بادشاہ چارلس کی نائن الیون یادگار پر حاضری، میئر ممدانی کی کوہِ نور واپسی کی تجویز سے نئی بحث
نورالامین، نیو یارک
برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کیملہ نے بدھ کے روز نیو یارک میں نائن الیون حملوں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جہاں فضا غم، احترام اور یادوں سے بوجھل دکھائی دی۔ یہ کسی برطانوی بادشاہ کا 16 برس بعد شہر کا پہلا دورہ ہے، جس کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
شاہی جوڑا نائن الیون کی قومی یادگار اور میوزیم National September 11 Memorial & Museum پہنچا، جہاں پانی کے بہتے حوضوں کے کنارے کندہ ناموں کے درمیان بادشاہ نے پھول رکھے اور خاموشی سے سر جھکا کر افسوس میں کھڑے رہے۔
اس موقع پر متاثرین کے اہلِ خانہ نے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ کچھ افراد نے شاہی جوڑے سے ملاقات کے دوران جذباتی لمحات بھی شیئر کیے۔
تقریب میں نیو یارک کے میئر طہران ممدانی، گورنر Kathy Hochul اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ تقریباً 3 ہزار جانوں کے ضیاع کے اس سانحے میں 67 برطانوی شہری بھی شامل تھے، جس نے بادشاہ چارلس کے اس دورے کو مزید علامتی اہمیت دی۔
تاہم اس خاموش اور پُراثر لمحے کے پس منظر میں ایک سیاسی اور تاریخی بحث نے بھی سر اٹھایا۔
میئر ممدانی نے قبل ازیں کہا تھا کہ اگر موقع ملا تو وہ بادشاہ سے قیمتی ہیرے کوہ نور کی واپسی کی بات کریں گے—ایک ایسا قیمتی ہیرا جو برطانوی نوآبادیاتی تاریخ کی متنازع علامت سمجھا جاتا ہے اور جس پر کئی ممالک دعویٰ رکھتے ہیں۔
بعد ازاں بادشاہ نے Harlem Grown کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بچوں کے ساتھ بیج بوئے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا۔
ادھر ملکہ نے نیویارک پبلک لائبریری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بچوں کی ادبی وراثت سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت کی-
یہ چار روزہ دورہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان 250 سالہ تعلقات کی یاد میں جاری تقریبات کا حصہ ہے، مگر اس کے دوران اٹھنے والے تاریخی سوالات اس بات کی یاد دہانی بھی ہیں کہ ماضی کی گونج آج بھی عالمی سیاست اور تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہے-

