’قوم کا یہ مطالبہ ضرور پورا ہونا چاہیے‘، خامنہ ای کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے والد اور پیشرو علی خامنہ کی موت کا بدلہ لینا ’قوم کا مطالبہ‘ ہے اور اسے ’ضرور پورا‘ کیا جانا چاہیے۔
مجتبیٰ خامنہ کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگر ایران نے انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تو اُن کا ملک فوری طور پر ایران پر ہزاروں میزائل داغے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے یہ بات اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک تحریری پیغام میں کہی۔
خامنہ ای نے یہ پیغام اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے بعد جاری کیا ہے۔
یاد رہے کہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اُس وقت مارے گئے تھے جب اُن کی رہائش گاہ اور دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے یغام میں کہا ہے ’ہم شہید رہنما اور ان دو جنگوں کے تمام شہدا کے خون کا بدلہ مجرم اور رسوا قاتلوں سے لینے کا عہد کرتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ اپنے والد کی ہلاکت کے بعد ایران کے رہبرِ اعلیٰ بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے جنازے میں شرکت نہیں کی تھی۔
یاد رہے کہ سنیچر کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر ایرانی حکومت دُنیا کے مختلف حصوں میں بارہا دہرائی گئی اس دھمکی پر عمل کرتی ہے کہ وہ امریکہ کے موجودہ صدر یعنی مجھے قتل کرے گی یا قتل کرنے کی کوشش کرے گی تو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب پہلے ہی ایک ہزار میزائل نشانے پر رکھے جا چکے ہیں اور ان کے فوراً بعد مزید ہزاروں میزائل بھی داغے جائیں گے۔‘