’حریف نہیں، شراکت دار بنیں‘ چینی صدر کا ٹرمپ کو ملاقات میں مشورہ
امریکی صدر سے دو گھنٹے طویل دو طرفہ بات چیت کے بعد چینی صدر شی جنپنگ نے امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ چین کے دروازے امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کشادہ ہوں گے اور انھیں چین میں زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق صدر شی جنپنگ نے کہا کہ چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ بیجنگ باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کا خیر مقدم کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ساتھ جو وفد لائے ہیں اس میں اینویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ایپل کے ٹم کک سمیت ایک درجن سے زائد بڑی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
وفد میں ان کاروباری رہنماؤں کی شمولیت سے دونوں ممالک کے درمیان نئے معاہدوں کی امید بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زیادہ امریکی مصنوعات خریدے۔
قبل ازیں دورۂ چین پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے آغاز پر ابتدائی کلمات میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ ’پوری دنیا اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور عالمی صورتحال ہنگامہ خیز ہے۔‘
چینی صدر نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے، کیا چین اور امریکہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں؟
صدر ٹرمپ کے لیے ابتدائی کلمات میں شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ کیا چین اور امریکہ ’مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کے لیے زیادہ استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا، دونوں ممالک کے شہریوں اور انسانیت کے مستقبل کے لیے باہمی تعلقات پر مبنی روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟‘
چینی صدر کے الفاظ تھے کہ ’یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ، دنیا اور عوام کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کا جواب بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کی حیثیت سے مجھے اور آپ کو دینا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات، اختلافات سے زیادہ ہیں۔ ایک کی کامیابی دوسرے کے لیے موقع ہوتی ہے اور مستحکم دوطرفہ تعلقات دنیا کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، جبکہ محاذ آرائی سے نقصان۔
چینی صدر نے کہا کہ ’ہمیں حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، ہمیں کامیابی اور خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔‘
چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر سمت دے سکیں گے۔