عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کتنے کا لیٹر ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے نرخوں کے مطابق کم نہ کرنے اور فی لیٹر لیوی یا ٹیکسوں میں اضافے پر تنقید کی جا رہی ہے-
سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ قرار دیا ہے جبکہ معاشی امور کے ماہرین حکومت کے مالیاتی معاملات میں آئین اور قوانین پر عمل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں-
خیال رہے کہ مشرق وسطٰی میںکشیدگی کے باعث پاکستان میںپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںاضافے نے بڑے پیمانے پر مہنگائی کو جنم دیا ہے اور عام شہریوں کی قوت خرید گر گئی ہے-
معاشی امور کے تجزیہ کار شہباز رانا نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پیٹرول پر لیوی (levy) کو 80 روپے فی لیٹر کی بلند سطح پر برقرار رکھنے کے حکومتی اقدام کی مزید حمایت نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ لیوی کا نفاذ 18 فیصد جی ایس ٹی (GST) کے متبادل کے طور پر کیا گیا تھا تاکہ اس رقم کو ‘قابلِ تقسیم پول’ (divisible pool) سے باہر رکھا جا سکے اور اسے صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنا پڑے۔
شہباز رانا کے مطابق اگر 18 فیصد جی ایس ٹی کا اطلاق ہوتا تو آج پیٹرول پر لیوی کی شرح تقریباً 41 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی۔
ان کے مطابق اس طرح حکومت (رواں ہفتے کے اضافے سمیت) فی لیٹر 40 روپے اضافی وصول کر رہی ہے۔
شہباز رانا کا کہنا تھا کہ جی ایس ٹی کے مساوی شرح پر آج پیٹرول کی قیمت 270 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 293 روپے فی لیٹر ہو سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کی واضح منظوری کے بغیر زیادہ سے زیادہ بالواسطہ ٹیکس (indirect taxes) لگا کر عوام کو سزا دینا بند کرے؛ یہ اخراجات ان شعبوں میں کیے جا رہے ہیں جو 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں-
شہباز رانا نے لکھا ہے کہ آئینی ماہرین کو اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آیا قومی اسمبلی ٹیکس کی شرح بڑھانے کا اختیار بغیر کسی بالائی حد (upper limit) کے تعین کیے تفویض کر سکتی ہے یا نہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس یا محصولات اکھٹے کرنے والے محکمے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور حکومت عام شہریوں کو بجلی، گیس کے بلوں میں فکسڈ چارجز اور پیٹرول و ڈیزل پر لیوی عائد کر کے لوٹ رہی ہے-
متعدد صارفین کا خیال ہے کہ عالمی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جو بھی شرائط ہوں حکومت نے ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر عوام کی کمر دوہری کر دی ہے اور اب شاید اس کے ٹوٹنے کا وقت آ چکا ہے-

