ناروے کو شکست، انگلینڈ کی جانب سے گول سے قبل گیند سپائڈر کیم سے ٹکرائی؟
فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل مقابلے مکمل ہو گئے ہیں اور چار ٹیمیں سیمی فائنل میںپہنچ گئی ہیں-
سنیچر کی رات تیسرے کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن نے سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کو ایک کے تین میں دو گول سے شکست دے دی-
چوتھے کوارٹر فائنل میں ناروے کی ٹیم کو انگلش ٹیم نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دی-
فرانس اور سپین کی ٹیمیںپہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں-
انگلینڈ اور ناروے کے درمیان میچ میں پہلا گول کھیل کے 36 ویں منٹ پر ہوا، جب ناروے کے اے شیلڈروپ نے گیند جال میں پہنچا دی۔
پہلے ہاف کے آخری لمحات میں انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم نے گول کر کے میچ برابر کر دیا. دوسرے ہاف کے آخر تک میچ ایک، ایک سے برابر رہا۔ تاہم نوے منٹ مکمل ہونے پر اضافی وقت کے تیسرے منٹ پر ایک بار پھر جوڈ بیلنگھم نے گول کر انگلینڈ کی فتح کو یقینی بنا دیا۔
انگلینڈ اور ناروے کے میچ میں گیند مبینہ طور پر سپائیڈر کیم سے ٹکرانے پر بھی بحث جاری ہے۔
انگلینڈ اور ناروے کے درمیان میچ ریفری کے فیصلوں سے متعلق تنازع سے خالی نہیں تھا۔ بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ بال ’سپائیڈر کیم‘ (Spidercam) کی کیبل سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں انگلینڈ نے سکور برابر کر دیا۔
انگلش ٹیم کے مداح اور ایکس صارفین اپنی ٹیم کی ستائش کر رہے ہیں- ایک صارف نے لکھا کہ ’انگلینڈ کو مبارکباد۔ بیلنگھم نے شاندار کھیل پیش کیا۔‘
ناروے کے بعض صارفین یہ گلہ بھی کرتے دکھائی دیے کہ ناروے کو میچ کے دوران ایک واضح پینلٹی نہیں دی گئی۔
سوشل میڈیا پر ناروے کے حامی فٹبال شائقین کہتے ہیں کہ گیند واضح طور پر سپائیڈر کیم سے ٹکرائی، تاہم انگلینڈ کے حامیوں کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔
فیفا نے بھی اس پر وضاحت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ گراؤنڈ میں موجود سینسر نے بال کے زاویے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی۔ لہٰذا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گیند کھیل کے میدان کے اوپر موجود تار سے ٹکرائی ہو اور اس کے نتیجے میں اس کا رخ تبدیل ہوا ہو۔

