اہم خبریں

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان 4 ارب 70 کروڑ ڈالر کے نئے پُل کے ٹول ٹیکس پر پھڈا

جولائی 17, 2026

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان 4 ارب 70 کروڑ ڈالر کے نئے پُل کے ٹول ٹیکس پر پھڈا

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہاہے کہ اُن کا ملک ونڈسر، اونٹاریو، اور ڈیٹرائٹ، مشی گن کو جوڑنے والے پل سے ہونے والی ٹول آمدنی کا امریکہ سے اشتراک اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک کہ کینیڈا اپنی ابتدائی سرمایہ کاری پوری نہیں کر لیتا۔

چار ارب 70 کروڑ ڈالر سے بنائے جانے والے اس نئے پُل پر لگ بھگ ساری سرمایہ کاری کینیڈا نے کر رکھی ہے-

تاخیر سے افتتاح کے باعث امریکہ اور کینیڈا دونوں کے لیے تناؤ اور اقتصادی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جب کہ دونوں پڑوسی ایک تازہ ترین تجارتی معاہدے پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کچھ امریکی سیاست دان اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ کینیڈا اپنے ملک میں لگی جنگل کی آگ سے درست طور پر نہیں نمٹ رہا۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے 27 جولائی کو کھلنے والے اس پل کے حوالے سے امریکہ کے لیے "بہت اچھا معاہدہ” طے کر لیا ہے۔

کینیڈا میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیراعظم کارنی کو امریکہ کے سامنے جھک جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر اُس وقت جب امریکی حکام نے کہا کہ وہ اس پُل سے "بغیر کسی آمدنی” کی صورتحال سے نکل کر اب نمایاں آمدنی حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔

تاہم جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران کینیڈین وزیراعظم کارنی نے کہا کہ گورڈی ہو (Gordie Howe) پل کے سلسلے میں امریکی ریاست مشی گن کے ساتھ 2012 میں طے پانے والا بنیادی معاہدہ بدستور برقرار ہے؛ اس معاہدے کے تحت کینیڈا نے پل کی تعمیر کے اخراجات ابتدائی طور پر خود برداشت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے کی رو سے، کینیڈا اس وقت تک ٹول (toll) سے حاصل ہونے والا تمام منافع وصول کرنے کا حقدار تھا جب تک کہ وہ پل میں کی گئی اپنی سرمایہ کاری کے اخراجات پورے نہ کر لے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے