درآمد شدہ نظریاتی ٹیمپلٹس پر لی گئی سیاسی و اخلاقی پوزیشن کا المیہ، یدِ بیضا کا کالم
اختر علی سید صاحب نے "استعمار کی نفسیات” پر تازہ تحریر میں ایک نکتہ اٹھایا کہ استعمار صرف فوجی یا سیاسی قبضے کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنی و نفسیاتی کیفیت بھی ہے جو آج بھی استعمار سے متاثر معاشروں میں موجود ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو مظلوم ریاست قرار دینے کی بحث اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے لوگ ظلم، طاقت اور قبضے کو انسانی و اخلاقی اصولوں کے بجائے نظریاتی تعصبات کی نظر سےدیکھنے لگے ہیں۔
اختر صاحب سے اتفاق کے ضمن میں عرض کیا کہ پاکستان کے فکری دھاروں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی سیاسی یا اخلاقی پوزیشن کسی زندہ شعور مطابق نہیں بلکہ درآمد شدہ نظریاتی ٹیمپلٹس کی بنیاد پر لی جاتی ہے۔ ہمارے فکری خانے پہلے سے طے ہوتے ہیں اور پھر ہم واقعات کو زبردستی ان میں فٹ کیا کرتے ہیں۔ اگر آپ لبرل ہیں تو ہر مذہبی قوت سے فاصلہ ثابت کرنا ضروری ہو جاتا ہے چاہے اس کے لیے ریاستی تشدد کو بھی ریشنلائز کرنا پڑے۔ اگر آپ مذہبی خانے میں ہیں تو ہر کانفلیکٹ کو کفر و ایمان یا حق و باطل کی عینک سے دیکھنا آپ کا مشغلہ بن جائے گا۔
اور المیہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے نظریات درآمد شدہ ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے عادی ہیں۔ ایک سادہ سئ مثال دیکھ لیتے ہیں۔ آپ میں سے اکثر لوگوں کی نظر سے مارکس کا یہ جملہ گزرا ہو گا کہ
Religion is the opium of the people.
یہ جملہ نہ صرف مارکسی مبصرین بلکہ بہت سے لبرل مبصرین بھی اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے مارکس صرف یہ کہہ رہا ہو کہ مذہب ایک نشہ ہے جو لوگوں کو مدہوش اور بے حس بنا دیتا ہے۔بہت سے لوگ اسے اس تناظر میں دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے مارکس یہ کہہ رہا ہے کہ مذہب محض عوام کو بیوقوف بنانے کا ایک ہتھیار ہے۔ اب آئیں مارکس کا پورا تناظر دیکھتے ہیں۔
Religious suffering is, at one and the same time, the expression of real suffering and a protest against real suffering. Religion is the sigh of the oppressed creature, the heart of a heartless world, and the soul of soulless conditions. It is the opium of the people.
یعنی مارکس جب مذہب کو “opium” کہتا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ مذہب محض ایک نشہ ہے جو عوام پر مسلط ہوا ہے یا کیا جاتا ہے۔
مارکس کے زمانے میں opium ایک بنیادی استعمال درد کش دوا کے طور پر ہوتا تھا۔ اس لیے مارکس مذہب کو انسان کی نفسیاتی پناہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسے مظلوم کی آہ قرار دیتا ہے۔ اسے ایک بے حس دنیا میں دل کی حرارت، اور ایک بے روح دنیا میں روح کے استعارے کے طور پیش کرتا ہے۔مارکس کے نزدیک مذہب مسئلے کی جڑ نہیں بلکہ اصل مسئلے کی علامت ہے۔
اصل مسئلہ وہ معاشی اور سماجی نظام ہے جو انسان کو اس حد تک توڑ دیتا ہے کہ اسے زندہ رہنے کے لیے کسی metaphysical تسلی کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مارکس کی مذہب پر تنقید موجود ہے مگر جس تناظر میں مارکس کا یہ جملہ بیان کیا جاتا ہے وہاں مارکس کا مدعا قطعی وہ نہیں ہے جیسے ہمارے مبصرین پیش کرتے ہیں۔
اب مشکل یہ ہے کہ ہمارے فکری دھاروں کے کرتا دھرتا اپنی اپنی نظریاتی وابستگی کے دفاع میں ایسی بد دیانتی آئے روز کرتے ہیں۔
ہم فوکو پڑھ ہر چیز کو ڈسکورس بنا دیتے ہیں، مارکس پڑھ کر ہر چیز میں طبقات ڈھونڈتے ہیں، لبرل ازم پڑھ کر ہر واضح ظلم اور جبر کو complexity ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے نظریات ہمارے لئے کوئی فکری پیراڈائم نہیں بلکہ دانشورانہ میک اپ زیادہ ہوتا ہے۔ ہم ڈیبیٹ ظالم اور مظلوم کی بنیاد پر نہیں بلکہ نظریاتی کیمپ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ ہم نے فکری اور نظریاتی پیراڈائم سمجھنے کی بجائے انہیں اپنی شناخت کا یونیفارم بنا لیا ہے۔ اسی لیے ہمارے ہاں اب مباحث کسی منطقی دلیل تک پہنچنے ، کسی سچائی کے حصول یا کسی فکری تبدیلی کا عمل نہیں رہے بلکہ محض اپنے نظریاتی قبیلے کی برتری ثابت کرنے کی جگالی بن چکے ہیں۔

