ڈالر فنڈنگ اور این جی اوز کا گورکھ دھندا: ٹھیکے داری نظام کو اصلی سِول سوسائٹی سے ڈر کیوں لگتا ہے؟
مصنف: محمد الطاف آفریدی
بہ شکریہ :دی گارڈئین
وہ اگست کا ایک گرم اور حبس زدہ دن تھا۔ میں اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں، امریکی سفارت خانے میں واقع اپنے آرام دہ اور ایئر کنڈیشنڈ دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر، میکینک کی جانب سے اپنی گاڑی ٹھیک کیے جانے کا انتظار کر رہا تھا۔
شدید گرمی کے باوجود مارکیٹ میں غیر معمولی چہل پہل اور زندگی تھی۔
میں نے میکینک کے ہیلپر سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟ اس نے فخر سے چمکتی آواز میں بتایا ’آج ہم اپنی ایسوسی ایشن (تنظیم) کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘
تجسس کے مارے میں وہاں گھومنے لگا اور لوگوں کی باتیں سننے لگا۔
وہاں موجود ہر چھوٹا گروہ گہری اور پرجوش بحث میں مصروف تھا۔ دکانداروں کو درپیش مسائل، ان کی ضروریات سے حکومت کی بے حسی، اور زبردستی بے دخلی کا خطرہ— کیونکہ سرکاری حکام شہر کے مرکز سے ان ’گندے‘ میکنکس کو نکال کر شہر کے مضافات میں منتقل کرنا چاہتے تھے۔
وہاں کا ماحول، پوسٹرز، بینرز اور بحث و تکرار کی شدت ایسی تھی جو کئی قومی انتخابات کو بھی مات دے سکتی تھی۔
میں خود کو یہ سوچنے سے نہ روک سکا ’یہ ہے اصل نچلی سطح کی سول سوسائٹی (سماجی تنظیم) جو متحرک ہے۔‘
ترقیاتی شعبے (development sector) میں 25 سال کام کرنے اور سول سوسائٹی کی فنڈنگ کے لیے کروڑوں ڈالر سنبھالنے کے دوران، میں نے کبھی کسی ڈونر (امدادی ادارے) کو اس طرح کی کسی تنظیم کو فنڈ دیتے نہیں دیکھا۔
ہم جس چیز کو فنڈ دیتے تھے اور جو حقیقت میں زمین پر موجود تھا، ان دونوں کے درمیان پایا جانے والا یہی فرق آپ کو وہ سب کچھ بتا دیتا ہے جو بین الاقوامی امداد اور سول سوسائٹی کے تعلقات میں بگاڑ کا سبب بنا ہے۔
اب جبکہ یو ایس ایڈ (USAID) کو ختم کیا جا چکا ہے اور مغربی ترقیاتی امداد کا پورا ماڈل زیرِ بحث ہے، یہ سوال پہلے کبھی اتنا اہم اور فوری نہیں تھا۔
ہم نے پیشہ ورانہ این جی اوز (NGOs) کی ایک ایسی متوازی کائنات تخلیق کر دی جو واشنگٹن یا لندن میں بیٹھے اپنے ڈونرز کے سامنے تو جوابدہ تھیں لیکن زمین پر کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھیں۔
سول سوسائٹی ریاست اور مارکیٹ کے درمیان کے خلا کو پُر کرتی ہے— یہ وہ جگہ ہے جہاں مشترکہ مفادات رکھنے والے لوگ ان کاموں کو کرنے کے لیے خود کو منظم کرتے ہیں جو نہ حکومت کرتی ہے اور نہ ہی کاروبار۔ یہ فطری طور پر عوامی، رکنیت پر مبنی اور اپنے ارکان کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔
جس دکانداروں کی ایسوسی ایشن کا میں عینی شاہد بنا، وہ بالکل یہی چیز تھی۔ لوگ اپنے وسائل جمع کر رہے تھے تاکہ قیادت کا انتخاب کر سکیں اور ان مسائل کو حل کر سکیں جنہیں حکومت حل نہیں کرنا چاہتی تھی اور مارکیٹ حل کر نہیں سکتی تھی۔
پاکستان جب وجود میں آیا تو اس کی سول سوسائٹی نسبتاً کمزور تھی، جس پر ایک طاقتور فوج اور ایک باصلاحیت سول بیوروکریسی کا غلبہ تھا۔
یہ دونوں نوآبادیاتی دور کی نشانیاں تھیں۔ نوآبادیات منظم بیداری رکھنے والے عوام کے بل بوتے پر نہیں چلائی جاتیں۔ اس کے باوجود معاشرے ہمیشہ خود کو منظم کرنے کے راستے ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔
مارکیٹ ایسوسی ایشنز، مذہبی فلاحی نیٹ ورکس، پیشہ ورانہ تنظیمیں، محلوں کی کونسلیں، یہ سب پاکستان میں ہر جگہ موجود ہیں جو اپنے خرچ خود اٹھاتی ہیں اور حقیقی معنوں میں ان لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں جن کی وہ خدمت کرتی ہیں۔
لیکن نہ جانے کیوں، ڈونرز کو یہ تنظیمیں کبھی نظر ہی نہیں آئیں یا یوں کہہ لیں کہ انہوں نے ان کی طرف دیکھنا ہی گوارا نہیں کیا۔
اس کے برعکس ڈونرز نے دل کھول کر ان گروپوں کو فنڈز دیے جو خاص طور پر ان کا پیسہ حاصل کرنے کے لیے ہی بنائے گئے تھے۔ کام مکمل کرنے کی سخت ڈیڈلائنز، رقم جلد سے جلد خرچ کرنے کا دباؤ اور پروپوزل (تجاویز) کی بنیاد پر فنڈنگ کے طریقہ کار نے پیشہ ورانہ این جی اوز کا ایک ایسا پورا ماحولیاتی نظام (ecosystem) پیدا کر دیا جن کا سول سوسائٹی سے زیادہ ٹھیکیداروں سے تعلق تھا۔
انہیں کسی خاص مقصد سے کوئی گہرا لگاؤ نہیں تھا اور وہ اپنے ارکان کے بجائے اپنے فنڈز دینے والوں کے سامنے جوابدہ تھیں۔
ایک تنظیم جو ایک سال خواتین کو بااختیار بنانے پر کام کر رہی ہوتی، وہ اگلے ہی سال ڈیزاسٹر مینجمنٹ (آفات سے نمٹنے) کی طرف مڑ جاتی۔یہ کسی مہارت یا جذبے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ اس وقت پیسہ وہاں (دستیاب) ہوتا تھا۔ حقیقی سول سوسائٹی شاذ و نادر ہی ڈونرز کی نظروں میں آتی تھی کیونکہ ان میں اس ایک چیز کی کمی تھی جسے ڈونرز سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے (اور وہ تھی) رواں انگریزی میں پروپوزل لکھنے کی صلاحیت۔
احتساب کے اس فقدان نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
میرے تجربے میں ڈونرز سرکاری اخراجات کی فرانزک جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ ایک ایک رسید، ایک ایک خریداری اور بجٹ کی ایک ایک لائن دیکھی جاتی ہے لیکن این جی اوز کے معاملے میں وہ ہمیشہ نرمی برتتے تھے باوجود اس کے کہ اس بات کے وافر شواہد موجود تھے کہ جن مسائل (بدعنوانی، فنڈز کا غلط استعمال، سیاسی اثر و رسوخ) کا انہیں حکومت میں ڈر تھا، وہ این جی او سیکٹر میں بھی اسی طرح موجود تھے۔
یہ نرمی جزوی طور پر نظریاتی تھی۔ سول سوسائٹی کو ریاست کے مقابلے میں فطرتی طور پر زیادہ نیک اور پاک سمجھا جاتا تھا اور جزوی طور پر یہ عملی ضرورت تھی۔ اگر این جی اوز کو بھی اسی معیار پر پرکھا جاتا تو فنڈز کی تقسیم کا وہ نظام معطل ہو جاتا جس پر ہر کوئی انحصار کر رہا تھا۔
اس کا ایک اور رخ بھی ہے جس پر شاذ و نادر ہی بات ہوتی ہے۔
جب واشنگٹن یا لندن سے اعلیٰ حکام پاکستان کا دورہ کرتے تھے تو سفارت خانے اور یو ایس ایڈ کا عملہ (جس میں کئی برس تک میں خود بھی شامل تھا) ’سول سوسائٹی کے نمائندوں‘ کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کرتا تھا۔
ہم ہمیشہ انہی خوش گفتار، انگریزی بولنے والے اور بین الاقوامی نیٹ ورک رکھنے والے این جی او عہدیداروں کو دعوت دیتے تھے جن کا عملہ غیر ملکی مہمانوں کے سامنے سول سوسائٹی کا ’ڈرامہ‘ رچانا اچھی طرح جانتا تھا۔
ہم مذاق میں انہیں ’روایتی ملزمان‘ ((the usual suspects کہا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا کہ کوئی تلخ سچائی آنے والے معزز مہمانوں تک پہنچ جائے گی۔
حقیقی سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ باتوں کو سکرپٹ کے مطابق رکھنا مشکل ہوتا ہے اور وہاں کی کھری اور غیر سنسر شدہ باتیں ڈونر اور سفارت خانے کے عملے دونوں کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی تھیں۔
ان تمام گفتگوؤں میں دکانداروں کی اس ایسوسی ایشن کی کوئی آواز نہیں تھی۔ ان کے پاس وہ ادارہ جاتی الفاظ (institutional vocabulary) ہی نہیں تھے جو انہیں ایوانوں میں سنواتے۔
نتائج اب سب کے سامنے ہیں۔
پاکستان میں اور بہت سے دوسرے امداد لینے والے ممالک کی طرح، آپ اکثر لوگوں کو کسی این جی او کے ’مالک‘ کے طور پر بات کرتے سنتے ہیں جیسے یہ کوئی نجی کاروبار ہو۔
بورڈز صرف کاغذوں کی حد تک موجود ہوتے ہیں۔ قیادت مستقل ہوتی ہے یا خاندانی نیٹ ورکس کے اندر ہی رہتی ہے۔
وہ تنظیمیں جن کا مقصد شہریوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کو کم کرنا تھا، وہ خود ایک متوازی صنعت بن چکی ہیں جو اندرونی ارکان کے بجائے بیرونی فنڈز دینے والوں کو جوابدہ ہیں۔
ان میں سے کچھ بھی ڈونرز کی اصل نیت نہیں تھی۔ ڈونرز کا مخلصانہ ایمان ہوتا ہے کہ سول سوسائٹی کو فنڈ دینے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور حکومتوں کا احتساب ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو سول سوسائٹی انہوں نے تخلیق کی، اس کا اس اصل چیز سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں جسے وہ مضبوط کرنا چاہتے تھے۔
تو پھر ایک بہتر طریقہ کار کیا ہو سکتا ہے؟
کم از کم یہ کہ ڈونرز فنڈنگ کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سمجھنے میں وقت اور پیسہ لگائیں کہ زمین پر اصل میں کون سی سول سوسائٹی موجود ہے۔
انہیں ایسے طریقہ کار وضع کرنے چاہئیں (خواہ وہ کتنے ہی نامکمل کیوں نہ ہوں) تاکہ وہ ان تنظیموں تک پہنچ سکیں جو انگریزی میں پروپوزل تو نہیں لکھ سکتیں لیکن (مختلف) کمیونیٹیز میں ان کی جڑیں گہری ہیں۔ انہیں این جی اوز پر بھی احتساب کے وہی معیار لاگو کرنے چاہئیں جو وہ حکومتوں پر کرتے ہیں اور انہیں ایک ’امدادی شراکت دار‘(implementing partner) (جو کہ فنڈز لینے والی زیادہ تر تنظیمیں اصل میں ہوتی ہیں) اور ایک حقیقی سول سوسائٹی کے کارکن کے درمیان فرق کے بارے میں دیانت دار ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کی مارکیٹ میں اس دوپہر کوئی بھی شخص ڈونر کی ترجیحات یا پروجیکٹ کی ڈیڈلائنز کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔ وہ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ ان کی ایسوسی ایشن کی قیادت کسے کرنی چاہیے اور کیوں۔
وہ ماحول ہنگامہ خیز تھا، شور شرابے سے بھرپور تھا اور مکمل طور پر حقیقی تھا۔۔۔ بالکل ایسا ہی جیسا ایک سول سوسائٹی کو ہونا چاہیے۔
ہم نے اسے کبھی فنڈ نہیں دیا۔ اور شاید۔۔۔ اگر غور کیا جائے تو یہ اچھا ہی ہوا۔ ڈونر کے پیسے میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جس چیز کو چھوتا ہے اسے بدل دیتا ہے۔ تنظیموں کو پروپوزل کا محتاج بنا دیتا ہے اور انہیں ان کے (سول سوسائٹی کے حقیقی) ارکان سے دور کر کے فنڈز دینے والوں کے قریب کر دیتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں شاید اتنی حقیقی سول سوسائٹی موجود ہے جتنی ڈونرز نے کبھی دیکھی بھی نہ ہو۔ اس وقت ان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔
______________
محمد الطاف آفریدی یو ایس ایڈ (USAID) پاکستان میں سابق سینئر ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ ہیں۔ ان کا یہ آرٹیکل 16 مئی 2026 کو معروف برطانوی جریدے ’دی گارڈیئن‘ میں شائع ہوا اور یہاں اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا من و عن ترجمہ کیا ہے تاہم اردو ورژن میں اس کے عنوان میں ترمیم کی گئی ہے۔

