جنازے میں تین بیٹے، علی خامنہ ای کے جانشین مجتبیٰ شریک نہ ہوئے
اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں مارے گئے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کے تین بیٹے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے-
ایران کے سرکاری میڈیا اور خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق علی خامنہ ای کے بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں شریک نہیں تھے۔
قبل ازیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے والد کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جس کی بعد میں تردید بھی کی گئی تھی-
مجتبیٰ علی خامنہ ای کے بارے میں امریکہ کے خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور اب بھی اُن کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں کا علاج جاری ہے-
تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔
خبر رساں اایجنسی ارنا کے مطابق تین الگ الگ نماز جنازہ ادا کی گئیں۔
سب سے پہلے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای،جبکہ اس کے بعد ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔
آخر میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

