فوجی فرٹیلائزر کیسے واحد کامیاب کاروباری ہے؟ کامران طفیل کا کالم
کچھ دوست رابطہ فرماتے ہیں کہ معیشت پر لکھیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت پر کچھ نیا لکھنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس میں کچھ نیا ہے ہی نہیں۔
سب کچھ ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہے۔
اس کے بہت سادہ سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔
چونکہ ہم کچھ زیادہ پروڈیوس نہیں کرتے اس لئے جب بھی معیشت کا بڑھاؤ پانچ چھ فیصد ہوتا ہے تو ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور وہ طلب ملکی اشیا سے پوری نہیں کی جاسکتی اور یوں امپورٹس کا بل چھلانگیں لگانے لگتا ہے۔
سیاسی پولرائزیشن اتنی زیادہ ہے کہ معروضی تجزیہ لوگوں کو پسند نہیں آتا۔
دو اعشاریہ چھ فیصد کے حساب سے آبادی کا بڑھاؤ اتنا بنیادی مسئلہ ہے لیکن نا تو فوجی قیادت اور نا ہی سیاسی قیادت کو اس بات کا احساس ہے ۔
دو نسلوں سے انڈسٹریلیسٹ ہونے کی وجہ سے یہ بات جانتا ہوں کہ انڈسٹری کی ناکامی کی وجہ انرجی کاسٹ کا زیادہ ہونا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ انڈسٹری بے تحاشہ سولرائزیشن کرچکی ہے اور اپنی انرجی پروڈیوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،حکومت سے انرجی صرف وہ ہی لے رہا ہے جو بے بس اور مجبور ہے۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہونے کا واویلا کیا جا رہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری صرف ریبیٹ اور سبسڈیز پر ہی چلتی آئی ہے،جیسے ہی آپ اس ریبیٹ کو بند کرتے ہیں اپٹما والے رو رو کر پریس کانفرینسز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
انڈسٹری ویسے بھی بہت ہی محدود ہاتھوں میں ہے اور وہ محدود ہاتھ کارٹلائزیشن کرکے عوام کا استحصال کرتے ہیں،الیکشن مہنگا ہے اس لئے انہی کے لوگ مقتدرہ کا حصہ بنتے ہیں اور ریگولیٹر کو کنٹرول کرتے ہیں۔
آپ ذرا سی زحمت کریں تو لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے ٹوٹل پلئیرز گن لیں۔
وہی آپ کو شوگر انڈسٹری میں نظر آئیں گے،وہی فرٹیلائزر میں،وہی آٹو موبیل،وہی ٹیکسٹائل اور وہی سیمنٹ انڈسٹری میں۔
یہ جکڑ بند بہت شدید ہے۔
معیشت فوجیوں کی ذہنی تربیت سے بہت مختلف چیز ہے۔
اسی لئے پاکستان میں فوجیوں کا ایک بھی معاشی ادارہ علاوہ فوجی فرٹیلائزر کے کامیاب نہیں ہے(فرٹیلائزر میں بھی کارٹلائزیشن ہی کی وجہ سے کامیاب ہے)
صوبے پیراسئیٹس بنے ہوئے ہیں اور وسائل کو ضائع کر رہے ہیں۔ رٹ آف دی گورنمینٹ کو ڈکٹیٹرز تقریبا” ختم کرچکے ہیں اس لئے ٹیکسیشن ٹھیک نہیں ہوسکتی۔
سیاسی حکومتیں بطور فوجیوں کی رکھیل کے آتی ہیں اس لئے وہ ان کے اسراف پر بول ہی نہیں سکتی۔
پاکستان کے طاقتور ترین ادارے نے اس بار اپنے پالتوؤں کو نا تو وزارت خزانہ دی اور نا ہی وزارت داخلہ،اس لئے وزیر خزانہ اورنگ زیب ہوں یا محسن نقوی وہ وزیرآعظم یا پارلیمنٹ کو جوابدہ ہی نہیں ہیں۔
پاکستان کے پاس بیچنے کے لئے ہیومن ریسورس ہے یا اپنے "ریسلر” ۔
میں مایوسی نہیں پھیلا رہا بلکہ اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہوں۔
مجھے کسی انقلاب کی امید بھی نہیں ہے لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ پاکستان کے عوام پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں جس کا خودبخود کوئی نتیجہ نکل کر رہے گا، پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے، کسی نا کسی کمزور جگہ سے پشتہ ٹوٹ جاتا ہے اور یہاں تو بہت سے کمزور پشتے ہیں۔

