عام افغان پریشان اور مایوس مگر غصے میں بھی، سمیع یوسفزئی کا تجزیہ
افغانستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی نے پاکستان کی افغان سرحدی دیہات پر بمباری کے بعد کی صورتحال کا تجزیہ کیا ہے۔
اُن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی پوسٹ کا اردو ترجمہ و تلخیص یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
”عام افغان شہری تھکے ہوئے، پریشان اور خوف زدہ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ملک پر القاعدہ یا ٹی ٹی پی جیسے شدت پسند گروہوں کی وجہ سے بمباری کی جائے۔ وہ ایسے (سرکاری) فیصلوں اور تنازعات کی قیمت ادا کرتے تنگ آ چکے ہیں جو ان کے اختیار اور ان کے چاہنے یا خواہش سے باہر ہیں۔
افغان امن، استحکام اور ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں ان کا ملک علاقائی اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدانِ جنگ نہ بنے۔
میری معلومات کے مطابق کابل میں اتوار کو ہونے والی طویل ملاقاتوں اور مشاورت کے بعد افغان طالبان کے بہت سے ارکان پاکستان کی حالیہ بمباری پر شدید غصے میں ہیں۔ تاہم وہ اسی انداز میں جواب دینے میں خود کو بڑی حد تک بے بس پاتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ براہِ راست جوابی کارروائی علاقے میں وسیع تر تشدد کو جنم دے سکتی ہے اور معاملہ کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس وجہ سے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ عوامی دباؤ کے جواب میں بڑے پیمانے کی کارروائی کے بجائے سرحد پر پاکستانی فورسز کے ساتھ محدود جھڑپوں تک خود کو محدود رکھیں گے۔
طالبان کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان براہ راست افغان طالبان کو نشانہ بنانا شروع کر دے اور ان کی قیادت کو سزا دینے کی کوشش میں کوئی کارروائی کرے تو یہ کابل انتظامیہ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔
دوسری جانب عام افغان شہری پاکستان کی بمباری میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر شدید غصے میں ہیں، مگر ساتھ ہی وہ افغان طالبان سے بھی نالاں اور ناراض ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور غیرمؤثر سفارت کاری نے بارہا بیرونی مداخلت کے لیے جواز فراہم کیا—چاہے وہ 2001 کے بعد امریکیوں کا افغان علاقوں پر قبضہ ہو یا اب پاکستان کی بمباری—اور ان سب کا نقصان بالآخر غریب اور بے بس افغان شہریوں کو ہی اٹھانا پڑا۔
سنہ 2001 میں طالبان کی جانب سے اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے سے انکار نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان پر حملے کا جواز فراہم کیا۔ نیٹو اور اتحادی افواج کی مداخلت عام افغانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی، جس کے دوران بی 52 طیاروں سے بم گرائے گئے اور "مدر آف آل بمز” جیسے بڑے ہتھیاروں نے نقصان پہنچایا۔
طویل عرصے تک جاری اس جنگ عام افغان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
اب ٹی ٹی پی کے معاملے پر بہت سے افغان سمجھتے ہیں کہ طالبان کو چاہیے تھا کہ وہ پاکستان کو قائل کرتے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود نہیں، یا اگر ان کی موجودگی ہے تو انہیں نرمی سے ملک سے نکال دیتے تاکہ پاکستان کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔
لیکن پاکستان نے افغانستان پر بمباری کی، تاہم وہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا—جیسا کہ وہ بارہا دعویٰ کرتا رہا کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں—اور اس کے بجائے بمباری میں غریب خاندان متاثر ہوئے۔
یقینی طور پر افغانستان پر بمباری سے پاکستان کو یہ فائدہ نہیں ہوگا کہ وہ اپنے ملک کے اندر دور تک شہری علاقوں میں کارروائیاں کرنے کی ٹی ٹی پی کی کوششوں کو روک سکے۔
یہ ناقابلِ تردید ہے کہ طالبان نے پاکستان کی حمایت کے ساتھ وہاں کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
اس سب کے باوجود افغان عوام امن، استحکام اور ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں ان کا ملک علاقائی اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہ بنے۔

