نیوز روم کے لوگ مرتے کیسے ہیں؟ نوجوان صحافی کے خاموش ہارٹ اٹیک کی کہانی
رات کے تقریباً ڈھائی بج رہے تھے۔
شہر کے ایک خطرناک علاقے میں چند گھنٹے پہلے قتل ہوئے تھے۔ سڑکیں سنسان تھیں، پولیس بھی واپس جا چکی تھی اور علاقے کی فضا میں خوف اب بھی جاگ رہا تھا- عین اسی وقت نیوز روم کے واٹس ایپ گروپ میں ایک میسج آیا: ’فوری پہنچیں، ہمیں اس کی کوریج چاہیے اور ہاں فوٹیج ٹھیک بنانا، بعد میں نیوز پیکج ٹھیک سے نہیں بنتا۔
یہ میسج ایک نوجوان رپورٹر کے لیے تھا۔ وہ پورا دن شہر بھر میں خوار ہو کر ابھی بمشکل گھر پہنچا تھا۔ تھکا ہوا جسم، سر میں درد اور آنکھوں میں نیند مگر نیوز روم کو ان چیزوں سے کب فرق پڑتا ہے؟
اس نے ہمت کرکے گروپ میں لکھا:
’سر! پرانی خاندانی دشمنی کی بنا پر فائرنگ ہوئی ہے اور پولیس بھی واپس جا چکی ہے علاقے میں شدید کشیدگی ہے لہذا وہاں جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔چند سیکنڈ بعد بڑے صاحب کا جواب آیا:
’نہیں… نکلو فوری اور ساتھ ہی نیوز روم کے دیگر لوگوں نے بھی فرمایا: باس ٹیم نکال دی ہے۔
یہ ایک ایسے ہی نیوز روم کی صورتحال ہے جہاں رپورٹر انسان نہیں بلکہ چند ہزار کے عوض 24 گھنٹوں کے لیے دوڑنے والی روبوٹ ہے۔
وہ رات صرف ایک رپورٹر کی نہیں تھی۔
یہ اس پورے شعبے کی کہانی ہے جہاں نوجوان صحافی آہستہ آہستہ خبروں کے ساتھ اپنی صحت، نیند اور ذہنی سکون بھی کھوتے جاتے ہیں۔
صبح سے شام تک دھکے کھاؤ، لاشیں دیکھو، حادثے کور کرو، سیاستدانوں کے پیچھے بھاگو، واقعات کور کرتے کرتے خود جان تک گنوا دو لیکن نیوز روم سے پھر بھی شام کو یہی آواز آنی ہے نیا کیا نکالا ہے؟ خاص کیا ہے؟ اور یوں دن بھر کی محنت ایک ہی جملے سے فارغ کر دی جاتی ہے۔
مجھے آج بھی اپنے ایک انتہائی سینیئر صحافی دوست یاد ہیں وہ ڈیفنس اور وزارتِ خارجہ کی بیٹ کور کرنے کے ساتھ ساتھ ایک یونیورسٹی میں پڑھایا بھی کرتے تھے۔ شائستگی اور تحمل ان کی شخصیت کا خاصہ تھے۔
مگر نیوز روم میں ان کی شرافت مذاق بن چکی تھی۔ لوگ انہیں ’بابا جی” کہہ کر پکارتے۔ صرف تنگ کرنے کے لیے کبھی انہیں کتوں کی ریس پر پیکج بنانے بھیج دیا جاتا اور کبھی غیرضروری پی ٹی سی بلکہ ایک بار تو وہ گرنے سے اپنا کولہا بھی تڑوا بیٹھے لیکن پھر بھی گھوڑے پر بیٹھ کر پیکج دینے کی فرمائش پوری کرنی پڑی۔
ایک دن وہ خاموشی سے میرے پاس بیٹھے اور دھیرے سے بولے: یار دیکھو! اس فیلڈ سے قریب ترین یوٹرن لے لو۔
یا پھر ان جیسے بن جاؤ جو ہر وقت یس باس کرتے رہتے ہیں، چھوٹے سٹاف کو ڈراتے ہیں، اور بڑے افسروں کے سامنے اونچی آواز میں کالیں کر کے اپنا رعب ڈالتے ہیں۔ میں اس دن خاموش ہو گیا تھا۔
کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ غلط نہیں کہہ رہے۔ یہ شعبہ کبھی خواب ہوا کرتا تھا۔ لوگ اسے مقدس پیشہ سمجھتے ہوئے فیلڈ میں اترتے تھے، پاکستان جیسے معاشروں میں خبر کا بہت اثر ہوا کرتا تھا۔
ہارتی ہوئی انسانیت کے مقبرہ نما نیوزرومز کے ان رویوں کی بدولت اچانک ہم سنتے ہیں کہ:
’ایک نوجوان صحافی ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا…اور لوگ حیران ہوتے ہیں۔ مگر شاید وہ نہیں جانتے کہ ہارٹ اٹیک صرف دل پر نہیں پڑتا۔
کبھی کبھی مسلسل بے عزتی، خوف، عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ بھی انسان کے دل کو خاموش کر دیتا ہے۔
ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنے حق کے لیے بولنے کا درس دینے والا صحافی اکثر اپنے ہی نیوز روم میں نہیں بول سکتا۔
کئی نوجوان صحافیوں کو اپنا یوٹیوب چینل تک بنانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
ٹوئٹر پر کچھ لکھنا ہو تو پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں باس ناراض نہ ہو جائےاور اگر اجازت ہو بھی تو پھر رائے بھی وہی ہونی چاہیے جو باس کی ہو۔ اختلاف اکثر نافرمانی سمجھا جاتا ہے۔ایک بڑے چینل میں کام کرنے والے کچھ نوجوان صحافیوں کو میں نے ملک سے باہر جانے کے بعد بھی ڈرتے دیکھا۔ وہ اب بھی کھل کر بولنے سے گھبراتے ہیں۔ اپنی رائے دیتے ہوئے رک جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نیوز روم بھی ان کے ساتھ ملک سے باہر بھی چلا گیا ہو۔

