جائیداد، گھروں پر ’زبردستی‘ ٹیلی کام ٹاورز، یہ تنازع ہے کیا؟
پاکستان میں اس وقت ایک بڑی خبر ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹاورز لگانے کے لیے قانون کے ذریعے مارشل لائی اختیارات تفویض کرنے کی ہے-
قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے اس بِل پر ہر طرح کے تجزیے اور تبصرے دیکھنے، پڑھنے اور سُننے کو مل رہے ہیں-
سرکاری جماعت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے چند سینیٹرز نے بھی اس مجوزہ قانون کو آڑنے ہاتھوں لیا ہے جو ابھی سینیٹ میں منظوری کے لیے پڑا ہے-
پاکستان کی ٹیلی کام وزارت نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک طویل وضاحت بھی جاری کی ہے-
ن لیگ کی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شزا فاطمہ کے قومی اسمبلی سے منظور کرائے گئے بل کا سیکشن 27A ٹیلی کام کمپنیوں (لائسنس ہولڈرز) کو عوامی اور نجی جائیداد (بشمول گھر، پلاٹ، ہاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ) پر ٹاور لگانے کا حق دیتا ہے۔
یعنی یہ کمپنیاں کسی کے گھر یا جائیداد پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (موبائل ٹاور، فائبر آپٹک کیبلز، جنریٹرز، آلات وغیرہ) کی تنصیب، آپریشن، مینٹیننس یا اپ گریڈنگ کے لیے رسائی/استعمال کا حق رکھتی ہے۔
اور اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ کمپنی مالک/کرایہ دار کو رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر کے ذریعے نوٹس بھیجے گی۔
15 دن میں جواب نہ ملے تو یاد دہانی، پھر کل 30 دن میں اگر جواب نہ ملا تو اس کو منظوری یعنی رضامندی سمجھا جائے گا کہ کمپنی اس شخص کی زمین یا جائیداد پر اپنا سسٹم لگا سکتی ہے۔
اگر زمین کا مالک انکار کردے کہ وہ ٹاور نہیں لگانے دے گا تو پھر تنازع حکومت کو بھیجا جائے گا، (اور سیکریٹری سطح کے افسر کے ذریعے یہ مسئلہ 45 دن میں حکومت خود حل کرے گی)۔
اسی طرح ہاؤسنگ سوسائٹی/کوآپریٹو وغیرہ میں: عدم جواب کو منظوری سمجھا جائے گا۔ یعنی آپ مالک ہیں۔ آپ کو نوٹس ملا ہی نہیں لیکن کمپنی نے بھیجا ہے ۔ اور 30 دن بعد کمپنی سسٹم اٹھا کر لے آئے گی کہ آپ نے تو جواب نہ دے کر منظوری دے دی تھی ۔
اسی طرح اس مجوزہ قانون (قومی اسمبلی سے منظور بِل) کا سیکشن 27B کہتا ہے کہ حکومت کسی بھی مالک، کرایہ دار، tenant یا ادارے پر 5 کروڑ روپے (Rs 50 million) تک جرمانہ لگا سکتی ہے جو ٹیلی کام کمپنی کے حقوق کی گرانٹ میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے۔
یعنی اگر کوئی آپ کے آبائی گھر پر ٹاور لگانا چاہتا ہے اور آپ اس کو روکتے ہیں تو پھر 5 کروڑ روپے جرمانہ لگے گا۔
یہ شقیں ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی گھروں/جائیداد پر ٹاور یا فائبر لگانے کی کوشش کا قانونی راستہ فراہم کرتی ہیں۔ اگر مالک انکار کرے یا عمل میں رکاوٹ ڈالے تو جرمانے یا حکومت کے ذریعے حل کا امکان ہے۔ یعنی حکومت خود ہی وہ زمین ٹیلی کام کمپنی کو زبردستی دے دے گی ۔
اس پر بعض صارفین نے سوال بھی اُٹھائے ہیں-
ایک صارف نے لکھا کہ:
ٹیلی کام کا ایک یکطرفہ اور ظالمانہ قانون پاس کروانے کی کوشش کرنے کا ذمہ دار کون؟
کیا وزیراعظم کی مرضی سے یہ قانونی مسودہ تیار کیا گیا یا وزیراعظم کی منشا کے بغیر؟
اگر وزیراعظم کو اس قانون کے منفی اثرات سے گاہ نہیں کیا گیا تھا تو پھر گورننس کا اندازہ آپ خود لگائیں کہ اب تک وزیراعظم نے اس پر کیا ایکشن لیا؟
کسی وزیر اور سیکریٹری کے خلاف کوئی ایکشن ہوا؟
ایکشن نہ لینے کے دو ہی مطلب لیے جا سکتے ہیں کہ یا وزیراعظم اس پراسس میں شامل تھے یا ان کی گورننس بہت کمزور ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر کے ایک نمائندے وہاج سراج نے لکھا کہ ‘نئے ٹیلی کام قانون میں کسی گھر کی چھت پر ٹاور لگانے کی اجازت کا دعویٰ حماقت ہے، گھریلو پراپر ٹی تو کمرشل کام کے لئے قانونی طور پر استعمال ہو ہی نہیں سکتی۔
اس قانون کے خلا ف شور ٹیکنیکل ناسمجھی کی وجہ سے ہے۔
کمرشل پراپرٹی پر اگر ٹاور لگے گا تو اونر کو اسکا مارکیٹ رینٹ ملے گا۔ اونر تو آج بھی اپنی پراپرٹی پر ٹاور لگانے کیلئے سفارشیں کراوتے ہیں۔
اگر کمرشل پراپرٹی اونر اور آپریٹر میں کوئی تنازع ہو گا تو وہ عدالت کی بجائے ٹریبیونل میں جائے گا۔ ملک میں ایسے درجنوں سپیشل ٹریبیونلز دوسرے مختلف سیکٹرز کیلئے کام کر رہے ہیں۔
زیرو فیس اور لازمی اجازت صرف حکومتی اداروں اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائیٹیز کیلئے ہے۔ یہ ادارے آپریٹرز کی اجازتوں کو سالوں التوا میں رکھتے ہیں، کئی گنا زیادہ فیس مانگتے ہیں، یا اجازت ہی نہیں دیتے یا صرف اپنی پسند کے آپریٹر لو اجازت دے کر اجارہ داری بنا دیتے ہیں، جسکی وجہ سے کسٹمرز کو اچھی سروس نہیں ملتی۔
بہت سارے ملکوں نے کئی سال پہلے اسطرح کے قوانین بنا دئیے تھے جبھی وہاں پر انٹرنیٹ بہت بہتر ہے۔
قانون انسانون کا بنایا ہوا ہے، کوئ حرفِ آخر نہیں ہے، پہلے کسی ایکسپرٹ سے سمجھ لیں اور پھر بے شک تنقید کریں۔’
اس مجوزہ قانون کی وجہ سے وفاقی وزیر کے ساتھ وفاقی سیکریٹری برائے آئی ٹی ضرار ہشام خان بھی تنقید کی زد میں ہیں۔
اُن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کے ملازم رہے ہیں اور ن لیگ کی حکومت نے ان کو کانٹریکٹ پر آئی ٹی کی وزارت کا سیکریٹری لگایا ہے۔

