اہم خبریں

دنیا کے سب سے نظرانداز روہنگیا کمیونٹی کے 530 پناہ گزینوں کی دو کشتیاں‌ لاپتہ

جولائی 17, 2026

دنیا کے سب سے نظرانداز روہنگیا کمیونٹی کے 530 پناہ گزینوں کی دو کشتیاں‌ لاپتہ

جون کے اواخر میں میانمار کی ریاست رخائن سے پناہ کے متلاشی افراد کو لے کر روانہ ہونے والی دو کشتیوں کے سمندر میں لاپتہ ہو جانے کے بعد خدشہ ہے کہ 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزین ہلاک ہو گئے۔

اقوام متحدہ اور انسانی بہبود کے اداروں کی رپورٹ کے مطابق دو کشتیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 530 افراد سوار تھے جو تین ہفتے بعد بھی اپنی منزل پر نہ پہنچ سکیں جس سے ان کشتیوں کے الٹ جانے کا قوی امکان موجود ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ اپریل کے وسط میں پیش آنے والے ایک بڑے سانحے کے بعد ہوا ہے، جب بنگلہ دیش کے علاقے ٹیکناف سے روانہ ہونے والا گنجائش سے زیادہ بھرا ہوا ایک ٹرالر انڈمان کے سمندر میں الٹ گیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 250 روہنگیا پناہ گزین اور بنگلہ دیشی شہری لاپتہ ہو گئے تھے۔

یہ واقعات ایک ایسے وسیع تر بحران کا حصہ ہیں جس نے ہزاروں لوگوں کو میانمار اور بنگلہ دیش میں تشدد اور انتہائی خستہ حال حراستی کیمپوں سے فرار ہو کر ملائیشیا پہنچنے کی کوشش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

میانمار کی ریاست رخائن کئی برسوں سے جنگ کی حالت میں ہے۔ باغیوں نے میانمار کی فوج کو زیادہ تر علاقوں سے باہر نکال دیا ہے اور ریاستی دارالحکومت سٹوے میں فوج کے آخری مضبوط ٹھکانے کا محاصرہ کر رکھا ہے، جہاں اب صرف فضائی یا سمندری راستے سے پہنچا جا سکتا ہے۔
فوج نے تقریباً تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیے ہیں۔

روہنگیا کے حالات بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم اراکان پروجیکٹ کی سربراہ کرس لیوا کہتی ہیں‌کہ مختلف ذرائع اور معلومات کو ملا کر انھیں یقین ہے کہ دونوں کشتیاں واقعی 29 جون کو روانہ ہوئی تھیں۔

کرس لیوا کا کہنا ہے کہ یہ کشتیاں میانمار کے جنوبی ساحل کی طرف جا رہی تھیں، جہاں مسافروں کو اتارا جانا تھا۔ وہاں سے انھیں سڑک کے ذریعے، جنگلوں میں قائم عارضی اور غیر منظم کیمپوں سے گزارتے ہوئے، تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا کی سرحد تک لے جایا جانا تھا۔

عام طور پر ان کے خاندان ایک ہفتے یا دس دن کے اندر ان کی خیریت کی خبر کی توقع کرتے ہیں۔ لیکن تقریباً تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی انھیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

بنگلہ دیشی حکام کو ایک خاتون کی لاش ملی ہے جو سمندر سے بہہ کر ساحل تک پہنچی تھی۔ ادھر ایراوادی ڈیلٹا اور مون ریاست کے ساحل کے درمیان سمندر میں ماہی گیری کرنے والوں کو نو دن بعد مزید کئی لاشیں بھی ملیں۔

کرس لیوا کا خیال ہے کہ یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں کشتیاں الٹ گئی تھیں۔

بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں قائم گنجان آباد کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا رہتے ہیں، جہاں امداد کم ہوتی جا رہی ہے، روزگار کے مواقع تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، اور انھیں کیمپوں سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے