اجتماعی یادداشت کی سیاست اور پشتون بیانیہ، علی ارقم کا کالم
اجتماعی یادداشت کی سیاست اور پشتون بیانیہ، علی ارقم کا کالم
(Politics of Memory)
قوموں کی اجتماعی یادداشت محض ماضی کی یادیں نہیں بلکہ حال کی سیاست کی صورت گری کرنے اور مستقبل کے لیے شناخت تشکیل دینے والا ایک مسلسل و متحرک عمل ہے۔
سوشیالوجسٹس کہتے ہیں کہ معاشرے تاریخ کو ویسے یاد نہیں رکھتے جیسے وہ پیش آئی تھی بلکہ ویسے یاد رکھتے ہیں جیسے وہ خود کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں اجتماعی یادداشت کی سیاست کا تصور اہم ہے، یعنی یہ کہ کون سا واقعہ، سانحہ، یا اجتماعی دکھ یاد رکھا جائے، کس واقعے کو مرکزی مقام دیا جائے، کن پہلوؤں کو دفن رکھا جائے، اور کن یادوں کو علامتی طاقت میں بدلا جائے۔
فرانسیسی سوشیالوجسٹ ماریس ہالبکس کہتے ہیں کہ انسان ماضی کو اکیلے یاد نہیں رکھتا بلکہ اس کی یادیں سوشل فریم ورک کے اندر بنتی ہیں، یعنی خاندان، مذہب، قوم اور ثقافت وہ سانچے ہیں جن کے ذریعے ہم واقعات کو معنی دیتے ہیں
اسی لیے ایک ہی تاریخی شخصیت یا واقعات مختلف معاشروں میں مختلف انداز میں یاد رکھے جاتے ہیں، کیونکہ یادداشت فرد کے ذہن سے زیادہ اجتماعی بیانیے میں زندہ رہتی ہے۔
مجھے یاد ہے، کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ڈاکٹر مبارک علی سے مختصراً بات کا موقع ملا۔ میں نے ان سے شکوہ کیا کہ آپ نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پشتونوں میں انتہا پسندانہ مذہبی تصورات کو اس لیے راہ ملی کہ وہاں آرٹ، موسیقی وغیرہ نہیں تھی۔ میں نے پیر روشن (پیر روخان) کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کے مذہبی وسیع المشربی کے افکار، پشتو زبان کی ترویج و ترقی اور قومی مزاحمت کو نظر انداز کرنا درست نہیں، حالانکہ مغل اعظم اکبر لشکروں کے ہاتھوں پیر روشن اور اس کی اولاد قتل ہوتی۔ پھر پیر روشن کے خلاف ملاؤں کو اتارا گیا اور وہ اسے پیر تاریکی اور گمراہ کہہ کر اس کی عوامی مقبولیت کے خلاف صف آرا ہوئے۔
ڈاکٹر مبارک علی نے میرے اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو ڈاکو اور راہزن تھے، تجارتی قافلے لوٹتے تھے، ان کی سرکوبی لازم تھی۔ یعنی یہاں انہوں نے مغل سرکاری تاریخ دان کی لائن لے لی۔
اس سے مجھے ایک دوست سے سنا مظہر عارف کا قول یاد آگیا کہ یہ جو نام کے آخر میں چھوٹی یا (ی) والے دانشور، ادیب اور تاریخ دان ہیں انہوں نے پاکستان میں بسنے والی اقوام کی تاریخ و ادب کا ستیا ناس کیا ہے۔
یہ تو جملہ معترضہ ہوا، پالیٹکس آف میموری پر پھر سے آتے ہیں
فرانسیسی فلسفی پال ریکور اجتماعی یادداشت کے اخلاقی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی کو یاد رکھنا ایک اخلاقی عمل بھی ہے، کیونکہ ہر معاشرہ یہ طے کرتا ہے کہ کیا یاد رکھنا ہے اور کیا بھلا دینا ہے۔ اس انتخاب کے ذریعے ایک مورل آرڈر بنتا ہے جس میں ظالم، مظلوم، جارح، مجروح، مجرم اور گواہ کی شناخت متعین ہوتی ہے۔
جرمن مفکر پال آسمین اس کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ثقافتی یادداشت کا تصور پیش کرتے ہیں، ان کے مطابق کچھ یادیں وقتی نہیں ہوتیں بلکہ ادارہ جاتی شکل اختیار کر لیتی ہیں، جیسے نصاب تعلیم، قومی دن، یادگاریں اور اجتماعی کہانیاں۔ یہ یادیں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں اور قوم کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ان تینوں زاویوں کو یکجا کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یادداشت
تاریخ سے مختلف چیز ہے۔ تاریخ واقعات کو بیان کرتی ہے، جبکہ یادداشت ان واقعات کو معنی دیتی ہے۔ جب کوئی معاشرہ ماضی کو یاد کرتا ہے تو وہ صرف واقعات نہیں دہرا رہا ہوتا بلکہ ایک بیانیہ تشکیل دے رہا ہوتا ہے، جس میں کچھ کہانیاں مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں اور کچھ پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یعنی اجتماعی یادداشت سیاست، اخلاقیات، اور شناخت تینوں کی صورت گری کرتی ہے
حال میں دیکھا گیا کہ ہمارے ہاں قومی شناخت پر استوار سیاسی اور مزاحمتی تحریکات نے پنجابی حساسیت کو بھی پھر سے برانگیختہ کیا ہے، جیسے ستر کی دہائی میں حنیف رامے نے ولی خان کے جواب میں پنجاب کا مقدمہ لکھا تھا اور
پھر ان کے جواب میں شکیل ضیاء سندھ کا مقدمہ لکھ ڈالا، جس کی رونمائی الطاف حسین کے ہاتھوں ہوئی تھی
آج کل پھر سے تاریخی رویژن ازم کی آؤ بھگت ہے، تاریخ کے ڈبوں سے جھاڑ جھٹک کر نئے ہیرو برآمد ہو رہے ہیں۔
چونکہ یہ سارا عمل بھی اپنے اہداف و مقاصد میں سیاسی ضرورت کے تابع ہے، اس لیے سلیکٹیو ریمیمبرینس کی حکمت عملی کا چلن ہے۔
ایسی یادداشت اگر سیلف ریفلیکٹیو نہ ہو تو وہ امپیتھی یعنی ہمدردی پیدا کرنے کے بجائے اخلاقی دائرے کو محدود اور سیلیکٹیو کردیتی ہے، یوں یاد ایک پل کے بجائے دیوار بن جاتی ہے-

