بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی
بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً سات فیصد اضافے سے برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات میں تعطل برقرار رہنے اور مرکزی بحری گزر گاہ آبنائے ہرمز کی عملی طور پر بندش سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ میں بھی خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے سے تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ادھر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس چار ہزار سے زیادہ پوائنٹس نیچے چلا گیا۔
گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 2588 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
معاشی ماہرین نے اس کی وجہ علاقے کے حالات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھیں اور سٹاک مارکیٹ پر اس کا منفی اثر پڑا۔
معیشت کے تجزیہ کاروں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز کے بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی جس کا اثر دنیا میں تیل کی قیمتوں پر پڑا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ اس وقت تک معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہ ہو جائے۔ وہ معاہدہ ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

