متفرق خبریں

نائجیریا میں جرنیلوں کے ساتھ مولوی اور الیکٹریشن پر بھی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا مقدمہ

اپریل 23, 2026

نائجیریا میں جرنیلوں کے ساتھ مولوی اور الیکٹریشن پر بھی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا مقدمہ

براعظم افریقہ کے ملک نائجیریا میں‌ ایک ریٹائرڈ جنرل اور پانچ دیگر نے بغاوت کے الزامات کی فردِ جرم عائد کیے جانے کے موقع پر عدالت میں‌ جرائم تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے-

عدالت میں‌ پیش کیے جانے کے موقع پر ملزمان نے بے گناہ ہونے پر اصرار کیا جبکہ عدالت نے ضمانت کی درخواستوں‌ کی سماعت ملتوی کر دی ہے-

آل افریقہ گلوبل میڈیا سروس کے مطابق چھ افراد کو بدھ کی دوپہر ابوجا شہر میں وفاقی ہائیکورٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ان پر عائد تمام 13 الزامات بتائے گئے، فردِجُرم سنائے جانے کے بعد تمام ملزمان نے کہا کہ وہ بے گناہ ہیں-

نائجیریا کی حکومت نے بدھ کے روز ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل اور پانچ دیگر افراد کو صدر بولا ٹینوبو کے خلاف مبینہ ناکام بغاوت کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔

چھ افراد نے بدھ کی دوپہر ابوجا میں وفاقی ہائیکورٹ کے سامنے خود پر عائد تمام 13 الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر ضمانت کی درخواستیں دائر کیں-

گرفتار کیے گئے ملزمان میں ایک ریٹائرڈ میجر جنرل محمد ابراہیم گانا، اور ریٹائرڈ نیوی کیپٹن ایراسمس اوچگوویا وکٹر شامل ہیں۔

باقی افراد میں ایک پولیس انسپکٹر احمد ابراہیم، صدارتی محل کے الیکٹریشن ذکریا عمورو، بکار قاشیم گونی، اور عبدالقادر سانی شامل ہیں، جو ریاست کڈونا میں مقیم مولوی ہیں۔

بدھ کو تقریباً پونے دو بجے عدالتی سماعت شروع ہوئی تو مدعا علیہان نے کارروائی کے دوران بے گناہ ہونے کا حلفی بیان جمع کرایا-
اس کے بعد جج جوائس عبدالمالک نے مقدمے کی اگلے کارروائی اور تیزی سے سماعت کا حکم دیا۔ جج نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے لیے 27 اپریل کی تاریخ بھی مقرر کی-

تمام مدعا علیہان (ملزمان) کو بدھ کے روز ریاستی سکیورٹی سروس (SSS) کے ایجنٹوں نے حصار میں‌ لے کر عدالت میں پیش کیا۔ سماعت اور ضمانت کی درخواستوں پر فیصلے تک وہ سکیورٹی ایجنسی کی تحویل میں رہیں گے۔

عدالت نے گزشتہ سماعت پر مولوی عبدالقادر سانی کی غیرمشروط رہائی کا حکم دیا تھا، اور وہ خود عدالت میں پیش ہوئے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے