ایران پر امریکی حملوں کی تیسری لہر، 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک بیان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ نئے حملوں کا مقصد ’آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔‘
سینٹکام کے مطابق ’امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے داغے گئے ہتھیاروں‘ سے ایران کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’نشانہ بنائے گئے اہداف میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں، گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی سہولیات، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کے مقامات شامل تھے۔‘
سینٹکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران کیے گئے تین حملوں میں ایران کے 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں اُردن میں واقع امریکی ایئر بیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ایم کیو ڈرون ہینگر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک غیر قانونی راستے پر کئی بحری جہازوں کو اشتعال دلایا، لیکن ایرانی بحری افواج کے دو ٹوک ردِعمل نے اسے روک دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے اس ناکامی کی تلافی کی کوشش میں جنوبی ساحلوں پر واقع متعدد ساحلی اڈوں اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ٹاورز پر فضائی حملے کیے۔ ’جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا، اسے اپنی جارحیت کا فوری اور منہ توڑ جواب ملا۔‘