امریکی یونیورسٹی میں پروفیسر کا قتل، ایف بی آئی نے ملزم کی کہانی جاری کر دی
امریکی یونیورسٹی میں ایم آئی ٹی پروفیسر کا قتل، ایف بی آئی نے قاتل کی پوری کہانی بے نقاب کر دی
فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن (ایف بی آئی) اور میساچوسٹس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے دسمبر 2025 میں براؤن یونیورسٹی اور بروکلائن میں پیش آنے والے مہلک فائرنگ واقعات کی تحقیقات پر مبنی اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ حملہ آور نے دونوں کارروائیاں اکیلے انجام دیں اور اس کا کسی دہشت گرد تنظیم یا نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت 48 سالہ کلاڈیو مینوئل نیوس ویلنٹے کے طور پر ہوئی ہے، جو پرتگال کا شہری، امریکہ میں قانونی اور مستقل رہائشی تھا اور میامی، فلوریڈا میں مقیم تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس نے 13 دسمبر کو روڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس میں براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کی، جبکہ 15 دسمبر کو میساچوسٹس کے علاقے بروکلائن میں Massachusetts Institute of Technology (ایم آئی ٹی) کے پروفیسر ڈاکٹر نونو لووریرو کو قتل کیا۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات غیرمعمولی حد تک وسیع اور پیچیدہ تھیں، جن میں 112 سے زائد شواہد اکٹھے کیے گئے، تقریباً 490 سراغوں پر کام کیا گیا، 11 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی فائلز کا جائزہ لیا گیا اور 260 سے زائد افراد کے انٹرویوز کیے گئے۔ اس کے علاوہ ملزم کے الیکٹرانک آلات سے 815 ویڈیوز اور 1300 سے زائد آڈیو فائلز بھی حاصل کر کے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس مشترکہ کارروائی میں Bureau of Alcohol, Tobacco, Firearms and Explosives سمیت متعدد ریاستی اور وفاقی اداروں نے بھی حصہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے حملوں کی منصوبہ بندی کئی سالوں تک خاموشی اور تنہائی میں رہ کر کی۔ 2022 میں اس نے نیو ہیمپشائر کے شہر سیلم میں ایک سٹوریج یونٹ حاصل کیا، جہاں اس نے اپنے ہتھیار منتقل کیے۔ تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ استعمال ہونے والے دونوں 9 ملی میٹر پستول—گلاک 34 اور گلاک 26—قانونی طور پر فلوریڈا سے خریدے گئے تھے اور انہی کو مختلف واقعات میں استعمال کیا گیا۔
ایف بی آئی کے بیہیویئرل اینالیسس یونٹ کے مطابق حملہ آور نے اپنے اہداف سوچ سمجھ کر منتخب کیے تھے اور وہ اس کے لیے “علامتی” حیثیت رکھتے تھے۔ براؤن یونیورسٹی اور مقتول پروفیسر اس کے نزدیک اس کی ذاتی ناکامیوں، محرومیوں اور مبینہ ناانصافیوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم طویل عرصے سے احساسِ محرومی، مایوسی اور اندرونی غصے کا شکار تھا اور خود کو معاشرے میں نظر انداز محسوس کرتا تھا-
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزم سماجی طور پر تنہا زندگی گزار رہا تھا اور اس کی زندگی میں قریبی تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، جس کے باعث اس کے رویے میں خطرناک تبدیلیوں کو بروقت محسوس نہیں کیا جا سکا۔ ایف بی آئی کے مطابق وہ ذہنی دباؤ اور خودکشی کے رجحانات کا شکار تھا، تاہم حکام نے واضح کیا کہ صرف ذہنی مسائل ان حملوں کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد، ملزم کی ریکارڈنگز اور قریبی افراد کے بیانات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے، تاہم اصل محرکات سے مکمل طور پر صرف حملہ آور ہی آگاہ تھا۔ ایف بی آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے تسلسل میں فی الحال عوام کے لیے کوئی خطرہ موجود نہیں ہے، جبکہ تحقیقات تاحال جاری ہیں اور نئی معلومات سامنے آنے پر مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی-

