آسٹریلیا میں بونڈائی بیچ حملے کے بعد اسرائیلی لابی کیا کر رہی ہے؟
معاذ بن محمود ۔ ملبورن، آسٹریلیا
میں سازشی تھیوریوں پر یقین نہیں رکھتا البتہ کینری مشن اور اس جیسے خفیہ طریقے سے کام کرنے والے پرو اسرائیلی لابی گروپس کی کارروائی جب ABC News جیسے مرکزی اور نسبتاً آزاد میڈیا پلیٹ فارم سے شائع ہو تو یہ معاملہ فقط تھیوری نہیں ایک ایسی عملی سازش کی شکل اختیار کر جاتا ہے جہاں اسرائیل کے مفادات، آسٹریلیا کے مفادات پر مقدم رکھنے کی باقاعدہ اور منظم کوشش شروع ہو جاتی ہے۔
میں گزشتہ پانچ برس میں ایڈیلیڈ، ساؤتھ آسٹریلیا سے لے کر نوزا، کوئینزلینڈ تک ایک سے زائد بار روڈ ٹرپس کر چکا ہوں۔ تسمانیہ جو اس ملک کا سب سے زیادہ دقیانوسی خیالات کا حامل علاقہ سمجھا جاتا ہے وہاں بھی کئی بار جانا ہوا اور روڈ ٹرپس کیے۔ اس دوران ہمارا گزر گنجان ترین آبادیوں سے لے کر کافی حد تک غیر گنجان دیہاتوں تک ہوتا رہا۔ عوام الناس میں نہ تو کوئی اینٹی امیگرنٹ جذبہ دیکھا نہ کسی قسم کی نسل پرستی، گو ایک آدھا چول کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
پھر یوں ہوا کہ آسٹریلیا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان کی بابت ۱۱ اگست ۲۰۲۵ کو ہوتا ہے، اور پھر ۳۱ اگست ۲۰۲۵ کو امیگریشن مخالف مارچ فار آسٹریلیا کا انعقاد ہوتا ہے۔ آسٹریلیا مورخہ ۲۱ ستمبر ۲۰۲۵ کو باضابطہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرتا ہے اور پھر ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۵ کو دوسرا امیگریشن مخالف مارچ فار آسٹریلیا ہوتا ہے۔
نتن یاہو وہاں سے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البنیزی کے خلاف زہر اگلنا شروع کرتا ہے۔ یہاں سوشل میڈیا پر منہ کے فائر ہوتے ہیں مگر عملا اس کا اثر اتنا ہی ہو پاتا ہے کہ امیگرینٹس مخالف مظاہروں کے شرکاء مظاہروں کے بعد امیگرینٹس کے ریسٹورینٹس پر چائنیز ڈمپلنگ کھاتے ملتے ہیں جس پر خوب بھد اڑتی ہے۔ اس کے بعد یہاں چند یہود مخالف نعرے دیکھنے کو ملتے ہیں، ایک آدھ سنوگاگ کے دروازے پر آگ لگانے کی خبریں آتی ہیں۔
اور پھر۔۔۔ ۱۴ دسمبر کو سڈنی کے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک بونڈائی بیچ پر یہودیوں کے خلاف دہشتگردی کی کارروائی ہو جاتی ہے جس کی سرکاری تحقیقات اور عدالتی مقدمہ تاحال جاری ہے۔
اس کے بعد ایک ایسی فضا بن جاتی ہے جہاں اسرائیل کا نام لینا اینٹی سمٹیزم کا مترادف بن جاتا ہے۔ وزیراعظم پر شدید ترین دباؤ ڈال کر یہود کے تحفظ میں قانون سازی کا جائز مطالبہ رکھتے ہوئے ساتھ ساتھ وہی اسرائیل مخالفت کو اینٹی سیمیٹزم سے جوڑے جانے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ’فرام ریور ٹو سی فلسطین وِل بھی فری‘ جیسے نعروں کو دہشتگردی میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔
وزیراعظم خاموشی سے سنتا ہے، سہتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کے سامنے ایک جامع قانون سازی کا ڈرافٹ رکھتا ہے اور کہتا ہے آؤ مل کر نفرت انگیز مواد سے لے کر اسلحے تک قانون کو بدلتے ہیں۔ قانون میں مجوزہ تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مذہبی شدت پسندی پر مبنی تبلیغ جرم تصور ہوگا۔ اس پر دوبارہ شور اٹھتا ہے۔ وہی مخصوص لابی گروپ حرکت میں آتے ہیں کہ نہیں آپ بس یہود کی حفاظت اور اسلامی شدت پسندی کے خلاف قانون بنائیں۔
اس پر وزیراعظم کہتا ہے کہ بھائیو، ایسے تو نہ کرو، بلکہ یوں کرو کہ اولڈ ٹیسٹمنٹ یعنی بائبل کا عہد نامہ قدیم اٹھا کر ایک بار پڑھ لو کہ اس میں کیا ہے، پھر بتاؤ کہ اسے پڑھنا یا پڑھانا غیرقانونی تسلیم کر لیا جائے تو کیا ہوگا۔ مزید یہ کہ اسی صرف یہود کے ترجمان نہیں، سارے مذاہب کے ساتھ مشورہ کر چکے ہیں پھر یہ قانون لا رہے ہیں۔ ہم نے نہ صرف قانون بنانا ہے، بلکہ ایسا قانون بنانا ہے جس کے خراب نتائج سامنے نہ آئیں۔
نئی قانون سازی میں جب تمام مذاہب کی بات آئی تو اپوزیشن میں موجود سیاسی جماعت لبرل پارٹی کی دم پر پڑ گیا پیر۔ اب ان کے اپنے اندر پھوٹ پڑ رہی ہے کہ کسی نے دیگر ادیان ابراہیمی کی تشریح شروع کر دی تو کیا ہوگا کیونکہ ساتھ ہی ساتھ LGBTQ وغیرہ بھی میدان میں آ رہے ہیں کہ ٹھیک ہے بنی اسرائیل ہوگی اپنے وقت کی محبوب قوم، ہمیں پھر کون سی پتھ نکلی ہے، ہمارا تحفظ بھی شامل کرو نئے قانون میں پھر۔
اگلا الیکشن دلچسپ ہوگا۔ باوجود اس کے کہ لیبر، لبرل اور گرینز تینوں اب تک کوئی بہت غیراصولی سیاست نہیں کر رہے، پارلیمان میں برقعہ پہن کر آنے اور اس کی پاداش میں سسپینڈ ہونے والی پاؤلین ہینسن نامی مسخری خاتون کو بنی اسرائیلی خوب کاندھوں پر لادے پھر رہے ہیں۔
مکرر عرض ہے۔۔ میں سازشی تھیوریوں پر یقین نہیں رکھتا البتہ کینری مشن اور اس جیسے خفیہ طریقے سے کام کرنے والے پرو اسرائیلی لابی گروپس کی کارروائی جب ABC News جیسے مرکزی اور نسبتاً آزاد میڈیا پلیٹ فارم سے شائع ہو تو یہ معاملہ فقط تھیوری نہیں ایک ایسی عملی سازش کی شکل اختیار کر جاتا ہے جہاں اسرائیل کے مفادات، آسٹریلیا کے مفادات پر مقدم رکھنے کی باقاعدہ اور منظم کوشش شروع ہو جاتی ہے۔
پرو اسرائیلی لابی کے بارے میں اے بی سی نیوز نے آرٹیکل شائع کیا ہے۔

