی آزادیاں دی گئی ہیں ان میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ آزادیاں قانون کے دائرے کے اندر ہوں گی۔ اور آپس کی بات ہے کہ کئی دفعہ قانون کا دائرہ آئین کے دائرے کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیتا ہے۔ یعنی آئین میں اتنی آزادی دی نہیں جاتی جتنی قانون کے ذریعے واپس لے لی جاتی ہے۔

اوپر والی ساری تمہید اس لیے باندھی ہے تاکہ لو ان ریلیشن شپ پر ہونے والی بحث میں اپنا لچ تل سکیں۔ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ قانون یا شرع میں لو ان ریلیشن شپ کو جائز قرار دینا اتنا مشکل نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ متعہ، مسیار، زبانی نکاح، لونڈیوں کی اجازت اور مفتی قوی کے فتووں کی روشنی میں یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں۔ اور اگر اس اصطلاح کا عربی متبادل استعمال کیا جائے تو مزید سہولت ہو جائے گی۔ جس طرح عربی اصطلاحات سے بینکنگ کو مسلمان کیا جاتا ہے۔

اب آتے ہیں لو ان ریلیشن شپ کے مشرقی اقدار یا غیرت سے ٹکراؤ کی طرف۔ تو ہمارے خیال میں بے حیائی اور بے راہ روی کے ہمارے زیادہ تر خدشات اور اقدار کا تعلق محظ اس خوف سے ہے کہ کہیں ہماری عورتیں بھی ویسی نہ ہو جائیں جیسے کہ ہم خود ہیں۔ یعنی
خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں

ہمارے سماج کے بعض علاقوں میں تسلیم شدہ ہم جنس پرستی، مدارس میں بچوں کے ساتھ زیادتی، بادشاہوں اور نوابوں کے حرم، ہیرا منڈیاں، بادشاہوں کے خواجہ سرا، لونڈیاں اور عطار کے لونڈے سب قابل قبول رہے ہیں۔

لیکن میرا جسم میری مرضی سے ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے بچے بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ دوسروں پر کنٹرول یا اختیار اور خاص طور اپنی عورتوں سمیت اپنی ملکیت پر اختیار کھو دینے کا خوف ہمیں بے چین کر دیتا ہے۔

سرسید کو جب کسی (شاید تہذیب اخلاق والے اخلاق احمد دہلوی) نے عورتوں کے لیے چھاپا گیا رسالہ دکھایا تھا۔ تو وہ بھڑک اٹھے کہ مسلمانوں سے حکومت چھن گئی، علم چھن گیا، جاگیریں چھن گئیں اب تم چاہتے ہو کہ ہماری عورتیں بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں؟

کہنے کا مطلب یہ ہے اوپر دی گئی شرعی اور مشرقی مثالوں اور روایات یعنی لونڈیاں، خواجہ سرا اور مدارس کے حالات وغیرہ کے حالات سے اگر قیامت نہیں آئی تو لو ان ریلیشن شپ یا میرا جسم میری مرضی سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔
کرنی سب نے مرضی ہے لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنے حصے کی ٹینشن لینی چاہیے دوسروں کی مرضی اور جسم کی ٹینشن لینے سے بندہ تھک جاتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے