پینٹاگون کی مبینہ خفیہ ای میل لیک، سپین کو نیٹو سے نکالنے کی تجویز پر عالمی سفارتی ہلچل
واشنگٹن: پینٹاگون کی ایک مبینہ خفیہ ای میل لیک ہونے کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیک شدہ ای میل میں بعض یورپی ممالک، خصوصاً سپین، کے خلاف سخت مؤقف اپنانے اور نیٹو میں ان کے کردار کا ازسرِنو جائزہ لینے کی تجاویز زیرِ غور لائے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام مبینہ طور پر سپین کے حالیہ مؤقف سے ناخوش ہیں کیونکہ سپین نے ایران سے متعلق امریکی پالیسیوں کی مکمل حمایت نہیں کی اور اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر بھی بعض پابندیاں عائد کیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سمیت متعدد عالمی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مبینہ ای میل میں ان اتحادی ممالک کے خلاف سخت سفارتی اقدامات پر غور کا ذکر کیا گیا جنہوں نے ایران کے معاملے پر واشنگٹن کا بھرپور ساتھ نہیں دیا۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بعض ممالک کو نیٹو کے اہم عہدوں سے ہٹانے یا اتحاد میں ان کے کردار کو محدود کرنے جیسے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم دستاویز میں واضح کیا گیا کہ امریکا فی الحال نیٹو سے علیحدگی کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اتحاد کے اندر اپنی پالیسیوں کو مزید سخت بنانے کا خواہاں ہے۔
اسی دوران برطانیہ کے فاک لینڈ جزائر سے متعلق امریکی حمایت اور دیگر یورپی تنازعات پر واشنگٹن کی پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جسے ماہرین عالمی سفارتکاری میں ممکنہ بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ مبینہ لیک درست ثابت ہوتی ہے تو اس سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان اعتماد کے بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ یورپ میں نئی سفارتی صف بندیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

