کالم

میلے کے گٹھ جوڑ مارکہ دانش ور: تھنک فیسٹ پاکستان کا ایک جائزہ

فروری 4, 2026

میلے کے گٹھ جوڑ مارکہ دانش ور: تھنک فیسٹ پاکستان کا ایک جائزہ

تحریر: جنید ایس احمد

تِھنک فیسٹ پاکستان (Think Fest Pakistan) نظریات کا میلہ نہیں ہے بلکہ یہ تو اُن کے لیے ایک قرنطینہ وارڈ ہے۔ یہاں سوچ کو صرف معائنے کے بعد داخلہ ملتا ہے، اس کی تلاشی لی جاتی ہے کہ کہیں اس میں بغاوت کی کوئی رمق تو نہیں۔ اسے یہاں ایک ایسے وزیٹر کارڈ کے ساتھ موقع دیا جاتا ہے جس کی میعاد ’طاقت‘ کے قریب پہنچتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

یہاں جو چیز سامنے آتی ہے وہ خاموشی نہیں بلکہ وہ کچھ زیادہ ہی نکھری ہوئی شے ہے اور اسی لیے یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ یعنی ایسی گفتگو جو دنگ کر دیتی ہے، تنقید کرتی ہے اور فن کے جوہر دکھاتی ہے مگر پاکستانی سیاست کی اصل حقیقت کا نام کبھی بھول کر بھی نہیں لیتی۔

اس کا نتیجہ ایک ایسی فکری نمائش کی صورت میں نکلتا ہے جس میں ذہانت تو وافر مقدار میں ہوتی ہے لیکن ہمت غائب ہوتی ہے اور سب سے اہم سچائیوں کو ’بدتمیزی‘ تصور کیا جاتا ہے۔

تِھنک فیسٹ کی بنیاد ’تھئیٹریکل‘ یعنی نمائشی قسم کی آزادی پر ہے۔ اس کے پینلز فصاحت و بلاغت، علمیت اور ایسے حوالوں اور موضوعات سے بھرے ہوتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر مقبول ہیں مثلاً نوآبادیاتی نظریہ، عالمی عدم مساوات، میڈیا کی اخلاقیات اور دنیا میں مخلتف خطوں میں لبرل ازم کی ناکامیاں وغیرہ۔

یوں تو تِھنک فیسٹ کی فضاء میں ایک روشن خیال اختلافِ رائے کی گونج سنائی دیتی ہے مگر یہ اختلافِ رائے ایک آہنی شرط کا پابند ہے۔ وہ یہ کہ اسے کبھی بھی تنقید سے نکل کر الزام تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ یہاں کوئی بھی آمریت کا ایک عالمی تجرید (abstraction) کے طور پر تجزیہ تو کر سکتا ہے لیکن کوئی صاف صاف لفظوں میں اور ملمع کاری کے بغیر یہ نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان پر ایک غیر منتخب ’ویٹو‘ کے ذریعے حکومت کی جا رہی ہے یا یہ کہ جمہوری خودمختاری کو منظم طریقے سے معطل کر دیا گیا ہے۔

آپ طاقت سے سوال کر سکتے ہیں لیکن صرف تب تک جب تک طاقت کا نام نہ لیا جائے۔
یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ایک صنف (genre) ہے۔ تِھنک فیسٹ مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی دانشورانہ مفاہمت کی ایک پختہ شکل کی نمائندگی کرتا ہے جہاں اختلافِ رائے کو پیشہ ورانہ بنا دیا گیا ہے، انتہا پسندی کو جمالیاتی رنگ دے دیا گیا ہے اور سیاست سے اس کے خطرناک ترین اسم ہائے معرفہ (نام) نکال دیے گئے ہیں۔ یہ میلہ سوچ کو دباتا نہیں ہے بلکہ اسے اپنی مرضی سے ترتیب (curate) دیتا ہے۔

یہ ان افراد کو نوازتا ہے جو بغیر کسی نتیجے کے خوف کے شکوک و شبہات کا اظہار کر سکتے ہیں اور جو بالکل محفوظ رہتے ہوئے نڈر سنائی دے سکتے ہیں۔ پیغام بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ دلیری سے سوچیں لیکن ٹھوس طریقے سے نہیں۔ ڈھانچوں پر تنقید کریں لیکن کبھی بھی ’اصل ڈھانچے‘ پر نہیں۔ جمہوریت کی مالا جھپیں لیکن اس پر کبھی اصرار نہ کریں۔

اس میلے میں داخلے کی قیمت ’لسانی ڈسپلن‘ ہے۔ فوجی تسلط کا ترجمہ ’سول ملٹری تعلقات‘ میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا بے روح جملہ ہے جو دفتر کے لیٹر ہیڈ پر بھی کندہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں جبر ’پولرائزیشن‘ قرار پاتا ہے۔ عدالتی گلا گھونٹنے کے عمل کو ’انسٹی ٹیوشنل سٹریس‘ کہہ کر نرم کر دیا جاتا ہے۔
ملک کی سب سے مقبول سیاسی قوت کی قید اور منظم طریقے سے بیخ کنی کو ’کرائسز آف گورننس‘ قرار دیا جاتا ہے جیسے کہ یہ کوئی سافٹ ویئر کا خلل (software bug) ہو۔ زبان کو اس وقت تک دھویا جاتا ہے جب تک تشدد سے اس میں میں صابن کی ہلکی سی بو بھی آنا ختم ہو جائے۔

یہاں دانشوروں کی ’غداری‘ کی پرانی تشخیص کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کی بے وفائی نظریاتی جوش و خروش نہیں بلکہ ’انتظامی احتیاط‘ ہے۔ دورِ حاضر کا عوامی دانشور کوئی باغی نہیں بلکہ ایک ’سٹیک ہولڈر‘ہے جسے مدعو کیا جاتا ہے، سند دی جاتی ہے، نیٹ ورک فراہم کیا جاتا ہے اور فنڈ دیا جاتا ہے۔ وہ جبلتی اور پیشہ ورانہ طور پر سمجھتا ہے کہ ’ریڈ لائنز‘ کہاں ہیں اور وہ اس سمجھ بوجھ کو خوف کے بجائے ’دانش مندی‘ کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ وہ رسائی کو اثر و رسوخ، قربت کو اہمیت اور احتیاط کو دانائی سمجھنے کی غلطی کرتا ہے۔ وہ ہمت کی لامتناہی باتیں کرتا ہے جبکہ عملی طور پر وہ خطرات سے بچنے کی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل اپنائے ہوئے ہوتا ہے۔

یہ وہ طریقہ ہے جس پر گٹھ جوڑ مارکہ دانش طبقہ رُو بہ عمل رہتا ہے۔ وہ آمرانہ طاقت کی تعریف نہیں کرتا، وہ تو ایک بازاری حرکت ہو گی۔ اس کے بجائے وہ اس طاقت کو پراسس (عمل)، پیچیدگی اور ’سیاق و سباق‘ میں تحلیل کر کے اسے غیر مرئی بنا دیتا ہے۔ وہ قانونی جواز کے بحران (crisis of legitimacy) کو ’بیانیوں کے سیمینار‘ میں بدل دیتا ہے۔ وہ اخلاقی وضاحت کی جگہ ’تفسیراتی باریکی‘ (interpretive subtlety) لے آتا ہے اور پھر اپنی نفاست (sophistication) پر خود کو داد دیتا ہے۔

جس چیز کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اسے نیا رخ دے دیا جاتا ہے اور جسے نیا رخ نہیں دیا جا سکتا، اسے ملتوی کر دیا جاتا ہے اور جسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا، اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

درین اثناء، کانفرنس ہالوں سے باہر ملک پینل کے شرکا کے ذریعے نہیں بلکہ حکم ناموں سے، مکالمے سے نہیں بلکہ جبر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

پاکستان بڑھتے ہوئے عدم تحفظ، عسکریت پسندانہ تشدد، معاشی عدم استحکام اور مفلوج زدہ سیاسی عمل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ محض پالیسی کی ناکامیاں نہیں ہیں، یہ اس سیاسی نظام کی علامات ہیں جس نے اقتدار کو عوامی رضامندی سے الگ کر دیا ہے۔ مگر تِھنک فیسٹ میں یہ حقائق وجودی سوالات (existential questions) کے بجائے تکنیکی چیلنجز کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

آیا کوئی ریاست عوامی خودمختاری کی منظم نفی کرتے ہوئے مستحکم رہ سکتی ہے؟ یہ بنیادی مسئلہ شائستہ محفلوں کے لیے بہت زیادہ ’نامناسب‘ سمجھا جاتا ہے۔

المیہ ذہنی نااہلی نہیں۔ اس کے برعکس ایک واحد نظر انداز شدہ حقیقت کے گرد ایسا پیچیدہ بیانیاتی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لیے کافی ذہانت درکار ہوتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام غیر قانونی ہے اور اس کا معمول پر رہنا ہماری خاموشی پر منحصر ہے۔

میلے کا دانشور روانی سے بولنے والا، چست اور حیران کرنے والا ہوتا ہے مگر عین اس مقام پر ’گونگا‘ ہو جاتا ہے جہاں بولنا اہمیت رکھتا ہے۔
تھنک فیسٹ اس طرح غلط بیانی کا ایک شہری جشن بن جاتا ہے۔ عوام روشنی کی تلاش میں آتے ہیں اور انہیں محض ایک ’ماحول‘ دے دیا جاتا ہے۔ نوجوان اختلافِ رائے کی بھوک لے کر آتے ہیں اور اس کے بجائے انہیں اعتدال پسندی سکھائی جاتی ہے۔ وہ سیکھتے ہیں کہ تنقیدی سوچ کی اعلیٰ ترین شکل یہ ہے کہ ہر چیز پر تنقید کی جائے سوائے اس انتظام کے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ حکمرانی کون کرے گا۔ وہ متاثر ہو کر، معلومات لے کر اور فرمانبرداری کے آداب کی دبے لفظوں میں تربیت پا کر وہاں سے رخصت ہوتے ہیں۔

پاکستان عقل یا تنقید کی کمی کا شکار نہیں۔ یہ اس ’سکھائی گئی ہچکچاہٹ‘ کا شکار ہے جو حال کے متعلق بولنے سے روکتی ہے۔ جب تک عوامی دانش ور تجرید کی پناہ گاہوں (The safety of abstraction) کو چھوڑ کر طاقت کا نام لینے کی جرأتِ رندانہ بحال نہیں کرتے، تھنک فیسٹ جیسے میلے منظم سوچ کی یادگاروں کے طور پر پھلتے پھولتے رہیں گے، یعنی ایسی جگہیں جہاں نظریات آزادانہ گھومتے ہیں بشرطیکہ وہ کبھی سچ بننے کی دھمکی نہ دیں۔
۔۔۔۔

یہ تحریر دو فروری 2026 کو کاؤنٹر کرنٹ ڈاک آرگ (countercurrents.org) پر انگریزی میں شائع ہوئی۔
لکھاری پروفیسر جنید ایس احمد قانون، مذہب اور عالمی سیاست پڑھاتے ہیں اور اسلام آباد میں ’سینٹر فار دی سٹڈی آف اسلام اینڈ ڈی کالونائزیشن‘(CSID) کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ انٹرنیشنل موومنٹ فار آ جسٹ ورلڈ (JUST)، موومنٹ فار لبریشن فرام نکبہ (MLN) اور سیونگ ہیومینٹی اینڈ پلینٹ ارتھ (SHAPE) کے بھی رکن ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے