”ایئر پنجاب“ کے لیے لگژری جیٹ عوام سے مذاق ہے، خُرم مشتاق کا تجزیہ
مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مبینہ گلف سٹریم طیارہ ”ایئر پنجاب“ کے فلیٹ کے لیے لیا گیا ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف سٹریم کوئی کمرشل پسنجر ایئرکرافٹ نہیں بلکہ ایک لگژری پرائیویٹ جیٹ ہے جو دنیا بھر میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایسے میں یہ تاثر پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ یہ سہولت موجودہ یا آئندہ وزرائے اعلیٰ کے استعمال کے لیے ہوگی۔
اس پر بھونڈی صفائیاں دینے کے بجائے سچ واضح کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔
ایک ایسا صوبہ جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں۔ ہزاروں فیکٹریاں بند اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوں، جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہوں اور کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہوں، وہاں سرکاری وسائل کا رخ روزگار، صنعت اور ریونیو جنریشن کی طرف ہونا چاہیے نہ کہ نمائشی منصوبوں کی طرف۔
یہ پیسہ آخر عوام کا ہے، کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ جس پر دل چاہے تجربات کیے جائیں۔
مزید تضاد یہ ہے کہ وفاقی سطح پر اسی جماعت کی حکومت نجکاری کا درس دیتی ہے، کہتی ہے حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا چاہیے۔ مگر دوسری طرف صوبائی حکومت خود ایئرلائن بنانے نکل پڑی ہے۔ ایک ہی جماعت کے اندر پالیسی کا یہ تضاد آخر کس منطق کے تحت ہے؟ ایک طرف “پرائیویٹائزیشن” یعنی نجکاری اور دوسری طرف “سرکاری بزنس ایکسپینشن” یعنی سرکاری کاروبار کا پھیلاؤ، عوام کو آخر کون سا بیانیہ ماننا چاہیے؟
اگر واقعی حکومت اپنی کمرشل اہلیت اور گورننس ماڈل ثابت کرنا چاہتی ہے تو میدان کھلا ہے۔ پنجاب میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ڈسکوز نجکاری کے عمل میں جا رہی ہیں انہیں سنبھال کر دکھائیں، اپنے نظم و نسق سے چلا کر عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف دیں، لائن لاسز کم کریں، بجلی سستی کریں، ریکوری بہتر کریں۔ اصل امتحان وہ ہے جہاں عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فضائی سفر عام آدمی کی ضرورت نہیں بلکہ ایک محدود طبقے کی سہولت ہے۔ اندازاً صرف دو فیصد آبادی سالانہ فضائی سفر کرتی ہے، جبکہ بجلی سو فیصد پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔ ہر گھر، ہر دکان، ہر اسپتال، ہر صنعت اور پوری معیشت بجلی پر چلتی ہے۔ اب فیصلہ خود کریں کہ زیادہ اہم کیا ہے — ایک ایئرلائن یا بجلی کا نظام؟ اگر کمرشل کاروبار کرنے کا واقعی شوق ہے تو اس شعبے میں آئیں جہاں سو فیصد عوام کو ریلیف ملے، جہاں گورننس بہتر ہو تو نرخ کم ہوں، سروس بہتر ہو اور معیشت مضبوط ہو۔
ورنہ یہ سب کچھ محض نمائشی منصوبے لگتے ہیں جو وقتی سرخی تو بنا سکتے ہیں مگر عوام کی زندگی نہیں بدل سکتے۔ قوم اب نعروں سے نہیں، ترجیحات سے فیصلے کرے۔
یہ تحریر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے پریس کانفرنس میں اس دعوے کے جواب میں لکھی گئی کہ ”ایئرپنجاب کے لیے مختلف جہازخریدے جارہے ہیں، کچھ لیز پر لیے جائیں گے۔ ایک جہاز جو ابھی لیا گیا ہے اسی کی کڑی ہے، لیکن مفتاح اسماعیل صاحب کو آدھی ادھوری بات کرنے کا بہت شوق ہے۔ اس برس ایئرپنجاب نے اپنا آپریشن شروع کرنا ہے اس کے لیے جہاز خریدنے اور لیز پر لینا پڑیں گے۔“

