اہم خبریں

’سرفروشی کی تمنا‘ اور مولانا فضل الرحمان کی تقریر، علی ارقم کا کالم

جولائی 14, 2026

’سرفروشی کی تمنا‘ اور مولانا فضل الرحمان کی تقریر، علی ارقم کا کالم

ماریہ رشید کی کتاب ’سرفروشی کی تمنا‘ (Dying To Serve) اس وقت زیر بحث مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے مندرجات کے حوالے سے اہم ہے-

کتاب سیکیورٹی اداروں کے افراد کی شہادتوں اور قربانیوں کے بیانیے کے ذریعے عسکری اداروں کے عوام پر اثر و رسوخ پر روشنی ڈالتی ہے-

وہ باتیں جو عام طور پر سیاسی یا معاشی تجزیوں میں نظر انداز کردی جاتی ہیں۔

ماریہ رشید نے روایتی طور پر ان موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں سے ہٹ کر، جن میں زیادہ تر توجہ جرنیلوں کی پالیسیوں، جنگی حکمتِ عملیوں یا جیو پولیٹکس پر ہوتی ہے، ایک مختلف موضوع چنا ہے۔

انہوں نے ان سپاہیوں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں لکھا ہے، جو اس پورے بندوبست، جنگ کی معیشت اور قربانی کے بیانیے کی ریسیونگ سائیڈ پر ہیں۔

اس کیلئے انہوں نے پنجاب کے ضلع چکوال کا رخ کیا جو انگریزوں کے دور سے ہی برطانوی فوج کیلئے ریکروٹمنٹ مرکز رہا ہے اور جہاں فوج کی ملازمت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ بقا اور وقار کا واحد راستہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے

اس کتاب کا سب سے گہرا نکتہ یہ ہے کہ ریاستیں اپنے شہریوں پر صرف بندوق کے زور پر یا قانون کے خوف سے حکمرانی نہیں کرتیں، بلکہ وہ ان کے داخلی احساسات، محبتوں، عقیدتوں اور دکھوں پر قابو پا کر اپنے اقتدار کی اخلاقی بنیادیں تیار کرتی ہیں

اس عمل کو ماریہ رشید نے جذبات کی سیاست کہا ہے، جس کے تحت سپاہی کی موت کو ایک عام انسانی جان کے زیاں کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے عقیدت اور شہادت کے ایسے لبادے میں لپیٹ دیا جاتا ہے کہ پسماندگان اپنے ذاتی اور ناقابلِ تلافی نقصان کو بھول کر فخر کی ایک ایسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ناگزیر بنا دی جاتی ہے

اس طرح موت کا غم جو کسی بھی انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ سکتا ہے اور اس میں عسکری نظام کے خلاف غصہ یا احتجاج پیدا کر سکتا ہے، اسے بڑی خوبصورتی سے قابو کر کے ریاست کے حق میں ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

اس پورے نظام کو چلانے کیلئے عسکری ادارے جنازوں اور یومِ دفاع جیسی عوامی تقاریب کو ایک منظم تھیٹر یا ریاستی تماشے میں تبدیل کر دیتے ہیں جہاں صدمے کے اظہار کو بھی فوج کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جاتا ہے

دیہی معاشرے کی عورتیں جن کے پاس صدیوں سے غم کا اظہار کرنے کیلئے روایتی بین، گیت یا اونچی آواز میں نوحہ خوانی کے طریقے موجود تھے، ان کو اس نئے ماحول میں خاموش رہنے یا صرف دھیمی آواز میں آنسو بہانے کی تلقین کی جاتی ہے کیونکہ چیخ پکار اور بے قابو جذبات اس آہنی اور ڈسپلن یافتہ تصویر کو خراب کرتے ہیں جو فوج اپنی بہادری اور موت کا سامنا کرنے کی مردانہ صلاحیت کے حوالے سے قائم کرنا چاہتی ہے-

یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک ماں کے تڑپتے ہوئے دل کو بھی حب الوطنی کے ترازو میں تول کر اس کی تسکین کی جاتی ہے تاکہ قربانی کا عمل بنا کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے-

لیکن اس تمام نظریاتی جادو اور تقدس کے پردے کے پیچھے ایک انتہائی کٹھن اور ننگا معاشی سچ بھی پوشیدہ ہے-

چکوال جیسے بارانی علاقوں میں جہاں نہ تو زراعت کے لیے کافی پانی ہے اور نہ ہی صنعتیں موجود ہیں، وہاں کے غریب اور متوسط خاندانوں کے پاس معاشی تحفظ اور سماجی ترقی کا کوئی دوسرا متبادل راستہ موجود ہی نہیں-

فوج میں شمولیت ان کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتیں جیسے کہ صحت کی سہولیات، بچوں کی تعلیم، پنشن اور زمین حاصل کرنے کا واحد زینہ ہے-

اس لیے سپاہی کی موت کے بعد ملنے والا مالی معاوضہ، اگرچہ اس جان کا متبادل نہیں ہو سکتا، لیکن پسماندگان کی معاشی بقا کا ضامن ضرور بن جاتا ہے-

ماریہ رشید اس تضاد کو ابھارتی ہیں کہ یہ خاندان اس معاشی ضرورت اور سودے بازی سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی ان کے اندر ایک شدید اخلاقی بوجھ بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے گویا اپنے بیٹے کی جان کے بدلے میں رقم وصول کی ہے-

اس اندرونی بوجھ اور جرم کے احساس سے بچنے کے لیے وہ شہادت کے نظریے کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیتے ہیں تاکہ وہ خود کو یہ یقین دلا سکیں کہ ان کا بیٹا معاشی مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا اور ملک کی راہ میں قربان ہوا ہے-

مزید برآں، یہ کتاب ان فوجیوں کی حالتِ زار پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو جنگوں یا عسکری کارروائیوں میں معذور ہو جاتے ہیں-

وہ سپاہی جو کل تک بہادری کے عسکری معیارات کا حصہ تھے، اب جسمانی طور پر نامکمل ہونے کی وجہ سے خود کو اس نظام کے پیرفریز پر پاتے ہیں اور ان کے حصے میں وہ احترام یا وقار نہیں آتا جو مرنے والے شہداء کو ملتا ہے-

ماریہ رشید کا تجزیہ اس پورے تضاد کو بے نقاب کرتا ہے کہ کس طرح قربانی کی سیاست غریبوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتی ہے اور ان کے سچے جذبوں اور صدموں کو عسکری بالادستی کے تسلسل کے لیے استعمال کر کے ان سے ان کے دکھ کی حقیقی زبان بھی چھین لیتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی تقریر پر اعتراضات کی نوعیت سے قطع نظر کہ ان کے الفاظ کو کیا معنی اور مفہوم پہنائے جارہے ہیں، سوال یہ ہے کہ زیارت میں شہید ہونے والے باوردی جوانوں کی قربانی و شہادت کیوں اتنی ارزاں ہے کہ اغوا سے لیکر شہادت اور احتجاج تک سارا معاملہ ریاستی بے حسی کا آئینہ دار ہے۔

کیا یہ شہداء کی توہین نہیں؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے