کالم

اشتراکیت کی فکر سے مالامال ناکام ریاست، کیوبا سے عمر فاروق کا کالم

دسمبر 12, 2025

اشتراکیت کی فکر سے مالامال ناکام ریاست، کیوبا سے عمر فاروق کا کالم

اشتراکیت کی معاشی فکر کی بنیاد تضادات اور تقسیم کا رد ہے۔ یہ کتابی اعتبار سے ایک خوبصورت فلسفلہ ہے۔ مگر عملی طور پہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں اب اس کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بہرحال کیوبا میں یہ نظام ابھی رائج ہے۔ خیر وہاں بھی پچھلے ہفتے ہم اسے نزع کی حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں۔

مجھے یاد ہے جب ہم نے ہائی اسکول ختم کیا تو ہم میں ایک دو دوست کیوبا میڈیسن پڑھنے گئے تھے۔ تب کیوبا میڈیسن کی پڑھائی کے لئے ایک اچھی جگہ تھی۔ اب نہیں رہا۔

جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو ہوشیار لوگوں کو بھری محفل میں زچ کرنے کے لئے پوچھتے کہ کون سا تمہارا ایسا اسلامی ملک ہے جو ترقی میں مثالی حثیت رکھتا ہو۔

کوئی جواب نہ ملتا۔

پھر ہم قہقہے لگاتے۔ ظاہر ہے وہ قہقہے اہنی کم علمی پہ تھے۔ خود چھوٹے تھے تو سوال بھی چھوٹے تھے۔

اسی طرح کمیونزم یا سوشلزم کا پوچھا جاتا تو ہمارے دوست جو ڈاکٹر لال خان مرحوم کے کنونشن میں جایا کرتے تھے وہ بھرپور آواز میں کہتے "کیوبا”۔
ہم مان لیتے تھے۔

یقین کریں کہ ہم واقعی اسی بے وقوفی کے ساتھ بڑے ہوئے تھے کہ دور کہیں کیوبا ایک توپ ملک ہے۔ جس نے امریکہ کو آگے لگا رکھا ہے۔

انٹرنیٹ میسر تو تھا مگر اتنی فراوانی نہیں تھی۔ دس روپے کے کارڈ کے ساتھ دو جو ڈھائی منٹ انترنیٹ ملتا تھا اس کا مصرف کیوبا جاننے سے بہت بڑھ کر تھا۔

لہذا کیوبے کے اچھے حالات کا واحد حوالہ ڈاکٹر لال خان کے کنونشنز تھے۔ اور وہاں ملنے والا لٹریچر۔

ہم بچپن سے ہی تضادات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یقین نصیب ہی نہیں ہوا۔ بچپنے میں میں ہم مدرسے پابندی سے جاتے تھے۔ لیکن گورنمنٹ کالج کے کھبوں کو سننے کا اشتیاق بھی رہتا تھا۔ رائے وینڈ اجتماع میں جاتے تو اگلی شام محفل تھیٹر یا الفلاح سے برامد ہوتے تھے۔ اسی طرح مکے، مدینے جانے کے ساتھ ساتھ کیوبے جانے کی خواہش بھی دل میں چلتی پھرتی رہتی تھی۔
تمہید لمبی ہو گئی۔ بات کی طرف اتے ہیں۔

پچھلے ہفتے کیوبا جانے کا اتفاق ہوا۔ ایٗرپورٹ پر پہنچتے ہی اندازہ ہو گیا کہ ڈاکٹر تیمور رحمان کو کیوبا آئے ایک عمر ہو چکی ہو گی۔ ہمارے دوست ڈاکٹرعمار جان کی تصویریں بھی صدر سے ملتے ہی نظر آئیں۔ کیوبے کی عوام سے بھی وہ ملے ہوں گے لیکن انٹرنیٹ پہ چوں کہ تصویریں نہیں ملیں تو ہم اس امکان کو رد کرتے ہیں۔

اب اپنے مشاہدات کی طرف آتے ہیں۔

بہت معذرت میں نہ جانے کیوں اتنا وثوق سے کہہ رہا ہوں مگر کیوبا ایک ناکام ریاست ہے۔ مفلسی ہر کھڑکی، ہر دروازے سے جھانک رہی ہے۔ بزرگ خاموش ہیں۔ نوجوان مایوس ہیں۔ بچے کمزور ہیں۔ ہوانا کی گلیوں میں ساز بج رہے ہیں مگر بجانے والے اکتا چکے ہیں۔ گلوکار کے لئے گانے کی واحد وجہ ڈالرز میں ملنے والی بخشیش ہے۔ بخشیش لینے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ لیکن جیسے کیوبے کے گلوکار لے رہے ہیں اس پر بات ہو سکتی ہے۔

کرپشن اس معاشرے میں گلیوں تک سرائیت کر چکی ہے۔ یوں لگتا ہے کرپشن نما نوسربازیاں اس سماج کا باقائدہ حصہ ہیں۔

کیسے؟

ہمارے پاس کیش نہیں تھا۔ نہ ڈالر اور نہ ہی کیوبن کرنسی، پیسو۔ ہم نے اپنے ڈیبٹ کارڈ سے کچھ ڈالرز بینک سے تبدیل کروائے۔ ایک کینیڈین ڈالر کے بدلے نوے کیوبن پیسو ملے۔ ٹھیک ہے اتنے ہی ملتے ہوں گے۔

اگلے روز شہر میں نکلے تو ایک پکے رنگ کے لڑکے نے کندھے سے کندھا ملا کر کان میں کہا:

ڈالر چینج؟ گڈ ریٹ۔

پوچھا کتنے؟

کہا کینیڈین ڈالر کے دوسوساٹھ پیسو۔ امریکی ڈالر کے چار سو بیس۔

یار بینک کے مقابلے میں یہ بہت فرق نہیں کیا؟

ہے تو ہے لیکن بس یہی ہے اب۔ ہفتہ بھر اسی کے ساتھ جینا ہو گا۔ کوئی تین سو فیصد فرق کے ساتھ ۔ وہاں ایک شغل اور ہوا۔ میں شہر سے واہس اپنے ہوٹل جانے کے لئے بس کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک ٹیکسی والا رکا۔ کوئی پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ مجھے پوچھا میرے ساتھ جانا ہے۔

میں نے کہا میرے پاس کیش نہیں۔

کوئی بات نہیں، اس کا حل ہے میرے پاس۔ تم مجھے کارڈ سے پچاس ڈالر دو میں تمہیں اچھے ریٹ پر کیش دے دیتا ہوں۔

تمہارے پاس کارڈ سے پیسے لینے والا سین ہے۔

ںہیں۔

تو پھر؟

میرے پاس اس کا حل ہے۔

کیا؟

ہم ایک پیٹرول پمپ پر جائیں گے۔ وہاں کارڈ سے تم میری گاڑی میں پیٹرول ڈلوانا کارڈ سے۔ وہاں کارڈ کی سہولت موجود ہے۔ اور میں تمہارا کرایہ کاٹنے کے بعد تمہیں کیش دے دوں گا۔

مگر مجھے نہیں لگتا تمہاری گاڑی میں چالیس ڈالر کا پیٹرول آئے گا۔ کم پیسوں میں ٹینکی بھر جائے تو پھر۔

اس کا حل ہے میرے پاس۔

کیا؟

کیونکہ یہ میرا روز مرّہ کا کام ہے تو میں نے ایک بڑی بوتل گاڑی کے ٹرنک میں رکھی ہے۔

دیکھ رہے ہیں اکانومی کیسے چل رہی ہے؟ برے انداز میں۔

اب ہر راہ چلتا بندہ آپ کو دو چیزیں بیچ رہا ہو گا، سستے داموں کیوبن پیسو۔ اور سگار۔

سگاروں کی سنیں۔

سگار کی پیداوار اور خرید و فروخت صرف ریاست تک محدود ہے۔ مگر عوام سگار رکھ سکتے ہیں۔ کیوبن سگار مہنگے ہیں۔ کوہیبا ان کا ایک اچھا برانڈ ہے۔ لیکن جو اصلی کوہیبا ایک سگار چالیس پچاس ڈالر کا ہو گا وہی جعلی کوہیبا کا پچیس سگار کا ڈبہ پچاس ڈالر کا مل جاتا ہے۔ ہمیں ایک وریڈیرو شہر میں گشت کے دوران ایک خالہ ملی۔ ٹوٹی پھوتی انگریزی میں کہا کہ اوریجنل سگار چاہئیں تو آ جاو میرے ساتھ۔۔ ہم ساتھ ہو لیے۔ خالہ اندر گلی میں اپنے گھر لے گئی۔ جب ہم وہاں اس کا بیٹا بھی موجود تھا۔ گھر بمشکل چار سو فٹ کا ہو گا۔ حالت زار تھی۔ قابلِ ترس۔ ستر اَسی سالہ خاتون کو اگر اپنی باقی زندگی جینے کے لئے جعلی اور بلیک کے سگار بیچنے پڑ رہے ہیں تو یہ کیسی فلاحی ریاست ہے۔

خیر سنا تھا کیوبے کے ننانوے فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ بالکل ہیں لیکن تعلیمی نظام خود اب تبدیلی کا خواہاں ہے۔ تعلیم کا نظام کا حال ملاحظہ ہو۔

جہاں ہم رہ رہے تھے وہاں ایک بہت لائق فائق لڑکی ملازمت کر رہی تھیں۔ فر فر انگریزی بول رہی تھیں۔ انہیں یونیورسٹی کی ڈگری مکمل کیے سال بھر ہوا ہے۔ کیوبا میں یونیورسٹی کی تعلیم مفت ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس کے بعد تعلیم کا محکمہ آپ کو جہاں بھی بھیجے گا وہیں نوکری کرنا ہو گی۔ لازمی۔
انہوں نے اسپیچ تھیراپی میں چار سالہ ڈگری لی۔ محض ڈگری نہیں بلکہ میگنا کم لاڈ ڈگری۔

اس کے بعد دور انہیں ایک اسکول میں بھیج دیا گیا۔ گو کہ وہ اسپیچ تھراپی پریکتس کرنا چاہتی تھیں مگروہ پڑھانے میں خوش تھیں۔ البتہ اسکول کی ہیڈ ماسٹر ان سے خوش نہیں تھیں اس لئے انہیں چلتا کیا۔ وہ پڑھانے میں بھی خوش تھیں لیکن اسکول سے نکالے جانے پر بھی خوش تھیں۔ کیونکہ اب سرکار نے خود انہیں نوکری سے نکالا ہے تو وہ اب اپنی مرضی کی نوکری کر سکتی ہیں۔
بطور استانی انکی نوکری ہفتے میں چالیس گھنٹے کے برابر تھی۔ باقی دنیا میں بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔

ان کی تنخواہ تین ہزار چار سو پیسو تھی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اوپر میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایک امریکی ڈالر چار سو بیس پیسو کا ہے۔
رَن دَا میتھس۔

ان کی تنخواہ تقریبا آٹھ ڈالرز مہینہ تھی۔ کتنے؟ آٹھ ڈالر مہینہ۔

باقی دنیا میں ایسا نہیں ہے۔

بنیادی سہولیات کا بتایا گیا کہ بجلی چوبیس گھنٹے میں صرف دو گھنٹے آتی ہے۔ سولر لگانا چاہیں تو شدید مہنگا ہے۔ تین ہزار کے گھر میں دو کلو واٹ کا سولر سسٹم لگانا بھی تین ہزار ڈالر کا خرچہ ہے۔ اندازہ لگائیں۔

اچھا شہریوں کی تنخواہ چوں کہ بہت کم ہے تو سرکار کی طرف سے راشن دیا جاتا ہے۔ بوڈیگاہ سرکاری کریانہ سٹور ہوتا ہے۔ ہر خاندان کے پاس ایک کاپی ہوتی ہے جس سے وہ اس گھر کے افراد کے لیے راشن اور صابن وغیرہ لیا جاتا ہے۔ یہ راشن بہت کم ہوتا ہے۔ مہینے کا راشن بمشکل ہفتہ بھر چلتا ہے۔ چار افراد کے لیے کوئی چار کلو چاول، دو کلو دالیں، گھر میں بچے ہوں تو دودھ۔ بوڈیگاہ کے علاوہ راشن لینا ہی پڑتا ہے۔ چکن ہزار پیسو کا ایک پاوٴنڈ، بیف بھی۔
یاد یہی رکھنا کہ استاد کی تنخواہ تین ہزار چار سو پیسو ہے۔

یہ ہے کیوبے کا سوشلزم۔

مگراس سماج میں ایک بہت بڑا تضاد موجود ہے۔ وہ تضاد یہ ہہ ہے کہ لوگ ابھی تک اپنا کام ہمت سے کئے جا رہے ہیں۔ مختلف بیک گراوٴنڈ اور نسل سے ہونے کے باوجود پیار محبت قائم ہے۔ پتہ نہیں اتنے برے حالات میں بھی لڑائی جھگڑے نہں ہو رہے۔

کیوبے پر اور باتیں بھی کریں گے۔ ابھی کے لیے یہی ہے کہ کیوبے والے سوشلزم سے دل خفا ہے۔ دل تو سرمایادارانہ نظام سے بھی اچاٹ ہے۔ بس پھر دل کا ہی مسئلہ ہے کہ جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے