لبنان میں بھوک کا قیامت خیز بحران، لاکھوں زندگیاں خطرے میں، اقوامِ متحدہ کا انتباہ
اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں ادارہ خوراک و زراعت (FAO) اور عالمی خوراک پروگرام (WFP) کی جانب سے لبنان کی وزارتِ زراعت کے تعاون سے جاری مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لبنان میں غذائی بحران خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس کے اثرات تقریباً تمام آبادیوں تک پہنچ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 7 لاکھ 25 ہزار افراد، جو کہ مجموعی آبادی کا 19 فیصد بنتے ہیں، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ افراد میں پناہ گزین شامل ہیں۔ لبنان میں مقیم تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار شامی پناہ گزین جبکہ ایک لاکھ 4 ہزار فلسطینی پناہ گزین شدید غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
2024 کے بعد شام سے آنے والے نئے مہاجرین کو سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں تقریباً 50 ہزار افراد شدید غذائی عدم تحفظ میں مبتلا ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ کئی افراد خوراک کی مقدار اور معیار کم کرنے، کھانے چھوڑنے، قرض لینے اور ضروری اثاثے فروخت کرنے جیسے اقدامات پر مجبور ہیں-

