اہم خبریں

ایورسٹ کی چوٹی سے 200 کوہ پیماؤں کی لاشیں واپس کیوں‌ نہیں‌ لائی جاتیں؟

مئی 16, 2026

ایورسٹ کی چوٹی سے 200 کوہ پیماؤں کی لاشیں واپس کیوں‌ نہیں‌ لائی جاتیں؟

آپ کے جسم کے پاس اس وقت تقریبا 20 گھنٹے ہوتے ہیں جب وہ اس سطح پر زندہ رہتا ہے جسے کوہ پیما دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کا ڈیتھ زون یا موت کا علاقہ کہتے ہیں۔

ایورسٹ کی چوٹی پر ہوا میں وہ آکسیجن تقریبا ایک تہائی ہوتی ہے جو سمندر کی سطح پر سانس لیتے وقت ہوتی ہے- یعنی آپ کے خون کی آکسیجن 95% سے 50 یا 60 تک گر جاتی ہے۔
زمین پر کسی بھی ہسپتال میں، کسی بھی انسان میں‌ یہ علامات طبی ہنگامی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔

اتنی کم آکسیجن میں‌ آپ کا دماغ دھوئیں پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ کوہ پیما نشے کی طرح کی حالت محسوس کرتے ہیں، اُن کو عجیب سی آوازیں سنائی دیتی ہیں، اور ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں‌جو غیرمرئی ہوتے ہیں یعنی وہاں موجود نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ بنیادی فیصلے کرنے، جیسے واپسی کا فیصلہ کرنا، ناممکن بن سکتے ہیں۔

ایسی صوتحال کے دوران آپ کا معدہ خوراک ہضم کرنا بند کر دیتا ہے، نیند کا مطلب ختم ہو جاتا ہے، اور آپ کے خلیے آکسیجن تیزی سے استعمال کر لیتے ہیں جس کو آکسیجن ٹینک بھرنے سے بھی نہیں بدل سکتے۔

تقریبا 20 گھنٹے بعد اعضا ناکارہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ جو ایورسٹ پر مر جاتے ہیں، وہ واپسی کے راستے میں مرتے ہیں، یعنی جب وہ مڑتے ہیں تو وہ پہلے ہی آدھے ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔

اس تصویر میں موجود ہجوم 2025 کے سمٹ ویک اینڈ کا ہے، جب گزشتہ برس صرف 18 اور 19 مئی کو 213 افراد چوٹی تک پہنچے۔ سب کو وقت کے ایک مختصر دورانیے میں سمایا گیا جب ہوا اتنی کم ہوئی کہ چڑھائی ممکن ہوئی۔

اب نیپال نے سنہ 2026 کا سیزن صرف 13 مئی کو ریکارڈ 492 پرمٹس کے ساتھ کھلا۔ فیس رواں سال 15,000 ڈالر ہو گئی، جو پچھلے 11,000 سے زیادہ ہے، اور نیپال نے اس بہار میں صرف ایورسٹ پر چڑھنے کے پرمٹس فروخت کرنے سے 7 ملین ڈالر سے زیادہ کما لیے ہیں۔
ایک مکمل ایورسٹ ٹرپ کا اوسط 61,000 ڈالر ہے۔ گرم خیموں اور لامحدود آکسیجن کے ساتھ لگژری پیکجز ہر شخص 150,000 سے 300,000 ڈالر تک حاصل کر سکتا ہے۔

تقریباً 200 مرے کوہ پیماؤں کی لاشیں اب بھی پہاڑ پر ہیں، جہاں وہ گرے تھے وہیں جم گئے۔ رینبو ویلی بالکل چوٹی کے نیچے واقع ہے، اس کا نام وہاں کے رنگین جیکٹس کے لیے رکھا گیا جو مرے ہوئے کوہ پیماؤں‌ نے پہن رکھی ہیں‌ اور جو برف سے باہر جھانکتے ہیں۔ تقریباً کوئی بھی لاش واپس نہیں لائی جا سکتی۔

ایک لاش کو نکال کر واپس لانے کے لیے 18 گھنٹے اور ایک ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہیلی کاپٹر اتنی بلندی پر نہیں جا سکتے۔

نیپال کے وہ پورٹر یا وہ شرپا جو زیادہ تر یہ کام کرتے ہیں، مثلًا رسیوں کو ٹھیک کرنا، آکسیجن کے ٹینک اٹھانا، کبھی کبھار کلائنٹس کو اٹھانا جب وہ گر جاتے ہیں، ایک پورے سیزن میں تقریباً 10,000 ڈالر کماتے ہیں۔ وہی مغربی گائیڈ اسی سفر پر 30,000 سے 50,000 ڈالر کماتے ہیں۔
پیچھے ان کے نیپالی گاؤں میں زرعی آمدنی اوسطاً ایک سال میں 500 ڈالر ہے، یہی وجہ ہے کہ اتنے پورٹرز بار بار اس کام کے لیے واپس آتے رہتے ہیں۔ پچھلے دس سال میں ایورسٹ پر 42 پہاڑی کارکن یا پورٹر مر چکے ہیں۔

پہاڑ لوگوں کو مار دیتے ہیں۔ ایورسٹ وہ پہاڑ ہے جو پہلے آپ سے رقم لیتا ہے، آپ کو ایک گائیڈ اور ایک آکسیجن ٹینک دیتا ہے، اور اوپر جاتے ہوئے لاشوں کی گنتی دکھاتا ہے۔

یہ تحریر آنش مونکا کی ایکس پوسٹ کا ترجمہ ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے